Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کے قیام کے دو سال، ہوائی اڈوں میں کیا کچھ تبدیل ہوا؟

پاکستان میں ایوی ایشن سیکٹر کی بحالی اور انتظامی ڈھانچے میں بہتری لانے کا دعویٰ اس وقت کیا گیا جب ٹھیک دو سال قبل، اگست 2024 میں پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کا قیام عمل میں لایا گیا۔
 اس نئے ادارے کا بنیادی مقصد ملک کے تمام ہوائی اڈوں کے انتظام کو عالمی معیار کے مطابق، انفراسٹرکچر کی مرمت و بحالی، ٹیکنالوجی کا جدید استعمال اور مسافروں کے سفری تجربے کو خوشگوار بنانا تھا۔ لیکن قیام کے دو سال مکمل ہونے پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اربوں روپے کے ان منصوبوں کا اثر واقعی زمین پر عام مسافر کو محسوس ہو رہا ہے یا یہ پیش رفت محض کاغذی دعوؤں تک محدود ہے؟
ترقیاتی بجٹ میں اضافہ اور پائپ لائن میں موجود میگا پروجیکٹس
ان سوالات اور عوامی تحفظات کے جواب میں پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے ترجمان سیف اللہ کا کہنا ہے کہ ادارہ ملک بھر کے 26 فعال ایئرپورٹس کا انتظام انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں سنبھال رہا ہے جہاں سے سالانہ دو کروڑ 20 لاکھ سے زائد مسافر گزرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران ادارے نے مالی اور انتظامی سطح پر کئی اہم سنگ میل عبور کیے ہیں جن میں 55 ارب روپے کی لاگت سے تیار ہونے والا نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی شامل ہے۔ اس ایئرپورٹ کو مکمل طور پر فعال بنا دیا گیا ہے جو نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے خطے کے لیے معاشی اور تجارتی ترقی کا ضامن ثابت ہوگا۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ ادارے نے صرف بڑے شہروں پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے دور دراز علاقوں کو بھی قومی ایوی ایشن نیٹ ورک سے جوڑا ہے۔ تربت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی اپ گریڈیشن، ڈیرہ اسماعیل خان اور پاراچنار ایئرپورٹس کی ایئر سائیڈ بحالی اور مریدکے میں جنرل ایوی ایشن ایروڈروم کا پہلا فیز اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
سیف اللہ نے اس بات پر زور دیا کہ تکنیکی محاذ پر کراچی ایئرپورٹ پر جدید ڈیٹا سینٹر قائم کیا گیا ہے جبکہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ملک کا پہلا ’کیش لیس‘ ایئرپورٹ بنا دیا گیا ہے جہاں تمام تر لین دین ڈیجیٹل ذرائع سے ہو رہا ہے۔
مستقبل کے حوالے سے ترجمان نے بتایا کہ مالی سال 2026-27 کے لیے ادارے کے ترقیاتی بجٹ کو 110 فیصد بڑھا کر 69.47 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ مسافروں کی سہولت کے لیے 12 ارب روپے کی لاگت سے اسلام آباد، کراچی اور لاہور پر ’ای گیٹس (E-Gates) اور آٹومیٹڈ بارڈر کنٹرول سسٹم جبکہ 30 ارب روپے کے جدید سکیورٹی سکریننگ سسٹمز لگانے کا کام پائپ لائن میں ہے جس کی مکمل تنصیب سے امیگریشن اور سکیورٹی چیکنگ کے وقت میں ڈرامائی کمی آئے گی۔

مسافر پاکستان کے ایئرپورٹس پر جدید سہولتوں کا مطالبہ کرتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)


اوورسیز پاکستانیوں کے تلخ تجربات
اگرچہ حکام اور سرکاری دستاویزات میں ایئرپورٹس کی تصویر کافی روشن دکھائی جاتی ہے لیکن جب غیر ملکی ایئرپورٹس کے عادی اوورسیز پاکستانی وطن واپس لوٹتے ہیں تو انہیں ایک مختلف صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سپین سے پاکستان پہنچنے والے میرپور کے رہائشی ساجد صدیق نے آنکھوں دیکھا حال اور مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یورپ یا خلیجی ممالک کے ایئرپورٹس پر اترتے ہی مسافر کو ایک نظم و ضبط اور جدید ٹیکنالوجی کا احساس ہوتا ہے۔ ’جب ہم سپین یا دیگر یورپی شہروں سے سفر کرتے ہیں تو آٹومیٹک پروسیس سسٹمز نظر آتے ہیں۔ لیکن پاکستان کے ایئرپورٹس پر اترتے ہی سب سے پہلا امتحان امیگریشن کی طویل قطاریں ہوتی ہیں۔ گھنٹوں لائنوں میں کھڑا رہنا پڑتا ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ رش کے اوقات میں بھی امیگریشن کے آدھے سے زیادہ کاؤنٹرز پر عملہ ہی موجود نہیں ہوتا۔ بزرگوں اور بچوں کے لیے یہ انتظار انتہائی کوفت کا باعث بنتا ہے۔
اسی طرح انقرہ سے پاکستان آنے والے ایک پاکستانی حمید اللہ نے ایئرپورٹ کی اندرونی سہولیات اور سروسز پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
’جب ہم کراچی، لاہور یا اسلام آباد اترتے ہیں تو ای گیٹس کا صرف نام سننے کو ملتا ہے اور وہی پرانا کاغذی نظام ہی قائم ہے۔ اس کے علاوہ سامان کی وصولی کے لیے بیلٹ پر گھنٹوں کی تاخیر سے سامان آنا اور ایئرپورٹ کے اندر سامان لے جانے والی ٹرولیوں کا نہ ملنا یا ان کے بدلے پیسے مانگنا ایک ایسا معاملہ ہے جو کسی بھی بین الاقوامی ایئرپورٹ پر دیکھنے کو نہیں ملتا۔‘

