Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

باراک اوبامہ اور ان کی اہلیہ کے حوالے سے نسل پرستانہ ویڈیو پر صدر ٹرمپ کا معافی مانگنے سے انکار

ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، ٹرمپ نے انتخابی دھاندلی سے متعلق ویڈیو کے مجموعی دعوؤں کا دفاع کیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی اس ویڈیو پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا جس میں باراک اوبامہ اور مشیل اوبامہ کو بندروں کی شکل میں دکھایا گیا تھا، تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اس پوسٹ کی مذمت کرتے ہیں۔ جبکہ وائٹ ہاؤس نے اس کی ذمہ داری عملے پر ڈال دی۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ کے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر جمعرات کی رات دیر گئے شیئر کی گئی اس ویڈیو پر امریکہ کے سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔
ابتدا میں وائٹ ہاؤس نے اسے ’جعلی غصہ‘ قرار دے کر مسترد کیا، تاہم بعد میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ پوسٹ عملے کے ایک رکن کی غلطی سے شیئر ہوئی۔
جمعے کو ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جب امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس پوسٹ پر معافی مانگیں گے، تو انہوں نے کہا کہ ’میں نے کوئی غلطی نہیں کی۔‘
جب ان سے ویڈیو میں موجود نسل پرستانہ مناظر کی مذمت کے بارے میں سوال کیا گیا تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’یقیناً میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔‘
ڈیموکریٹس نے امریکی تاریخ کے پہلے سیاہ فام صدر اور خاتونِ اول کے حوالے سے اس کلپ کو ’قابلِ نفرت‘ قرار دیا، جبکہ ایک سینیئر ریپبلکن سینیٹر نے ویڈیو کو کھلے عام نسل پرستانہ کہا۔
تقریباً ایک منٹ طویل اس ویڈیو کے اختتامی حصے میں، جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی سنہ 2020 کے صدارتی انتخاب میں جو بائیڈن سے شکست کے بارے میں سازشی نظریات کو فروغ دیا گیا، باراک اوبامہ اور ان کی اہلیہ کو تقریباً ایک سیکنڈ کے لیے بندروں کے جسموں پر ان کے چہروں کے ساتھ دکھایا گیا۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے ابتدا میں تنازع کو کم اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تصاویر ’ایک انٹرنیٹ میم ویڈیو‘ سے لی گئی تھیں جس میں صدر ٹرمپ کو ’جنگل کا بادشاہ‘ اور ڈیموکریٹس کو فلم ’دی لائن کنگ‘ کے کرداروں کے طور پر دکھایا گیا تھا۔
تاہم صدر ٹرمپ کے اکاؤنٹ پر پوسٹ شائع ہونے کے تقریباً 12 گھنٹے بعد اسی انتظامیہ کی جانب سے غیرمعمولی اعتراف سامنے آیا جو عموماً معمولی غلطی تسلیم کرنے سے بھی گریز کرتی ہے۔

ڈیموکریٹس نے امریکی تاریخ کے پہلے سیاہ فام صدر اور خاتونِ اول کے حوالے سے اس کلپ کو ’قابلِ نفرت‘ قرار دیا۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)

ایک وائٹ ہاؤس اہلکار نے کہا کہ ’وائٹ ہاؤس کے ایک عملے کے رکن نے غلطی سے یہ پوسٹ کی۔ اسے ہٹا دیا گیا ہے۔‘
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، ٹرمپ نے انتخابی دھاندلی سے متعلق ویڈیو کے مجموعی دعوؤں کا دفاع کیا، تاہم کہا کہ انہوں نے متنازع حصہ نہیں دیکھا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے صرف ابتدائی حصہ دیکھا تھا… میں نے پوری ویڈیو نہیں دیکھی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اسے پوسٹ کرنے کے لیے عملے کو دیا تھا اور انہوں نے بھی پوری ویڈیو نہیں دیکھی۔

 

شیئر: