پاکستان میں فائیو جی سروس کے آغاز کے حوالے سے پیش رفت تیز ہو گئی ہے۔
جیسا کہ آپ کو معلوم ہے، ملک میں حالیہ دنوں فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی مکمل ہوئی جس میں مجموعی طور پر 600 میگا ہرٹز سپیکٹرم پیش کیا گیا۔
مزید پڑھیں
اس نیلامی میں تقریباً 480 میگا ہرٹز فروخت ہوا۔ نیلامی میں تین ٹیلی کام کمپنیوں جاز، یو فون اور زونگ نے حصہ لیا۔ جاز نے 190 میگا ہرٹز، یو فون نے 180 میگا ہرٹز جبکہ زونگ نے 110 میگا ہرٹز سپیکٹرم حاصل کیا۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مطابق اس نیلامی سے مجموعی طور پر 507 ملین ڈالر حاصل ہوئے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں اس سے پہلے موبائل نیٹ ورک کے لیے مجموعی طور پر صرف 274 میگا ہرٹز سپیکٹرم دستیاب تھا جسے ناکافی قرار دیا جاتا رہا، اور یہی وجہ تھی کہ نیٹ ورک پر دباؤ اور رفتار کے مسائل سامنے آتے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ فائیو جی لائسنس کے اجرا کے بعد کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ جیسے بڑے شہروں میں تین سے چھ ماہ کے اندر مکمل سروسز شروع ہونے کا امکان ہے، جبکہ ٹیلی کام آپریٹرز نے محدود سائٹس پر جمعہ سے سروس فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔
پاکستان میں فائیو جی سپیڈ ٹیسٹ پر سامنے آنے والی ابتدائی معلومات
اسی تناظر میں جہاں پاکستانی صارفین کو فائیو جی کے باقاعدہ آغاز کا انتظار ہے، وہیں جمعہ کے روز سوشل میڈیا پر متعدد پوسٹس سامنے آئیں جن میں بعض صارفین نے دعویٰ کیا کہ ان کے موبائل فونز پر فائیو جی سروس ظاہر ہو رہی ہے۔
خاص طور پر جاز ورلڈ کے سی ای او عامر حفیظ ابراہیم کی جانب سے بھی ایک پوسٹ سامنے آئی جس میں اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں کامیاب ٹیسٹنگ اور سپیڈ ٹیسٹ کی جھلک دکھائی گئی، جس کے بعد صارفین میں مزید دلچسپی اور بحث شروع ہو گئی۔
Coming soon to a smartphone near you ..
Successful testing in F7, Islamabad @jazzpk @jazz_worldpk @PTAofficialpk @MoitOfficial pic.twitter.com/xtwBQpQr3P
— Aamir Hafeez Ibrahim (@aamir_ibrahim01) March 12, 2026
ایک اور صارف نے ایکس پر پوسٹ میں لکھا کہ اسلام آباد کے سیکٹر ایف 7 میں جیز نیٹ ورک پر فائیو جی چل رہا ہے۔ کچھ صارفین یہ بھی دعویٰ کرتے نظر آئے کہ ملتان کنٹونمنٹ اور لاہور کنٹونمنٹ میں بھی فائیو جی کی سروس کام کر رہی ہے۔ یاد رہے یہ اطلاعات موصول ہونا آغاز کی ٹیسٹنگ کا حصہ بھی ہو سکتی ہے۔
کیا فائیو جی کا بار بار سپیڈ ٹیسٹ کرنے سے موبائل ڈیٹا ختم ہو سکتا ہے؟
ایک اور بحث جو سوشل میڈیا پر دیکھنے میں آئی وہ یہ تھی جس میں اکثر صارفین یہ دعویٰ کرتے دکھائی دیے کہ فائیو جی نیٹ ورک پر سپیڈ ٹیسٹ کرنا موبائل ڈیٹا زیادہ استعمال کرتا ہے۔
آئی ٹی کی معلومات رکھنے والے ایک صارف وقاص احمد نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ اگر آپ کے موبائل پر فائیو جی کا نشان نظر آئے تو بار بار سپیڈ ٹیسٹ ایپ نہ چلائیں۔ اگر واقعی اچھا فائیو جی ہوا تو پانچ سے چھ بار میں آپ کا پیکیج ختم ہو سکتا ہے۔
Caution
If you see that 5G sign on your mobile; dont run the speed test app again and again to check for speed. If it's a good 5G, your package will drain in 5 to 6 attempts. https://t.co/ixOsihpX0i
— Waqas Ahmed (@waqas03) March 12, 2026
اس ٹویٹ کے نیچے جو تھریڈ چلا اس میں رزا دوتانی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ سپیڈ ٹیسٹ واقعی ڈیٹا استعمال کرتا ہے، مگر تقریباً اتنا ہی جتنا تھری جی یا فور جی پر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق فرق صرف یہ ہے کہ فائیو جی ٹیسٹ بہت جلد مکمل کر دیتا ہے جبکہ تھری جی اور فور جی میں وقت زیادہ لگتا ہے، اس لیے ایسا لگتا ہے کہ ڈیٹا زیادہ خرچ ہو رہا ہے۔
اس کے جواب میں وقاص احمد نے کہا کہ حقیقی نیٹ ورک ٹیسٹنگ میں ٹی سی پی ریمپ اپ اور پیک تھروپٹ جیسے عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں اور انہوں نے اپنے ڈرائیو ٹیسٹنگ تجربے کا حوالہ دیا۔ اس پر رزا دوتانی نے وضاحت کی کہ عام سپیڈ ٹیسٹ میں مجموعی ڈیٹا استعمال زیادہ نہیں ہوتا بلکہ تقریباً تھری جی اور فور جی جتنا ہی رہتا ہے، یعنی صرف تیز ہونا اس بات کا مطلب نہیں کہ وہ جادوئی طور پر زیادہ جی بی کھا رہا ہے۔

تو پھر اصل حقیقت کیا ہے؟ تکنیکی طور پر سپیڈ ٹیسٹ کوئی فرضی عمل نہیں بلکہ یہ حقیقی ڈاؤن لوڈ اور اپ لوڈ چلا کر رفتار ناپتا ہے، اس لیے یہ لازماً ڈیٹا خرچ کرتا ہے۔ مختلف ٹیک رپورٹس کے مطابق ایک فائیو جی سپیڈ ٹیسٹ بعض اوقات تقریباً سات سو سے آٹھ سو ایم بی تک ڈیٹا استعمال کر سکتا ہے، جبکہ عمومی طور پر ایک ٹیسٹ کا استعمال چند ایم بی سے لے کر سینکڑوں ایم بی یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے، جو براہ راست نیٹ ورک کی رفتار پر منحصر ہوتا ہے۔
اصل اصول یہ ہے کہ جتنا تیز نیٹ ورک ہوگا اتنا زیادہ ڈیٹا سپیڈ ٹیسٹ میں استعمال ہو سکتا ہے، کیونکہ ٹیسٹ زیادہ سے زیادہ رفتار حاصل کرنے کے لیے مسلسل ڈیٹا منتقل کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سست فور جی پر ایک ٹیسٹ کم ڈیٹا لیتا ہے جبکہ بہت تیز فائیو جی پر وہی ٹیسٹ زیادہ ڈیٹا لے سکتا ہے۔
اگر کسی صارف کے پاس دس جی بی کا پیکیج ہو اور ایک ٹیسٹ سات سو یا آٹھ سو ایم بی لے رہا ہو تو پانچ چھ ٹیسٹ میں واقعی خاصا ڈیٹا ختم ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر نیٹ ورک کی رفتار کم ہو یا ٹیسٹ مختصر ہو تو استعمال بھی کم رہتا ہے۔
مختصر نتیجہ یہی ہے کہ سپیڈ ٹیسٹ ہمیشہ ڈیٹا خرچ کرتا ہے، فائیو جی خود ڈیٹا نہیں کھاتا بلکہ تیز ہونے کی وجہ سے ٹیسٹ زیادہ ڈیٹا استعمال کر سکتا ہے، اور بار بار ٹیسٹ چلانا واقعی پیکیج جلد ختم کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین ایک یا دو بار ٹیسٹ کرنے کو کافی سمجھتے ہیں اور بار بار چلانے سے گریز کا مشورہ دیتے ہیں۔
