خلع، گرہستن کا آخری اختیار، عجلت میں فیصلہ نہ کیجئے

تسنیم امجد ۔ریا ض
   
صبح ا لکا فیہ گیدرنگ میں سبھی گپ شپ میں مشغول تھے ۔ہم نے مسز وقار کے اترے ہوئے چہرے کی وجہ پو چھی تو انہوںنے اداسی بھرے لہجے میں کہا کہ میں ندا کی طرف سے بہت پریشان ہوں۔اسے ہم نے ارمانوں سے ڈاکٹر ی کی تعلیم دلوائی ۔گھر داری سکھانے کی طرف توجہ نہیں دی، اس لئے کہ وہ تو آ ہی جاتی ہے ۔کچھ بنیادی ڈشیں شادی سے قبل سکھا دی تھیں ۔ گزارے کے لائق تو کر لیتی تھی۔ میڈیکل کی تعلیم بہت محنت طلب ہے اس لئے بچیوںکے پاس وقت بھی نہیں ہوتا ۔کالج میں ہمیشہ اول درجے میں رہی ،تفریحی سر گر میوں میں بھی آ گے آ گے رہی ۔اسی لئے اس سے ایک کلاس سینئر نے پروپوز کیا۔اس کے والدین نے بہت زور دیا ۔دو ستوں سے کہلوایا اور خود بھی چکر لگاتے رہے ۔خاندان اچھا تھا ،لڑ کا بھی ادب آداب کا خیال رکھنے والا تھا اور بظاہر ٹپ ٹاپ بھی رہتاتھا ۔اس لئے ہم مان گئے ۔اس پورے وقت میں ہمیں چھ ماہ لگے ۔
    ندا کو ہمارے فیصلے پر اعتماد تھا ۔شادی دھوم دھام سے کی۔لڑکا اکلوتا تھا اس لئے اسے اپنے والدین کے ساتھ ہی رہنا تھا ۔بہنیں چار تھیں جو شادی شدہ تھیں لیکن اسی شہر میںرہتی تھیں۔ان کی دوڑ میکے تک ہی تھی ۔وہ شام کی چائے کے لئے شوہر سمیت چلی آ تیں۔ندا نے جاب کر لی ۔وہ شام سات بجے آفس سے لوٹتی توگھر میں افرا تفری کا سا ما حول دیکھ کر پریشان ہو جاتی۔اس کا دل چا ہتاکہ تھوڑی دیر سستا لے لیکن نا صر کہتا کہ کمرے میں نہ رکو ۔بہنیں محسوس کریں گی۔وہ جلدی سے کپڑے بدل کر کچن میں بھا گتی جہاں پکوڑے یاچائے کے لئے کچھ اور بن رہا ہوتا ۔اسے لا محالہ ساتھ میں کام کرنا پڑ تا ۔سا س وہیں پر ہو تیں۔ایک ملازم تھا جو صرف دوپہر2 بجے سے شام 7 بجے تک رہتا ۔اسے کہیں اور بھی کام کرنا ہوتا تھا ۔اکثر وہ ڈھیروں برتن چھوڑ جاتا جسے ساس دھونے کھڑی ہو جا تیںاور ندا ان سے لے لیتی۔اسے یہ اچھا نہیں لگتا تھا کہ وہ بر تن دھوئیں۔اس طرح رات گئے وہ تھکی ہاری بستر پر گر جاتی۔ اسے ا حساس ہی نہیں ہوتا تھاکہ وہ کب سوئی ۔
    صبح الارم پر آ نکھ کھلتی تو بھاگم بھاگ کچن میں جا کر شوہر کیلئے ناشتہ اور چائے بناتی پھر اپنے جانے کی تیاری میں وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلتا ۔اسے اسپتال میں ہی سکون کا سانس لینانصیب ہوتا۔نرس اسے چائے کا کپ دے کر کہتی کہ یہ سکون سے پی لیں۔اس کے بعد ہی مریض کو بلاﺅں گی ۔آپ کیلئے آرام بھی ضروری ہے ۔وہ 15 منٹ میں ہی فریش ہو جاتی ۔اکثر سو چتی کہ نا صرکے نز دیک اس کی حقیقت کیا ہے ۔اسے ذرا بھی ا حساس نہیں کہ اس کی اپنی بھی کوئی زندگی ہے۔اس کی حیثیت کیا ہے ؟ یہ سوال ایسا تھا جس کا جواب اسے نہ ملا ۔سسرال والوں کو اس کی ملازمت بھی چا ہئے تھی اور اس کا کام بھی ۔اسی طرح شادی کو دو سال گزر گئے ہیں ۔آج پریشان اس لئے ہوں کہ وہ گھر آ ئی تھی اور بضد تھی کہ اسے اب نا صر کے ساتھ نہیں رہنا ۔وہ کہتی ہے کہ مجھے” خلع“چا ہئے ۔اس نے مجھے طلاق تو نہیں دینی اس لئے مجھے ہی کچھ کرنا پڑے گا۔
    خلع کا لفظ ہتھو ڑے کی ما نندبرس رہا ہے ۔سوچ رہی ہوں آ خر اتنی جلدی فرار کا را ستہ کیوں چنا جانے لگا ۔ خلع تو اس وقت لیاجاتا ہے جب کوئی چارہ¿ کار نہ رہے۔ یہ توگرہستن کا سب سے آخری اختیار ہے ، یہ فیصلہ عجلت میں کبھی نہیں کرنا چاہئے ۔ہم نے انہیں سمجھایا ۔ انہوں نے کہاکہ جلدی نہ کہئے ،2سال ہو گئے ہیں ۔آپ پریشان نہ ہوں ۔ایساکیجئے کہ نا صر کوبلا کر اس سے بات کریں،بات نہ بنے تو گھر والوں سے بات کریں ، کوئی نہ کوئی ضرور حل نکل آئے گا۔
    اس بات کو مہینوں گزر گئے ۔مصروفیات کی وجہ سے ملنا بھی نہ ہوا اور ہم بھول بھی گئے ۔ایک دن مال میں ہمیں مسز وقار ملیں ۔ان کے ساتھ ندا اور نا صر تھے ۔ندا نے ایک پیارا سا بچہ ا ٹھا رکھا تھا ۔سب ہی بہت خوش خوش تھے ۔ندا نے بچے کو میری گود میں دیتے ہوئے کہا کہ یہ دیکھئے منا ۔بتا ئیے کس جیسا ہے؟ ہم سوچ ہی رہے تھے کہ فوری بولی مجھے تو نا صر کی کاپی لگتا ہے ۔اس سے تو اس پر اور بھی پیار آ تا ہے۔
    میں نے مسز وقار کی طرف سوا لیہ نظروں سے دیکھا ۔انہوں نے اگلے ہی روز چائے پر بلا لیا ۔کہنے لگیں میں تمہاری مشکور ہوں۔ تمہارے بر وقت مشورے نے معا ملات کو سلجھا دیا ورنہ میرے لئے تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ ندا کی بات مان لیتی۔با ہمی بات چیت سے سارے معا ملات طے پا گئے ۔ندا کو اس کا صحیح مقام بھی مل گیا اور کو ئی نا را ض بھی نہیں ہوا ۔
    سچ ہے کہ ہمارے دوست ہی ہمارے رہنما ہوتے ہیں ۔اچھے اور سمجھدار دوستوں کی مو جودگی میں کئی مسائل کا حل سہل ہو جاتا ہے۔ اسی لئے کیا خوب کہا گیا ہے کہ:
 مرے خدا مجھے لا کھو ں میں چھا نٹ کر دے دے
وہ چند لوگ جو کا نٹوں پہ ساتھ چلتے ہو ں
    اولاد ہر انسان کی کمزوری ہوتی ہے۔ وہ اسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا۔ہمیں ان کی، اورخا ص کر بیٹیوں کی تر بیت کچھ اس انداز میں کرنی چا ہئے کہ وہ بدلتے حالات کا ساتھ دے سکیں۔ما ضی میں ان کی تر بیت بہت دا نشمندی سے کی جا تی تھی ۔باپ، ماں اور بھائی سبھی اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے ۔لڑ کیوںکو ماں باتوں ہی با توں میں یہ ا حساس دلا دیتی تھی کہ ان کی تر بیت پر تو جہ کیوں دی جا رہی ہے ۔اکثر بز رگ کہتے تھے کہ ” بیٹی کو کھلاﺅ سونے کا نوالہ ،دیکھو قصائی کی آ نکھ سے “آج میڈیا نے بظاہر آ زادی کو ہوا دی ہے لیکن حقیقت میں ہم وہیں کھڑے ہیں۔سوال یہ ہے کہ آیا اقدار بھی کبھی بدلی ہیں ؟عورت اور گھر گر ہستی کا چو لی دامن کا ساتھ ہے ۔تعلیم کے ساتھ ساتھ بیٹیوں کو گھر کی ذمہ داری بھی شروع ہی سے سو نپی جا ئے تو وہ خوشی خو شی مستقبل کی ذمہ داریاں سنبھال لیتی ہیں ۔
    بلا شبہ آ ج کی ماں بد لتے حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے بیٹیوں کو تیار کرتی ہے ۔اس کا کہنا ہے کہ انہیں اب شو ہروں کے بد لتے رویوںکے مطابق ڈھالنا ضروری ہے ۔آج کے لڑکے تنک مزاج ہیں ۔انہیں بیوی میں ہی سب رنگ چا ہئیں۔ہم خوش ہیں کہ ہم حقوق کی جنگ جیت چکی ہیں لیکن اس لمبی تگ و دو کے بعد بھی ہم نے پایا کچھ بھی نہیں ۔اہمیت گو کہ تسلیم کی جاتی ہے لیکن حیلے بہانوں سے ۔ہمیں ہر لمحہ ایک خوف کا سا منا رہتا ہے ۔وہ ہے کچھ چھن جانے کا خوف،اپنے کو منوانے کا خوف اور حقوق کا ا حساس دلانے کا خوف۔ہمارا ا صل مقام کوئی نہیں بھو لا ۔
    یورپ کی نقالی نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا ۔ما ضی میں نشیب و فراز کے باوجود کبھی کوئی لڑ کی خلع کا نہیں سو چتی تھی ۔اکثر والدین تلقین کرتے تھے کہ ” بیٹی خوشی خوشی اس گھر میں آ ﺅ گی تو بابل کے دروازے تمہیں کھلے ملیں گے ،ورنہ انہیں بند پاﺅ گی۔“

 

شیئر: