Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شام: معرول صدر بشار الاسد کو ہلاکتوں اور تشدد کے مقدمے میں سزائے موت

بشار الاسد کے دور کےایک سکیورٹی عہدیدار رہنے والے عاطف نجیب کو بھی سزائے موت سنائی گئی۔ (فوٹو: اے ایف پی)
شام کی ایک عدالت نے منگل کے روز معزول رہنما بشار الاسد کو ان کی غیر موجودگی میں چلائے جانے والے مقدمے کے بعد سزائے موت سنائی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عدالت نے انہیں ملک کی 14 سالہ خانہ جنگی کے دوران ہلاکتوں، تشدد اور من مانی گرفتاریوں سمیت مختلف جرائم کا مجرم قرار دیا۔
یہ بشار الاسد کے خلاف پہلی سزا ہے۔ انہیں دسمبر 2024 میں باغیوں کی ایک کارروائی کے نتیجے میں اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا، جس کے بعد شام پر ان کے خاندان کی کئی دہائیوں پر محیط سخت گیر حکمرانی اور وہ خونریز خانہ جنگی ختم ہوئی جس میں لاکھوں شامی شہری ہلاک ہوئے۔
تقریباً دو سال قبل جب باغی جنگجو دمشق کے قریب پہنچے تو بشار الاسد دارالحکومت سے فرار ہو گئے تھے، اور وہ اس وقت ماسکو میں موجود ہیں۔
منگل کے روز سابق حکومتی عہدیداروں کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران ایک جج نے بشار الاسد کو ’ایک سے زیادہ افراد اور بچوں کے پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت اور جان بوجھ کر قتل، تشدد، من مانی گرفتاری اور انسانیت کے خلاف جرائم‘ کے الزامات میں سزائے موت سنائی۔
بشار الاسد کے دور کےایک سکیورٹی عہدیدار رہنے والے عاطف نجیب کو بھی سزائے موت سنائی گئی۔
1965 میں پیدا ہونے والے بشار الاسد 2000 میں اپنے والد حافظ الاسد کی وفات کے بعد صدر بنے۔ انہوں نے خاندان کی حکمرانی برقرار رکھی اور سنی مسلمانوں کی اکثریت والے ملک شام میں اپنے علوی فرقے کی بالادستی قائم رکھی۔ ان کے دور میں شام ایران کا اتحادی رہا اور اسرائیل اور امریکہ کا مخالف سمجھا جاتا رہا۔
ابتدائی برسوں میں عراق جنگ اور لبنان کے بحران سے متاثر ہونے والی اسد کی حکمرانی بالآخر خانہ جنگی سے متعین ہوئی۔ یہ خانہ جنگی 2011 کی عرب بہار سے شروع ہوئی، جب جمہوریت کا مطالبہ کرنے والے شامی شہری سڑکوں پر نکلے، لیکن انہیں طاقت کے وحشیانہ استعمال کا سامنا کرنا پڑا۔

شیئر: