آئی ایم ایف مفت میں قرضے نہیں دیتا،اسد عمر

اسلام آباد... وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کےساتھ مسلسل رابطے میں ہیں ۔معمول کے مذکرات جاری ہیں۔جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ آئی ایف سی مفت میں قرضے نہیں دیتا، جو چاہتے ہیں کہ مالیاتی اداروں کے سامنے لیٹ جائیں وہ سن لیں کسی کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے نہ ٹیکنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان آزاد ملک ہے۔ کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیں گے۔ قومی مفاد میں فیصلے کریں گے۔ عوام کو ریلیف دینے اور معیشت کو استحکام دینے کےلئے اصلاحات کے پہلے مرحلے کا آغاز کردیا ۔ا سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی اور لائحہ عمل تیار کیا گیا۔مشکل فیصلے لئے گئے۔انہو ںنے کہاکہ اصلاحاتی پیکج میں صنعت اور زراعت کو مراعات دی ہیں۔ روزگار کی فراہمی،برامدات میں اضافے اور ریونیو بڑھانے کے لئے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں ۔اسد عمرنے کہاکہ اداروں میں اصل مسائل گورننس کے ہیں۔ ایف بی آر نے انتظامی اصلاحات کرنی ہیں، عمل در آمد میں وقت لگے گا۔اسد عمر نے کہاکہ فائلر پر ٹیکس ختم جبکہ نان فائلر پر ٹیکس 50 فیصد بڑھا دیا ۔مقامی صنعت کو سپلائی بڑھانے کے لئے مالیاتی پیکج دیا گیا ہے ۔اسد عمر نے کہا کہ سرمایہ کاری نہیں بلکہ اس کے منافع پر ٹیکس ہوگا۔ اصلاحاتی پیکج کا مقصد سرمایہ کاری بڑھانا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ا سٹیل مل کو اپنے پاوں پر کھڑا کریں گے ۔اس کی پیداواری صلاحیت 3ملین ٹن پر لے کر جائیں گے ۔اس میں کوئلے سمیت خام مال پاکستان کا استعمال ہوگا ۔اسٹیل مل چلنے سے دوسری انڈسری بھی چلے گی۔ انہوںنے کہا کہ ملکی معیشت کی بنیادوں کو ٹھیک کیے بغیر ہم ترقی نہیں کرسکتے۔ وزیر مملکت حماد اظہر نے کہا کہ پچھلے سال فائلر 11 لاکھ تھے،اس سال یہ تعداد ساڑھے 14لاکھ ہو گئی ۔ریونیو بڑھانے کے لئے طویل مدت اقدامات کررہے ہیں۔ 
 

شیئر: