بلوچستان کے ضلع نوشکی میں گزشتہ ہفتے 31 جنوری 2026 کو ہونے والے حملوں کے دوران ہلاک ہونے والے صوبہ سندھ کے پانچ مزدوروں کی میتیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئی ہیں۔
بلوچستان کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات نے سنیچر کو کہا کہ ’نوشکی میں غریب اور بے گناہ مزدوروں کو بے رحمی سے قتل کیا گیا۔‘
’وزیرِاعلیٰ کی ہدایت پر ان کے جسدِ خاکی سندھ روانہ کیے جا رہے ہیں، ایمبولینسز اس وقت راستے میں ہیں۔‘
مزید پڑھیں
اس سے قبل سنیچر کی صبح اردو نیوز نے نوشکی میں حملوں میں ہلاک ہونے والے ان مزدوروں کے خاندان کے افراد کے مطالبات پر مبنی رپورٹ شائع کی تھی۔
واضح رہے کہ 31 جنوری کو نوشکی میں بیک وقت ہونے والے حملوں کے بعد شہر میں تین دن تک جنگ جیسی صورتحال رہی۔ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے پولیس تھانوں، ایف سی ہیڈ کوارٹر، جیل، عدالتوں اور دیگر سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، کئی مقامات پر آگ لگائی گئی اور خودکش حملے بھی کیے گئے۔
ان واقعات میں سکیورٹی اہلکاروں، سرکاری ملازمین اور عام شہریوں سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے جبکہ جوابی کارروائی میں کئی حملہ آور مارے گئے۔
نوشکی میں غریب اور بے گناہ مزدوروں کو بے رحمی سے قتل کیا گیا۔ وزیرِ اعلیٰ کی ہدایت پر ان کے جسدِ خاکی سندھ روانہ کیے جا رہے ہیں، ایمبولینسز اس وقت راستے میں ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ کچھ آوازیں ان آنسوؤں پر خاموش رہتی ہیں، مگر ہر سانحے کے بعد ایک ہی بیانیہ دہرانے میں جلدی کرتی ہیں۔ وہ… https://t.co/uv4A6dL8Eb pic.twitter.com/sQybTB06Xu
— Muhammad Hamza Shafqaat (@beyondfiles) February 7, 2026
جمعے کو بلوچستان پولیس کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے جس دوران متعدد لاشیں ملی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نوشکی کے گورنمنٹ ڈگری کالج کی زیرِ تعمیر عمارت سے پانچ مزدوروں کی لاشیں برآمد ہوئیں جنہیں گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال نوشکی منتقل کیا گیا۔
چار نوجوان ایک ہی خاندان کے تھے
پولیس کے مطابق مقتولین میں سندھ کے ضلع خیرپور سے تعلق رکھنے والے ارشاد احمد اور گھوٹکی کے ایک ہی خاندان کے چار نوجوان شامل ہیں جن کی شناخت کامران احمد، شہزاد حسین، سجاد حسین اور غلام عباس کے نام سے ہوئی ہے۔
اہلِ خانہ کے مطابق شہزاد اور سجاد سگے بھائی تھے۔ غلام عباس ان کا چچا زاد جبکہ کامران خالہ زاد بھائی تھا۔ مقتولین کے والد فیض محمد نے بتایا کہ ان تمام نوجوانوں کی عمریں 15 سے 20 سال کے درمیان تھیں اور وہ کم عمری میں ہی گھر کا خرچ اٹھانے کے لیے مزدوری کرنے بلوچستان گئے تھے۔
فیض محمد کا کہنا تھا کہ کئی دن گزرنے کے باوجود ان کے بچوں کی لاشیں انہیں نہیں مل سکیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی تھی کہ کم از کم ان کے پیاروں کی لاشیں ان کے آبائی علاقوں تک پہنچائی جائیں تاکہ وہ تدفین کر سکیں۔
ان کے مطابق یہ نوجوان ایک ٹھیکیدار کے ساتھ کام کے لیے کوئٹہ گئے تھے جس کے مختلف مقامات پر کام ہورہے تھے۔ واقعے سے دو روز قبل وہ انہیں نوشکی لے گیا۔ وہاں ان کی رہائش گورنمنٹ ڈگری کالج کی عمارت میں تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کے بچوں کو کس نے اور کیوں قتل کیا۔

مقتولین کے رشتہ دار غازی احمد نے گھوٹکی سے ٹیلی فون پر اردو نیوز کو بتایا کہ 31 جنوری کو نوشکی میں دھماکوں کی خبر کے بعد شہزاد اور سجاد نے گھر فون کر کے خیریت سے ہونے کی اطلاع دی تھی مگر اس کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہو گیا۔
بعد ازاں کوئٹہ سے اطلاع ملی کہ یہ نوجوان ہلاک ہو چکے ہیں اور ان کی لاشیں ہسپتال میں رکھی گئی ہیں۔
دو نوجوانوں کی شادی عید کے بعد تھی
غازی احمد کے مطابق ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے یہ نوجوان پہلے کراچی میں شٹرنگ کا کام کرتے تھے، بعد ازاں ایک ٹھیکیدار کے ساتھ بلوچستان چلے گئے۔
گھر والوں نے حالات کے پیش نظر انہیں واپس آنے کا مشورہ بھی دیا تھا، مگر انہوں نے بات نہیں مانی۔ انہوں نے بتایا کہ غلام عباس اور سجاد کی شادی بڑی عید کے بعد طے تھی۔












