قصر آل حابش جو اپنے قیام اور قومی شناخت کی داستان بیان کرتا ہے
محل میں آٹھ مکانات ہیں اور اس کا رقبہ تین ہزار سکوائر میٹر ہے (فوٹو: ایس پی اے)
الباحہ کے علاقے میں قلعے اور تاریخی محلات، ایک زندہ یاد کو محفوظ رکھے ہوئے ہیں اور ان مواقع اور تقاریب کی جھلک دکھانے کے ساتھ ساتھ، مملکت کی تعمیر کے مراحل اور ترقی کی جانب انقلابی تبدیلی کے گواہ بھی ہیں۔
دفاعی مقاصد کے لیے بنائے جانے والے یہ قلعے اور محلات ایک مخصوص طرزِ تعمیر کی یادگار بھی ہیں۔ بالکل اُسی طرح وہ مکانات، مساجد اور وہ قلعہ نما رہائشی عمارتیں بھی اس میراث کی یاد دلاتی ہیں جن کی چھتیں، ستون اور عمارتوں کے کچھ حصے مقامی چیزوں جیسے پتھر، لکڑی اور ریت سے تیار کے گئے تھے۔
سعودی ورثے کی نمائندہ ان سبھی عمارتوں کا، روایت، رواج اور آرٹ کے ساتھ تال میل بہت اچھا رہا ہے اور قومی شناخت کا ایک بنیادی حصہ بن چکا ہے۔
انہی عمارتوں کو دیکھ کر اس زمانے کی ثقافتی اور سماجی رنگا رنگی کا پتہ چلتا ہے اور ان کی وجہ سے ہی قومی معیشت کی قدر میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ اب مملکت کے اندر اور باہر سے سیاح یہاں کے گاؤں دیہات دیکھنے کے لیے کھنچے چلے آتے ہیں۔
ہیریٹج کمیشن کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ الباحہ ریجن میں آثارِ قدیمہ کی 313 سائٹس ہیں جبکہ فنِ تعمیر کے ورثے کی سائٹس کی تعداد 2634 ہے۔
خطے میں رہنے والوں کے آباو اجداد کے ہاتھوں سے اونچی نیچی زمینوں اور مختلف موسمی حالات کے سائے میں بننے والے ان دیہات اور اب آثارِ قدیمہ میں شمار کی جانے والی یہاں کی عمارتوں نے اِس خطے کو ورثے میں مالا مال بنا دیا ہے۔
انہی سائٹس میں تاریخی ’قصرِ آل حابش‘ بھی ہے جو بلجرشی گورنریٹ میں بنی سالم کے گاؤں میں اپنی شان و شوکت کے ساتھ قائم ہے۔ اس محل کی تاریخ بھی طویل ہے۔

محل کی چار دیواری اور کمرے، مٹی سے بنی اینٹوں سے تیار کیے گئے ہیں۔ ان کمروں میں کبھی لوگ جمع ہوا کرتے تھے اور مشاورت کی نشستیں منعقد ہوتی تھیں جن کی آوازوں کی گونج شاید آج بھی ان کمروں میں کہیں محفوظ ہو۔
عبداللہ الحابش نے سعودی پریس ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ محل کا نام، اس کے مالک صالح بن مسفر بن حابش الغامدی کے نام پر رکھا گیا تھا۔ حابش 1173 ہجری میں پیدا ہوئے تھے اور وہ ستاون برس تک زندہ رہے۔
عبداللہ الحابش نے بتایا کہ یہ محل ایک زمانے میں ایک ایسے مرکز کا کام دیتا تھا جس میں رہائش گاہیں، مہمان خانے اور تحفظ کے لیے خصوصی مقامات بھی تھے۔

اس محل میں آٹھ مکانات ہیں اور اس کا رقبہ تین ہزار سکوائر میٹر ہے۔ محل میں مہمانوں کے لیے ایک کشادہ ہال بھی ہے جہاں نہ صرف مہمان بلکہ مختلف وفود بھی آیا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ محل میں دفاعی عمارت اور اہلِ خانہ کے لیے علیحدہ حصہ بھی تھا۔
اصلی النسل گھوڑوں کے لیے اس محل میں اصطبل بھی ہے، اندر کنواں ہے جس سے پانی حاصل کیا جاتا اور خدمات کے لیے کئی جگہیں بنائی گئی تھیں جو محل کی تعمیر سے پہلے عمدہ منصوبہ بندی اور تعمیر کے دوران بہترین مہارتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