سعودی عرب اور دہشتگردی کا انسداد

سعودی عرب سے شائع ہونے والے اخبار ”عکاظ“ کا اداریہ نذر قارئین ہے
یورپی کمشنری سعودی عرب کا نام ایسے ممالک کی فہرست میں گھسیڑنے کی ناکام کوشش کررہی ہے جو دہشتگردی کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ کے انسداد کیلئے مطلوبہ کوشش نہیں کررہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ یورپی کمشنری کی یادداشت متاثر ہوگئی ہے۔ اسے یاد نہیں رہا کہ دہشتگردی اور اس کی فنڈنگ کے انسداد میں سعودی عرب کہاں کھڑا ہوا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یورپی کمشنری ملکی اور بین الاقوامی سطح پر برسہا برس سے دہشتگردی کے سوتے خشک کرنے اور دہشتگردوں کی بیخ کنی کے لئے غیر معمولی کاوشیں کررہا ہے۔
مختلف ذرائع کی بہت ساری سرکاری رپورٹوں میں سعودی عرب کو منی لانڈرنگ اوردہشتگردی کی فنڈنگ کے انسداد میں پہلی پوزیشنیں دی گئی ہیں۔ ایک نامعقول اور غیر حقیقت پسندانہ بے ہودہ رپورٹ کو بنیاد بناکر سعودی عرب کی عظیم الشان مساعی پر پردہ نہیں ڈالا جاسکتا۔ سعودی عرب اُن چند ممالک میں سے ایک ہے جو دہشتگردی، منی لانڈرنگ کے انسداد میں انتہائی شفاف پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ شواہد بے شمار ہیں۔
بہت سارے ممالک نے مذکورہ فہرست میں سعودی عرب کا نام شامل کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ امریکہ کی وزارت خزانہ نے یورپی کمشنری کی جاری کردہ فہرست کے مندرجات پر زبردست اعتراض کیا اور واضح کیا کہ ورکنگ مالیاتی گروپ ہی انسداد منی لانڈرنگ کے سلسلے میں مرجع کی حیثیت رکھتا ہے جبکہ یورپی کمشنری کی فہرست گروپ کی رپورٹوں کے منافی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 
 

شیئر: