رئیل اسٹیٹ سیکٹر دولت چھپانے کا ذریعہ؟

کراچی....اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر ٹیکس سے بچنے اور دولت چھپانے کا ذریعہ بن گیا ۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کی جانے والی سرمایہ کاری کی نگرانی اور خریداروں کی شناخت کا کوئی نظام نہ ہونے سے لین دین کی دستاویز میں قیمت کم رکھنے کا قانونی راستہ کھلا ہوا ہے جس سے ٹیکس واجبات کم رکھنے والوں کے ساتھ ذرائع آمدن اور دولت چھپانے والے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔معاشی جائزہ رپورٹ میں اسٹیٹ بینک نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں غیر دستاویزی معیشت کا حجم مجموعی قومی پیداوار کے 70 سے 91 فیصد کے درمیان ہے۔پوشیدہ طور پر کمایا گیا منافع کا بیشتر حصہ ملک کی پراپرٹی مارکیٹ میں شامل ہوجاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق مجموعی ٹیکسوں میں پراپرٹی کے شعبہ سے حاصل کردہ ٹیکسوں کے شیئر کے لحاظ سے ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ملکوں کے مقابلے میں پاکستان کی کارکردگی کمزور رہی۔رپورٹ کے مطابق ٹیکس چرانے اور آمدنی چھپانے کے لئے رئیل اسٹیٹ اور پراپرٹی میں سرمایہ کاری سے بڑے شہروں میں پراپرٹی کی مارکیٹ دبا وکا شکار ہے۔سرمائے پر بھاری منافع کمانے کی امید پر بھی بہت سے لوگ اس شعبہ میں سٹہ باز انہ اور قلیل مدتی سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ان سب عوامل کے نتیجے میں پراپرٹی مارکیٹ میں نرخوں کا دبا برقرار رہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ جون 2011 سے جائیدادوں اور پلاٹوں کی قیمتیں تقریبا 3 گنا ہوچکی ہیں ۔ مکانات کے نرخ 139 فیصد تک بڑھ چکے۔ رہائشی مکانات کے مقابلے میں پلاٹوں کی قیمتوں میں نسبتا تیزی سے اضافہ بڑے شہروں کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں سٹہ بازانہ دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔

شیئر: