’خودکشی نہیں قتل‘، میر رضا کیس میں نئے انکشافات، سندھ حکومت کا عدالتی کمیشن بنانے کا اعلان
’خودکشی نہیں قتل‘، میر رضا کیس میں نئے انکشافات، سندھ حکومت کا عدالتی کمیشن بنانے کا اعلان
پیر 10 اگست 2026 11:54
زین علی -اردو نیوز، کراچی
ابتدائی تحقیقات کے بعد پولیس نے واقعے کو خودکشی قرار دیا تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
سندھ حکومت نے 25 سالہ تاجر اور آئی بی اے کے سابق طالب علم میر رضا علی کی پراسرار ہلاکت کے معاملے پر عدالتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ اہم پیش رفت صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی جانب سے مقتول میر رضا کے گھر جا کر ان کے والد سے ملاقات اور تعزیت کے بعد سامنے آئی ہے۔
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں بھی سامنے آیا ہے جب شہر بھر میں سول سوسائٹی اور نوجوانوں کا شدید احتجاج جاری ہے اور دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ نے پولیس کے ابتدائی خودکشی کے دعوؤں کو یکسر رد کرتے ہوئے ثابت کر دیا ہے کہ رضا علی کو گولی مارنے سے قبل بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعہ شامل کر لی گئی ہے۔
مقتول کے والد سے ملاقات کے دوران صوبائی وزیر داخلہ اور میئر کراچی نے اہل خانہ کو انصاف اور شفاف تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے۔
اس موقع پر وزیر داخلہ نے بتایا کہ کیس کی ازسرنو تفتیش کے لیے نئی اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے جبکہ ابتدائی تفتیش میں غفلت برتنے، شواہد کو نظرانداز کرنے میں ملوث پولیس اہلکاروں اور افسران کے خلاف بھی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
مقتول کے اہل خانہ کے وکیل جبران ناصر نے میڈیکل رپورٹ کے نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے اردو نیوز کو بتایا کہ دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ نے پولیس کی تمام من گھڑت کہانیوں کا ڈراپ سین کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل بورڈ کے نتائج نے یہ بالکل واضح کر دیا ہے کہ یہ خودکشی کا واقعہ نہیں بلکہ سفاکانہ قتل ہے۔
میر رضا علی 28 جولائی کی رات گھر سے نکلنے کے بعد واپس نہیں آئے تھے (فوٹو: انسٹاگرام، ویفلیکس)
رضا کی پیٹھ میں گولی ماری گئی تھی اور ان کے چہرے و سر پر تشدد کے شدید نشانات موجود تھے، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہیں پہلے شدید زدوکوب کیا گیا اور پھر بے دردی سے قتل کیا گیا۔
جبران ناصر نے پولیس کی ابتدائی تفتیش پر شدید تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ’کیس کو صرف حادثاتی زاویے سے دیکھنے کے بجائے اس میں ملوث تمام بااثر کرداروں اور شواہد کو مٹانے کی کوشش کرنے والوں کو بھی شامل تفتیش کیا جائے۔‘
سڑکوں سے لے کر سوشل میڈیا تک غصے کی لہر
میر رضا علی کی پراسرار ہلاکت کے بعد سے ہی کراچی کی سڑکوں پر نوجوانوں، طلبہ، تاجروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کا احتجاج شدت اختیار کر چکا ہے۔
کراچی پریس کلب، بہادرآباد چار مینار چورنگی اور شاہراہ فیصل پر ہونے والے مظاہروں میں شرکا نے ’جسٹس فار میر رضا‘ کے بینرز اٹھا کر پولیس اور انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز خصوصاً ایکس، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر #JusticeForMirRazaAli کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے جہاں ہزاروں صارفین نہ صرف واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں بلکہ ابتدائی تفتیش میں پولیس کی روایتی غفلت اور نااہلی پر بھی شدید تنقید کر رہے ہیں۔
رضا علی کی لاش چند روز قبل گلستان جوہر سے ملی تھی (فوٹو: فری پک)
دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کیا سامنے آیا؟
قبر کشائی کے بعد آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ کی جانب سے تیار کی گئی رپورٹ نے اس کیس کا رخ مکمل طور پر موڑ دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مقتول کو گولی سامنے کے بجائے پیٹھ کے بالائی حصے پر ماری گئی تھی جو خودکشی کے تمام امکانات کو غلط ثابت کر دیتی ہے۔
اس کے علاوہ میر رضا علی کی ناک اور سر کی ہڈیاں بھی ٹوٹی ہوئی پائی گئیں جبکہ چہرے اور سر پر چوٹ کے نشانات موجود تھے، جس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ موت گولی لگنے اور شدید تشدد کے باعث زیادہ خون بہنے سے ہوئی۔
واضح رہے میر رضا کے دوسرے پوسٹ مارٹم کے معاملے میں بھی صورت حال باعث تشویش رہی۔
صوبائی وزیرِ داخلہ اور میئر کراچی نے میر رضا علی کے اہل خانہ سے تعزیت کی (فوٹو: سکرین گریب)
ابتدائی طور پر بنائی گئی ٹیم میں رات گئے اچانک تبدیلی کردی گئی جس پر مقتول کے اہل خانہ اور وکیل نے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور میڈیکل ٹیم کو قبر کشائی کی اجازت نہیں دی بعدازاں میڈیکل ٹیم کو تبدیل کیا گیا اور پوسٹ مارٹم کیا گیا۔
28 جولائی کی رات کیا ہوا تھا؟
کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس کے رہائشی اور ’وافلکس‘ برانڈ کے مالک میر رضا علی 28 جولائی کی رات اپنی دکان سے سکیورٹی گارڈ کا پستول لے کر گھر پہنچے۔
گھر پر کار کی چابیاں، سمارٹ واچ اور نقد رقم چھوڑنے کے بعد انہوں نے اپنے والد کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کی اور آن لائن کیب کے ذریعے گلستان جوہر پہنچے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں انہیں صبح چار بجے کے قریب گلستان جوہر میں اترتے دیکھا گیا، جس کے بعد ان کا فون بند ہو گیا اور اگلے روز ان کی مسخ شدہ لاش ویران جھاڑیوں سے برآمد ہوئی جبکہ ان کا موبائل فون یونیورسٹی روڈ پر کام کرنے والے ایک مزدور کو ملا۔
سی سی ٹی وی فوٹیجز کے مطابق میر رضا آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گلستان جوہر کے لیے روانہ ہوئے (فوٹو: سی سی ٹی وی)
پولیس کی ابتدائی تفتیش اور قانونی کارروائی پر سوالات
واقعے کے فوری بعد پولیس اس کیس کو مالی خسارے اور کرپٹو ٹریڈنگ میں ہونے والے نقصان کے باعث خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کر رہی تھی جن میں ایکسرے نہ کرنا اور بارود کے نمونے نہ لینا شامل تھے۔ جائے وقوعہ سے صرف پستول کا ہولسٹر ملنا، اصل پستول کا غائب ہونا اور مقتول کا موبائل فون کسی اور شخص سے برآمد ہونا ایسے بنیادی سوالات تھے جنھوں نے پولیس کی ابتدائی تفتیش کو مشکوک بنایا۔
اہل خانہ کا موقف
میر رضا کے والد اور اہل خانہ نے پہلے دن سے ہی پولیس کی بات کو رد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے بیٹے رضا کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اغوا کر کے قتل کیا گیا ہے۔