سویا سنکاؤ نامی نیوز ویب سائٹ پر سنہ 2022 میں ایک خبر شیئر کی گئی جس میں دکھایا گیا تھا کہ کیسے فائیو جی پر استعمال ہونے والے موبائل دیٹا کی مقدار فور جی کے مقابلے میں زیادہ تھی۔

ایک اور صارف نے اس پر اپنا تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ فائیو جی نیٹ ورک پر سپیڈ ٹیسٹ کرنا زیادہ موبائل ڈیٹا خرچ نہیں کرتا۔

ایک بات یہ بھی قابل غور ہے کہ سپیڈ ٹیسٹ کرتے ہوئے ایسا ضروری نہیں کہ سپیڈ مسلسل ایک جتنی قائم بھی رہے، ہاں اگر تیز سپیڈ برقرار رہے اور سپیڈ ٹیسٹ کا دورانیہ زیادہ ہو تو موبائل ڈیٹا زیادا خرچ ہو سکتا ہے۔

واضح رہے پاکستان میں تاحال فائیو جی نیٹ ورک سروسز مکمل طور پر فعال نہیں ہوئیں، تاہم سپیڈ ٹیسٹ پر ڈیٹا کتنا استعمال ہوتا ہے یہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ کب، کیسے اور کتنی سپیڈ کا انٹرنیٹ دستیاب ہوگا۔
کیا فائیو جی نیٹ ورک پر ڈیٹا زیادہ استعمال ہوتا ہے؟
برطانیہ کی ویب سائٹ فائیو جی کمپنی پر شائع ہونے والی تحقیق سے ایک اور بات واضح ہوتی ہے کہ فائیو جی بذاتِ خود فور جی سے زیادہ ڈیٹا استعمال نہیں کرتا۔ اگر آپ ایک ہی فائل ڈاؤن لوڈ کریں یا ایک ہی ویب پیج کھولیں تو فائیو جی اور فور جی دونوں پر تقریباً اتنا ہی ڈیٹا خرچ ہوگا۔ فرق صرف رفتار کا ہوتا ہے، مقدار کا نہیں۔
لیکن عملی طور پر دیکھا جائے تو فائیو جی پر ڈیٹا استعمال اکثر زیادہ نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ فائیو جی زیادہ ڈیٹا کھا رہا ہے بلکہ یہ ہے کہ تیز رفتار کی وجہ سے صارف زیادہ بھاری کام کرنے لگتا ہے۔ مثال کے طور پر فائیو جی پر آپ آرام سے فور کے فلم ڈاؤن لوڈ کر لیتے ہیں، جبکہ فور جی پر اکثر لوگ ون زیرو ایٹ زیرو پی ورژن پر اکتفا کرتے ہیں کیونکہ انتظار زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح کئی بار لوگ وہ بڑی فائلیں، ایپس یا گیمز بھی فائیو جی پر ڈاؤن لوڈ کر لیتے ہیں جنہیں وہ فور جی پر شروع بھی نہ کرتے۔
کچھ سروسز خودکار طور پر بھی زیادہ معیار والا مواد فراہم کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر ویڈیو سٹریمنگ ایپس جب تیز کنکشن دیکھتی ہیں تو خود ہی ہائی کوالٹی سٹریم چلا دیتی ہیں، جس سے ڈیٹا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ یعنی یہاں اصل فرق نیٹ ورک کا نہیں بلکہ صارف کے رویے اور سروسز کے معیار کا ہوتا ہے۔
مستقبل میں فائیو جی کے ساتھ ڈیٹا استعمال مزید بڑھنے کا امکان بھی ہے کیونکہ یہ نئی سرگرمیوں کو ممکن بنائے گا جہاں موبائل فون مرکزی کردار ادا کرے گا۔
اعداد و شمار بھی اسی رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اوپن سگنل کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق سنہ دو ہزار بیس میں چھ بڑے فائیو جی ممالک میں فائیو جی صارفین نے فور جی کے مقابلے میں تقریباً ایک اعشاریہ سات سے دو اعشاریہ سات گنا زیادہ موبائل ڈیٹا استعمال کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ فائیو جی خود زیادہ ڈیٹا استعمال نہیں کرتا، بلکہ اس کی رفتار لوگوں کو زیادہ اور بھاری کام کرنے کی طرف لے جاتی ہے، جس سے مجموعی ڈیٹا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین کہتے ہیں کہ مسئلہ نیٹ ورک نہیں بلکہ ہمارا استعمال ہے۔
سپیکٹرم کیا ہوتا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟
عام صارف کے لیے سادہ الفاظ میں سمجھا جائے تو سپیکٹرم دراصل وہ ریڈیو فریکوئنسی رینج ہوتی ہے جس کے ذریعے موبائل نیٹ ورک ڈیٹا منتقل کرتے ہیں۔
پاکستان کے معروف ٹیک یوٹیوبر بلال منیر نے اپنی حالیہ یوٹیوب ویڈیو میں عام صارف کے لیے اس موضوع کو آسانی سے سمجھایا ہے۔
بلال منیر کا کہنا تھا کہ سپیکٹرم کو یوں سمجھیں جیسے ایک سڑک ہو جس پر مختلف لینز بنی ہوں، جس کمپنی کے پاس جتنا زیادہ سپیکٹرم ہوتا ہے، اس کے پاس اتنی زیادہ لینز ہوتی ہیں اور وہ بیک وقت زیادہ ڈیٹا منتقل کر سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق کم فریکوئنسی جیسے 700 میگا ہرٹز زیادہ فاصلے تک پہنچ سکتی ہے اور دیہی علاقوں میں بہتر کوریج دیتی ہے، مگر رفتار نسبتاً کم رہتی ہے۔ اس کے برعکس زیادہ فریکوئنسی جیسے 3500 میگا ہرٹز کم فاصلے تک جاتی ہے لیکن شہروں میں انتہائی تیز رفتار فراہم کرتی ہے۔ جبکہ ان دو بینڈز کے درمیان میں جتنے بینڈز ہیں وہ فور جی کی بہترین صلاحیت والے بینڈز تصور کیے جاتے ہیں۔
نیلامی میں خریدے گئے سپیکٹرمز کے مطابق پاکستان میں کون سا نیٹ ورک بہتر فائیو جی دے پائے گا؟
فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی سے سامنے آنے والی تفصیلات کا جائزہ لیا جائے تو جیز، یوفون اور زونگ کی جانب سے کل 480 میگا ہرٹز سپیکٹرم خریدا گیا۔
واضح رہے 3500 کا سپکٹرم اہم ہے کیونکہ یہ فائیو جی کی تیز رفتار دیگا مگر اس کی کوریج یا پھیلاؤ کم ہو گا، یعنی بڑے شہروں اور علاقوں تک محدود ہو سکتا ہے۔
سادہ الفاظ میں جتنا زیادہ سپیکٹرم ہا ہندسہ بڑا ہوگا اتنی تیز سپیڈ مگر اتنی محدود کوریج۔ تاہم یہی وجہ ہے کہ کمپنی مختلف بینڈز رکھتی ہے جس سے سپیڈ اور کوریج میں اعتدال پیدا کیا جاتا ہے۔
اس تصویر کو دیکھتے ہوئے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جیز، یوفون اور زونگ میں سے کون آگے ہو سکتا ہے۔

اسی لیے ٹیلی کام کمپنیاں بہتر کارکردگی کے لیے مختلف بینڈز کا امتزاج استعمال کرتی ہیں تاکہ کوریج اور سپیڈ دونوں برقرار رہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے سپیکٹرم کے باعث نہ صرف فائیو جی بلکہ آئندہ چند ماہ میں فور جی کی رفتار میں بھی واضح بہتری متوقع ہے، جبکہ اب دیکھنا یہ ہے کہ کون سا نیٹ ورک اس نئے سپیکٹرم سے زیادہ مؤثر فائدہ اٹھا کر صارفین کو بہتر تجربہ فراہم کرتا ہے۔












