Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ نے ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے پر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، ٹرمپ

صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے پاس امریکی حملوں کے خلاف دفاع کرنے کی کوئی صلاحیت نہیں (فوٹو: روئٹرز)
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے جمعے کے دن ایران کے اہم تیل کے مرکز خارگ جزیرے پر فوجی اہداف پر حملہ کیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کو روکتا رہا تو وہ جزیرے کی تیل کی تنصیبات پر بھی حملہ کر سکتے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج نے جزیرے پر موجود ہر فوجی ہدف کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے تاہم انہوں نے تیل کی تنصیبات کو ابھی نقصان نہ پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ جزیرہ ایران کی 90 فیصد تیل کی برآمدات کا مرکزی ٹرمینل ہے اور آبنائے ہرمز سے تقریباً تین سو میل (483 کلومیٹر) شمال مغرب میں واقع ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ اگر ایران یا کوئی اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آزاد اور محفوظ آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے گا تو وہ فوراً اپنا یہ فیصلہ بدل دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے پاس امریکی حملوں کے خلاف دفاع کرنے کی کوئی صلاحیت نہیں ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی فوج اور اس حکومت کے ساتھ شامل دیگر افراد کے لیے بہتر ہے کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور اپنے ملک کا جو کچھ باقی بچا ہے اسے بچانے کی کوشش کریں، کیونکہ ان کے بقول اب زیادہ کچھ باقی نہیں رہا۔
یہ قدم ایسے وقت میں اُٹھایا گیا ہے جب تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اُتار چڑھاؤ آ رہا ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ کتنی دیر تک چل سکتی ہے، اس حوالے سے صدر ٹرمپ کے بیانات بدلتے رہتے ہیں۔
جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ امریکی بحریہ کب آبنائے ہرمز میں تیل کے جہازوں کو سکیورٹی فراہم کرنا شروع کرے گی تو انہوں نے کہا کہ یہ کام جلد شروع ہو جائے گا۔
انہوں نے اس سے قبل کہا تھا کہ ایران کے جہازوں پر حملے دراصل اس کی آخری کوشش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ آئندہ ایک ہفتے تک ایران پر بہت سخت حملے جاری رکھے گا۔

 

شیئر: