نجران کی کھجوریں: رمضان میں سخاوت اور مہمان نوازی کی علامت
سعودی عرب میں رمضان کے مہینے میں کھجوریں کھانا ایک لازمی جزو سمجھا جاتا ہے اور نجران کا علاقہ خاص طور پر البیاض اور المواکیل جیسی اعلیٰ کھجور پیدا کرتا ہے جنہیں رمضان کے مہینے میں بھرپور مقدار میں خریدا جاتا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق نجران میں پائی جانے والی زبردست کھجوروں میں سے ایک کھجور البیاض ہے جنہیں اُن کا ہلکا رنگ اور مزیدار ذائقہ سب سے منفرد بناتا ہے جنہیں رمضان کی ڈشز میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔
المواکیل کھجوریں اپنی نرمی اور بھرپور ذائقے کے باعث افطار کے وقت کھائی جاتی ہیں اور مہمانوں کو پیش کی جاتی ہیں۔
رمضان کے دوران نجران کے تاریخی شہر ابا السعود میں خریداروں کا رش بہت بڑھ جاتا ہے۔ شہری کئی گھنٹوں کے روزے کے بعد اپنے جسم کو طاقت فراہم کرنے کے لیے کھجوریں خریدتے ہیں جن میں قدرتی شوگر، فائبر، وٹامن اور منرل شامل ہوتے ہیں۔
غذائیت کے فوائد کے علاوہ یہ کھجوریں نجران کی تاریخی سخاوت اور مہمان نوازی کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔
اس خطے میں پانچ لاکھ سے زائد کھجوروں کے درخت 2696 ہیکٹرز اور فارمز پر پھیلے ہوئے ہیں جن سے سالانہ 40 ہزار ٹن کھجور پیدا ہوتی ہے۔
نجران کا معتدل موسم اور زرخیز مٹی اس کے شاندار زرعی نتائج کو سپورٹ کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ کھجوروں کے درختوں کی پیداوار کے لیے وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت کی جانب سے بھرپور تعاون فراہم کیا جاتا ہے تاکہ پروڈکٹ کا معیار قائم رہے اور مارکیٹ کو سہولت ملتی رہے۔
یہ سب سعودی ویژن 2030 سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے جس کا مقصد زراعت کی قومی پیداوار میں اضافہ، فوڈ سکیورٹی کے ہدف کو حاصل کرنا اور زرعی پیداوار کو یقینی بنانا ہے۔
