اسلام آباد میں خودکش حملہ: ماسٹر مائنڈ سمیت چار سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا، وفاقی وزیر داخلہ
اسلام آباد میں خودکش حملہ: ماسٹر مائنڈ سمیت چار سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا، وفاقی وزیر داخلہ
ہفتہ 7 فروری 2026 17:20
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کے حوالے سے کہا ہے کہ اس حملے کے سہولت کاروں اور ماسٹر مائنڈ کو گرفتار کر لیا ہے۔
سنیچر کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ’خیبر پختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور دیگر ایجینسیوں نے بطور ٹیم بہت اچھا کام کیا۔ دھماکے کے فوراً بعد پشاور اور نوشہرہ میں چھاپے مارے گئے، ماسٹر مائنڈ افغان ہے، جو گرفتار ہو چکا ہے۔‘
’ریڈ کے دوران خیبر پختونخوا کا اہلکار شہید ہوا ہے، چند اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ ماسٹر مائنڈ کا تعلق داعش سے ہے، داعش افغانستان نے اس حملے کی منصوبہ بندی کی، دہشت گرد کو ٹریننگ افغانستان میں دی گئی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’گرفتار دہشت گرد تمام تفصیلات سے آگاہ کر رہے ہیں۔ واقعے کے بعد تفتیش کے دوران اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ دہشت گرد افغانستان گیا تھا۔‘
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ’کافی دیر سے یہ بات کر رہے ہیں کہ افغان طالبان ہو یا کوئی اور سب مل کر کام کر رہے ہیں۔ 21 دہشت گرد تنظیمیں افغانستان سے آپریٹ کر رہی ہیں۔‘
’ان کو جو زیادہ پیسہ دیتا ہے یہ ان کے لیے کام کرتے ہیں۔ بغیر کسی شبے کے افغانستان سے یہاں دہشت گردی ہو رہی ہے۔ میں دعوے کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ اگر ایک دھماکہ ہو رہا ہے تو 99 دھماکے روکے گئے ہیں۔ روکے گئے دھماکوں کی تفصیلات ہم میڈیا پر آ کر نہیں بتاتے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے بہت سارے ایسے ایکس اکاؤنٹس پکڑے ہیں، جو دہشت گرد استعمال کر رہے ہیں لیکن وہ انہیں بلاک نہیں کر رہے، ہم نے اس معاملے کو سنجیدگی سے اٹھایا ہے۔ اگر وہ بند نہیں کریں گے تو ہمیں کوئی اور قدم اٹھانا پڑے گا۔‘
پاکستان کے وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں ہونے والے ان دھماکوں کے پیچھے انڈیا ہے، پہلے وہ (انڈیا) جسے 500 ڈالر دے رہا تھا، اب وہ اسے 1500 ڈالر دے رہا ہے، انہوں نے اپنا بجٹ بڑھا دیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ’سی ٹی ڈی اور دیگر ایجینسیوں نے بطور ٹیم مربوط کام کیا (فوٹو: اے ایف پی)
خیال رہے کہ گذشتہ روز پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں میں جمعے کی نماز کے دوران ایک امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 32 افراد ہلاک اور 160 سے زائد زخمی ہو گئے۔
اس واقعے کے عینی شاہدین نے اردو نیوز بتایا کہ حملہ آور نے پہلے داخلی راستے پر تعینات امام بارگاہ کی نجی سکیورٹی پر فائرنگ کی اور پھر تیزی سے آگے بڑھا۔
عینی شاہدین کے مطابق ’حملہ آور نے سکیورٹی پر مامور امام بارگاہ کی سکیورٹی پر فائرنگ کی، جس کے بعد وہ آگے بڑھا، دوسرا پوائنٹ بھی کراس کیا اور پھر تیسرے پوائنٹ پر، جو جمعہ کی نماز کی پچھلی صفوں کے قریب تھا، جا کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔‘
مقامی افراد نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ امام بارگاہ کے باہر پولیس کا کوئی اہلکار تعینات نہیں تھا اور تمام تر سکیورٹی انتظامات مقامی رضاکار ہی سنبھال رہے تھے۔
ایک امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 32 افراد ہلاک اور 160 سے زائد زخمی ہو گئے (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کا مزید کہنا تھا کہ کل کا دن پورے ملک کے لیے افسوس ناک دن تھا۔ کل کے واقعے نے ہم سب کو ہلایا ہے۔ کل دھماکے کے بعد ہماری تمام ایجنسز ایکٹیو ہوئیں۔ کل رات سب جاگے ہوئے تھے مختلف آپریشن چل رہے تھے، سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے اس حملے کے ماسٹر مائنڈ اور دیگر افراد کے خلاف کارروائی کی۔