ایئرپورٹس پر مسافروں کو ٹرولی کے حصول کی شکایت بھی ہوتی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

کیا واقعی کراچی، لاہور اور اسلام آباد ایئرپورٹس عالمی معیار کے قریب ہیں؟
پاکستان کے تین بڑے میٹروپولیٹن شہر کراچی، لاہور اور اسلام آباد ملک کے ایوی ایشن ہب کی حیثیت رکھتے ہیں اور بین الاقوامی فلائٹس کا تقریباً 70 سے 80 فیصد سے زائد ٹریفک انہی تینوں ایئرپورٹس پر ہیں۔ لیکن ان تینوں ایئرپورٹس پر مسافروں کو روزمرہ کی بنیاد پر سنگین انتظامی خامیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اگر کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی بات کی جائے تو کراچی کا مرکزی رن وے 10 ارب روپے کی خطیر رقم سے ازسرِ نو تعمیر تو کر دیا گیا ہے جس سے ایئرلائنز کی پروازوں کی لینڈنگ آسان ہوئی ہے لیکن ایئرپورٹ سے آئے روز کوئی نہ کوئی ویڈیو مسافروں کی طرف سے سامنے آتی ہیں جہاں ٹرولی کے حصول سے لے کر واش رومز کی ابتر حالت اور ایئرپورٹ پر امیگریشن عملے کی کمی کی شکایت کی جارہی ہوتی ہے۔
 اسی طرح علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل کی توسیع کے لیے 43 ارب روپے سے زائد کا پروجیکٹ زیرِ تعمیر ہے اور آئندہ کے لیے مزید سو ارب سے زائد کی منصوبہ بندی ہے لیکن موجودہ حالات میں یہ ایئرپورٹ بدانتظامی کا شکار رہتا ہے۔ پروازوں کے رش کے ٹائم پر مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘
اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اگرچہ اسے ملک کا جدید ترین اور ’کیش لیس‘ ایئرپورٹ قرار دیا جاتا ہے لیکن یہاں بھی مسافروں کی بنیادی شکایت وہی پرانی ہے یعنی ایئرپورٹ کے اندر مہنگا کھانا اور ڈرنکس، امیگریشن کی سست روی اور پروازوں کی نقل و حرکت کی غیر شفاف معلومات۔
ایوی ایشن امور کے ماہر اور سینئر صحافی طارق ابوالحسن کے مطابق صرف اربوں روپے کا بجٹ مختص کر دینا یا نئے منصوبوں کے اعلانات کر دینا اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ ایئرپورٹ کا معیار بہتر ہو گیا ہے۔
’پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کو قائم ہوئے دو سال ہو چکے ہیں لیکن ادارے کا سارا زور صرف انفراسٹرکچر کے گہرے کاموں اور بجٹ بتانے پر ہے۔ اصل ایوی ایشن ریفارم (اصلاحات) وہ ہوتی ہیں جن کا اثر مسافر کی جیب اور اس کے سفری وقت پر پڑے۔ دنیا کے ایئرپورٹس ٹیکنالوجی کے ذریعے مسافر کا ’پروسیسنگ ٹائم‘ کم سے کم کر رہے ہیں جبکہ ہمارے یہاں مسافر کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے مرکزی ایئرپورٹس پر بھی بنیادی سروسز جیسے ٹرولی، صفائی، امیگریشن کی لمبی قطاریں سمیت دیگر مسائل کا سامنا کررہے ہیں۔‘

اسلام آباد ایئرپورٹ پر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا ر ہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

 ایوی ایشن امور کے ایک اور سینیئر صحافی راجہ کامران کے مطابق پاکستان کا ایوی ایشن ماڈل جب تک بیوروکریسی کے رواں دواں روایتی اثرات سے باہر نہیں نکلتا، تب تک یہ عالمی معیار کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
راجہ کامران نے کہا کہ خلیجی ممالک جیسے جدہ، ریاض دبئی، یا استنبول کے ایئرپورٹس اس لیے کامیاب اور جدید ہیں کیونکہ وہاں ایوی ایشن مینجمنٹ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کر کے جدید خودکار ٹیکنالوجی جیسے ای گیٹس، فیشل ریکگنیشن (چہرے سے شناخت) اور آٹو بیگیج ہینڈلنگ کو عملی طور پر نافذ کیا گیا ہے۔
’ہمارے ہاں ای گیٹس کا ذکر پچھلے کئی سالوں سے پائپ لائن میں ہے، کی گرد میں چھپا ہوا ہے۔ اوورسیز پاکستانی جب باہر سے آتے ہیں تو وہ انہی جدید ایئرپورٹس کو دیکھ کر آتے ہیں، اس لیے یہاں کا پرانا طرز عمل انہیں سخت ناگوار گزرتا ہے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ زبانی جمع خرچ سے نکل کر اسلام آباد، کراچی اور لاہور پر ای گیٹس اور فاسٹ ٹریک امیگریشن کو فوری بنیادوں پر عمل میں لائے۔‘

شیئر: