Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب اور پاکستان آزمائش کی گھڑی میں متحد ہیں، ڈاکٹر علی عواض العسیری کا تجزیہ

جمعرات کو جدہ میں وزیر اعظم شہباز شریف کی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات مشرق وسطیٰ میں غیر معمولی کشیدگی کے ایک ایسے وقت میں ہوئی جب خطہ دہائیوں کے خطرناک ترین بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے۔
ایران کی جنگ خلیج کے سٹریٹجک ماحول کو نئے سرے سے ترتیب دے رہی ہے۔
مملکت اور اس کے جی سی سی شراکت داروں کے خلاف ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں، توانائی کی منڈیوں میں خلل اور وسیع پیمانے پر کشیدگی کے خدشات نے خلیج اور پوری مسلم دنیا کے استحکام کے حوالے سے سنگین تحفظات پیدا کر دیے ہیں۔
اس غیر یقینی صورتحال میں سعودی اور پاکستانی قیادت کے درمیان باقاعدہ مشاورت ریاض اور اسلام آباد کے درمیان ہم آہنگی کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔
حالیہ اعلیٰ سطح کی ملاقات میں علاقائی سلامتی، مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے سفارتی کوششوں اور دونوں ممالک کے درمیان پائیدار شراکت داری پر توجہ مرکوز کی گئی۔
آزمائش کے اس دور میں دونوں ممالک نے اس اصول کی توثیق کی ہے جس نے طویل عرصے سے ان کے تعلقات کی جہت متعین کر رکھی ہے یعنی خطے میں استحکام اور سلامتی کے تحفظ کے لیے مل کر کھڑے ہونا۔
بحران کے حوالے سے سعودی عرب کا طرزِ عمل علاقائی استحکام، ذمہ دارانہ قیادت اور سفارت کاری کے لیے مملکت کے مستقل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی متحرک اور بصیرت انگیز قیادت میں مملکت نے ایسی پالیسیاں اپنائی ہیں جو اپنی خودمختاری کے ٹھوس دفاع کو مذاکرات اور علاقائی امن کے واضح عزم کے ساتھ جوڑتی ہیں۔
اس متوازن نقطۂ نظر نے ایک پرآشوب خطے میں سعودی عرب کے استحکام کے ستون کے طور پر کردار کو مزید مضبوط کیا ہے۔
موجودہ بحران دونوں ممالک کے لیے غیر معمولی چیلنجز سامنے لا رہا ہے۔ ایران کی جنگ نے توانائی کی منڈیوں کو درہم برہم کر دیا ہے، بحری تجارتی راستوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور پورے خلیج میں اہم انفراسٹرکچر کی سلامتی کے بارے میں خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
سعودی عرب کے لیے اس میں اس کی سرزمین، توانائی کی تنصیبات کا تحفظ اور عالمی توانائی کے استحکام کو یقینی بنانے میں اس کا اہم کردار داؤ پر لگا ہوا ہے۔
پاکستان کے لیے اس بحران کے سنگین معاشی اور تزویراتی (سٹریٹجک) اثرات ہیں جن میں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے لے کر خلیج بھر میں رہنے اور کام کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں کی حفاظت تک شامل ہیں۔
اسی تناظر میں گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے ’سٹریٹجک دفاعی معاہدے‘ کی اہمیت ایک بار پھر اجاگر ہوئی ہے۔
اگرچہ یہ معاہدہ موجودہ تنازع سے پہلے ہوا تھا لیکن اب یہ غیر معمولی طور پر بروقت معلوم ہوتا ہے۔ اس کا مرکزی اصول  کہ ایک شراکت دار کے خلاف جارحیت دونوں کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی، دونوں ممالک کی قیادت کی تزویراتی بصیرت کی عکاسی کرتا ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب علاقائی سلامتی کے انتظامات کے گرد غیر یقینی کی صورتحال ہے، یہ معاہدہ اعتماد کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ دشمن کو باز رکھنے (Deterrence) کی قوت میں اضافہ کرتا ہے۔
اس فریم ورک کی عملی اہمیت حال ہی میں اس وقت نمایاں ہوئی جب پاکستان کے فیلڈ مارشل اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے مشاورت کی اور سٹریٹجک دفاعی معاہدے کے آپریشنل جذبے کی عوامی سطح پر توثیق کی۔
پاکستان نے مملکت کے دفاع کے لیے اپنے دیرینہ عزم کا اعادہ کیا، یہ ایک ایسا عزم ہے جو دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان دہائیوں کے قریبی فوجی تعاون اور باہمی اعتماد پر مبنی ہے۔ علاقائی کشیدگی کے اس دور میں، یہ واضح سٹریٹجک اشارہ ایک اہم حفاظتی مقصد پورا کرتا ہے  جو سعودی سلامتی کو یقینی بناتا ہے اور دوطرفہ دفاعی شراکت داری کی ساکھ کو تقویت دیتا ہے۔
تاہم آج جو یکجہتی نظر آ رہی ہے وہ محض کسی ایک بحران کا نتیجہ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسے رشتے کی عکاسی کرتا ہے جو دہائیوں کی محنت سے استوار کیا گیا ہے، جس کی بنیاد مشترکہ تاریخ، باہمی احترام اور دونوں معاشروں کے درمیان گہرے انسانی تعلقات پر ہے۔
اس شراکت داری کی بنیادیں کئی دہائیاں پیچھے جاتی ہیں۔
پاکستان کی آزادی سے پہلے بھی جزیرہ نما عرب اور برصغیر کے عوام کے درمیان تعلقات تجارت، عقیدے اور فکری تبادلے سے جڑے ہوئے تھے۔ سنہ 1947 میں پاکستان کے ایک خودمختار ریاست کے طور پر ابھرنے کے بعد، سعودی عرب تیزی سے مسلم دنیا میں اس کے قریبی شراکت داروں میں سے ایک بن گیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہ تعلق ایک وسیع سٹریٹجک شراکت داری میں بدل گیا جس میں سفارت کاری، دفاعی تعاون اور اقتصادی اشتراک شامل ہے۔ دفاعی روابط اس کے سب سے پائیدار ستونوں میں سے ایک رہے۔
سنہ 1960 کی دہائی کے آخر سے پاکستان اور سعودی عرب نے فوجی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دی جس نے پاکستانی افسران اور ماہرین کو مملکت کے دفاعی اداروں کی تربیت اور جدید کاری میں حصہ ڈالنے کا موقع فراہم کیا۔
ان انتظامات نے اعتماد کی ایسی روایات پیدا کیں جو دہائیوں کی مشترکہ مشقوں، پیشہ ورانہ تبادلوں اور سکیورٹی تعاون کے ذریعے گہری ہوتی گئیں۔ اس لیے سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ اس تعلق کی شروعات نہیں بلکہ دہائیوں کے قریبی تعاون کا قدرتی ادارہ جاتی ارتقاء ہے۔
اس شراکت داری کو دونوں ممالک کے درمیان انسانی رابطوں نے بھی مضبوط کیا ہے۔ لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں رہتے اور کام کرتے ہیں جو اپنے وطن کے ساتھ مضبوط تعلقات برقرار رکھتے ہوئے مملکت کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔
پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر کے طور پر اپنے قیام کے دوران، میں نے مملکت کے لیے پاکستانی عوام کی گرمجوشی، وفاداری اور اخلاص کا خود مشاہدہ کیا۔
حکومتی رہنماؤں سے لے کر عام شہریوں تک، سعودی عرب کے لیے ہمیشہ احترام اور محبت کا گہرا احساس اور ہماری دو قوموں کے درمیان پائیدار بندھن کے لیے مخلصانہ وابستگی موجود تھی۔ لہٰذا میں گواہی دے سکتا ہوں کہ سعودی پاک تعلقات کی مضبوطی صرف سفارت کاری یا حکمت عملی میں نہیں بلکہ ہمارے عوام کی سچی دوستی میں پنہاں ہے۔
آج اس رشتے کی اہمیت ایک بار پھر واضح ہے۔ ایران کی جنگ نے خلیجی خطے کے لیے نئے خطرات پیدا کر دیے ہیں، جن میں توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے اور عالمی منڈیوں کو درہم برہم کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔ اس لیے خلیج میں استحکام نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ وسیع تر عالمی معیشت کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
ایسے حالات میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان شراکت داری دفاع اور استحکام کے ایک وسیع فریم ورک میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ ساتھ ہی دونوں ممالک فوجی تناؤ کو روکنے کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔
پاکستان نے سعودی سلامتی کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے علاقائی قوتوں کے ساتھ سفارتی رابطہ برقرار رکھا ہے اور سعودی عرب نے اپنے دفاعی موقف کو مضبوط کرتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔
دونوں ممالک کا مشترکہ مقصد واضح ہے: بحران کو وسیع علاقائی تنازع میں بدلنے سے روکنا جو پورے خطے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
مستقبل پر نظر ڈالیں تو سعودی عرب اور پاکستان کی شراکت داری مسلم دنیا میں استحکام کا ایک اہم ستون رہے گی۔ عرب اور اسلامی دنیا میں سعودی عرب کی قیادت، پاکستان کی سٹریٹجک صلاحیتوں اور انسانی وسائل کے ساتھ مل کر ایک گہرا اور لچکدار رشتہ تخلیق کرتی ہے۔
غیر یقینی کے لمحات میں پائیدار شراکت داریاں اپنی اصل قدر ظاہر کرتی ہیں۔ جدہ میں ہونے والی ملاقات ایک یاد دہانی تھی کہ سعودی عرب اور پاکستان نے ایک ایسا رشتہ بنایا ہے جو جیو پالیٹکس کے دباؤ اور علاقائی ہنگامہ آرائی کے جھٹکوں کو برداشت کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
مشترکہ تاریخ، باہمی احترام اور امن و استحکام کے مشترکہ عزم کی روشنی میں سعودی عرب اور پاکستان آزمائش کے ادوار میں ایک ساتھ کھڑے رہیں گے،  نہ صرف اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے بلکہ پورے خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے یہ دونوں مل کر کام کرتے رہیں گے۔

ڈاکٹر علی عوض عسیری ریاض میں بین الاقوامی ادارہ برائے ایرانی مطالعہ کے ڈپٹی چیئرمین اور پاکستان میں سعودی عرب کے سابق سفیر ہیں۔

شیئر: