Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’معاہدہ مکہ‘ کا مقصد خطے میں امن، ترقی اور خوش حالی کو فروغ دینا ہے: شہباز شریف

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’معاہدہ مکہ کا مقصد کسی کے خلاف جارحیت نہیں بلکہ اس کا مقصد خطے میں امن، ترقی اور خوش حالی کو فروغ دینا ہے۔‘ 
پیر کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ سال پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ ہوا تھا جبکہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دہائیوں سے تعاون موجود تھا۔‘
’پاکستان کے عوام اور افواج کو اللہ نے عزت بخشنا تھی کہ سعودی مسلح افواج اور سعودی بھائیوں کے ساتھ مل کر دنیا کے مقدس ترین مقام مکہ اور مدینہ کی حفاظت کی ذمہ داری نبھاتے رہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’سنہ 2025 میں سعودی عرب اور پاکستان نے پہلے سے موجود اس تعاون کو باضابطہ طور پر ایک معاہدے کی شکل دی اور اس پر دستخط کیے۔‘
شہباز شریف نے کہا کہ ’جمعے کو ’معاہدہ مکہ‘ اِسی معاہدے کا تسلسل تھا جس پر سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے دستخط کیے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ خطے میں امن، ترقی اور خوش حالی کو فروغ دیا جائے۔‘
اُن کا اس حوالے سے یہ بھی کہنا تھا کہ ’یہ معاہدہ نہ صرف اِن تینوں ممالک کے لیے بلکہ پوری مسلم امہ کے لیے بھی باعث تقویت ہے۔‘ 
وزیراعظم نے کہا کہ ’معاہدہ مکہ‘ کوئی آج کی بات نہیں بلکہ اس پر کئی برسوں سے کاوشیں جاری تھیں اور جمعے کو یہ پایۂ تکمیل تک پہنچا۔‘ 
’معاہدہ مکہ‘ دفاعی نوعیت کا ہے، کسی ملک کے خلاف نہیں: اسحاق ڈار
اس سے قبل پیر کو ہی وزارتِ خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کے حوالے سے قوم کے نام اپنا پیغام جاری کیا تھا۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’معاہدہ مکہ‘ پر دستخط پاکستان کے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ دیرینہ تزویراتی تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ہے۔‘
’یہ معاہدہ ہمارے خطے کو درپیش امن و سلامتی کے بدلتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون کو مضبوط بنانے کے ہمارے مشترکہ عزم کا مظہر ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’میں اس امر کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں کہ ’معاہدہ مکہ‘ دفاعی نوعیت کا ہے اور یہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے۔‘
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’اس معاہدے کا مقصد بیرونی جارحیت کے خلاف اجتماعی قوت کو مضبوط بنانا اور اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور عوام کے دفاع کی صلاحیت کو مزید مستحکم کرنا ہے۔‘
’معاہدہ مکہ کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تمام تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت انفرادی اور اجتماعی دفاع کے فطری حق سے ہم آہنگ ہے۔‘
اسحاق ڈار نے کہا کہ ’پاکستان تنازعات کے پُرامن حل، خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کے احترام اور خطے میں امن، استحکام اور خوش حالی کے فروغ کے لیے بدستور پُرعزم ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’معاہدہ مکہ تصادم کا ذریعہ نہیں بلکہ طاقت، یکجہتی اور باہمی احترام کے ذریعے امن کے لیے ہمارے اجتماعی عزم کا اظہار ہے۔‘
’وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کے دفترِ خارجہ نے تاریخی معاہدہ مکہ کو عملی جامہ پہنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔‘
وزیر خارجہ نے کہا کہ ’پاکستان کے قومی مفادات کے تحفظ اور سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاکستانی قیادت کا ویژن قابل تحسین ہے۔‘

شیئر: