افغان طالبان کے ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے مار گرایا، چار افراد زخمی: آئی ایس پی آر
افغان طالبان کے ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے مار گرایا، چار افراد زخمی: آئی ایس پی آر
ہفتہ 14 مارچ 2026 6:52
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ 13 مارچ کو افغان طالبان نے پاکستان پر ڈرون حملے کیے جنہیں ہدف تک پہنچنے سے پہلے مار گرایا گیا۔
سنیچر کی صبح آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ 13 مارچ 2026 کو افغان طالبان نے پاکستان کے بہادر عوام کو ہراساں کرنے کے لیے چند ابتدائی ساخت کے ڈرون بھیجے۔
پاکستان کے دفاعی نظام نے ان ڈرونز کو ‘سافٹ اور ہارڈ کِل’ طریقوں کے ذریعے راستے میں ہی تباہ کر دیا جس کے باعث وہ اپنے ہدف تک نہ پہنچ سکے۔
ترجمان کے مطابق ڈرون کے ملبے کے گرنے سے کوئٹہ میں 2 بچے جبکہ کوہاٹ اور راولپنڈی میں ایک ایک شہری زخمی ہوا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا تھا جو افغان طالبان کی دہشت گردانہ ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔
بیان کے مطابق ایک جانب افغان طالبان عالمی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے خود کو متاثرہ فریق ظاہر کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب وہ دہشت گرد پراکسیوں اور ڈرونز کے ذریعے شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
ڈرون کے ملبے کے گرنے سے کوئٹہ میں 2 بچے جبکہ کوہاٹ اور راولپنڈی میں ایک ایک شہری زخمی ہوا (فوٹو:سکرین گریب)
’پاکستان کے عوام اور مسلح افواج افغانستان میں برسر اقتدار اس کرائے کی دہشت گرد تنظیم کی اصل فطرت اور عزائم سے پوری طرح آگاہ ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ آپریشن غضبُ اللحق اس وقت تک جاری رہے گا جب تک افغان طالبان افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کے بنیادی مسئلے کو حل نہیں کرتے۔
آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردی اور اس کی تمام شکلوں، بشمول ڈرون حملوں، کے خلاف ثابت قدم ہیں اور عوام کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھا جائے گا۔