Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ کا نئے 10 فیصد عالمی ٹیرف کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد امریکہ پہنچنے والی عالمی درآمدات پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے بریفنگ میں بتایا کہ وہ ٹریڈ ایکٹ 1974 کی ایک شق کے تحت نئے ٹیرف عائد کر رہے ہیں اور یہ نئے محصول پہلے سے عائد ٹیکس کے علاوہ مزید وصول کیے جائیں گے۔
یہ نئے ٹیکس کچھ حد تک اُن 10 سے 50 فیصد تک کے ٹیکسوں کی جگہ لیں گے جو 1977 کے ہنگامی معاشی اختیارات کے قانون کے تحت عائد کیے گئے تھے اور جنہیں اعلیٰ عدالت نے غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر کہا کہ انہوں نے تمام ممالک پر ٹیرف نافذ کرنے کے حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں جو فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے۔
امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے ترجمان نے اس سوال پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا کہ بندرگاہوں پر غیر قانونی قرار دیے گئے ٹیرف کی وصولی کب بند کی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ نیا 10 فیصد محصول اور غیر منصفانہ تجارتی طریقوں اور قومی سلامتی سے متعلق قوانین کے تحت ممکنہ اضافی ٹیرف مجموعی طور پر 2026 میں حکومت کو تقریباً اتنی ہی آمدنی دیں گے جتنی پہلے مل رہی تھی۔
انہوں نے فاکس نیوز کو بتایا کہ ’ہم مختلف ممالک کے لیے تقریباً پہلے جتنا ہی ٹیرف واپس لے آئیں گے، بس اسے نافذ کرنے کا طریقہ تھوڑا کم سیدھا اور کچھ زیادہ پیچیدہ ہوگا۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے صدر ٹرمپ کے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ مذاکرات میں اثر و رسوخ کم کر دیا ہے۔
ایک ایسی شق، جو اب تک کبھی استعمال نہیں ہوئی، صدر کو اجازت دیتی ہے کہ وہ بڑے اور سنگین ادائیگیوں کے توازن کے مسائل حل کرنے کے لیے تمام ممالک پر زیادہ سے زیادہ پندرہ فیصد تک ڈیوٹی 150 دن کے لیے عائد کر سکے۔
اس اختیار کے تحت تحقیقات یا دیگر ضابطہ جاتی شرائط کی ضرورت نہیں ہوتی۔
150 دن کے بعد ان ٹیرف کو جاری رکھنے کے لیے امریکہ کی کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ ’ہمارے پاس متبادل راستے موجود ہیں، اور وہ بہترین متبادل ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ممکن ہے اس سے زیادہ رقم حاصل ہو، ہم زیادہ پیسہ وصول کریں گے اور اس سے ہم مزید مضبوط ہوں گے۔‘
یہ 10 فیصد کے ٹیرف صرف پانچ ماہ کے لیے نافذ رہیں گے تاہم صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس دوران ان کی انتظامیہ تحقیقات مکمل کر کے ٹیرف بڑھانے کے لیے اقدامات کر سکے گی۔
اس سوال کے جواب میں کہ مزید تحقیقات کے بعد ٹیرف کی شرح زیادہ ہو گی یا نہیں، امریکی صدر نے کہا کہ ’ممکنہ طور پر زیادہ۔ یہ منحصر ہے۔ جتنا ہم چاہیں گے اتنا ہی ہوگا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ کچھ ممالک ’جنہوں نے برسوں سے ہمارے ساتھ برا سلوک کیا ہے، انہیں زیادہ ٹیرف دیکھنے کو مل سکتے ہیں، جبکہ دیگر کے لیے ٹیرف بہت معقول رہیں گے۔‘

 

شیئر: