”انکوائریوں سے گرفتایوں سے، سزاﺅں سے عوامی مسائل حل نہیں ہوتے“

ڈاکٹر انیلا صفدر۔ الخبر
 
کہا جاتا ہے کہ کسی بھی معاشرے اور ریاست کی پہچان اس کے ادارے اور ان اداروں کا انتظام وانصرام سے ہوتی ہے اور قانون کی بالادستی اور اس کی پاسداری سے ریاست میں انصاف کے تقاضے پورے ہوتے ہیں۔جہاں انصاف ہو وہاں نقص امن اور بے ایمانی کا سوچا بھی نہیں جا سکتا اور پھر راوی ہر سو ہر جاہ چین ہی چین لکھتا ہے۔
     اتنے حسین و جمیل خیالات آخر کیونکر اس ناقص کارکردگی والے دماغ میں انگڑائیاں لینے لگے ہیں کیونکہ آجکل ریاستی کیا، ملکی کیا، بین الاقوامی حالات بھی گوناگوں مشکلات کا شکار ہیں۔ کبھی سوچ کر اور دیکھ کر ہی خوف آ جاتا تھا جب کسی ملک کے سربراہ کو کرپشن کے الزام میں دھر لیا جاتا تھا اور آج راوی کیا کہے کہ وہ بے چین ہی بے چین ہے ۔ گویا:
”سانوں اک پل چین نہ آوے، وے ٹی وی تیرے بنا“
    ٹی وی ہی تو ایک ایسی مشین ہے جو ہمیں لگائے رکھتی ہے، الجھائے رکھتی ہے، بہلائے رکھتی ہے، ہمارے ہوش ٹھکانے لگائے رکھتی ہے۔ زندگی کے میلوں جھمیلوں اور کھیلوں میں ہمارا حصہ دلوائے رکھتی ہے۔آج کل کے ٹاک شوز میں دیکھیں تو سیاست دانوں ،تجزیہ نگاروں اور ماہرین کو بٹھا کر بہت خوش اسلوبی سے نہایت احتیاط اور احسن طریقے سے لڑوایا جاتا ہے۔بس ایک دن ایک منجھے ہوئے تجربہ کار سیاستدان کو کچھ کہتے سنا۔ ایک بار سنا، دوبار سنا، جیسے جیسے سنتے ، حیرت بڑھتی جاتی ۔پھر روز سننا شروع کیا۔ پھر روز نہیں بار بار سنا اور سن کے بہت سوچا کہ ایسا کہنے کا مطلب کیا ہے اور اس کا ہمارے معاشرے، ہماری ریاست اور عوام الناس پر کیا اثر پڑے گا، آپ بھی پڑھئے:
    ”انکوائریوں سے گرفتایوںسے اور سزاﺅں سے عوامی مسائل حل نہیں ہوتے۔“ایک منجھے ہوئے سیاستدان نے اپنے لیڈر کی حمایت میں یہ جملہ بولا اور میں ایک مدت تک اسی سوچ میں رہی کہ اگر اس بات کا اطلاق عام یعنی عوام الناس پر بھی کر دیا جائے تو راوی کو چین ہی چین نظر آئے گا ۔کوئی بات نہیں کہ کسی نے غصے میں آ کر بھڑک کر کسی کا ہاتھ پاو¿ں توڑ دیا، کسی کو ایسی چوٹ لگی کہ وہ مفلوج ہو گیا اور کیا ہوااگر کسی کی جان چلی گئی ،چاہے وہ گھر کا اکلوتا کفیل ہو ۔ارے چوری چکاری غنڈہ گردی مار دھاڑ کیا فرق پڑتاہے۔کیا خواہ مخواہ میں جیلیں بھری ہوئی ہیں ۔پولیس، اسپیشل فورس، رینجرز ، آرمی یہ سب کیا کرتے پھر رہے ہیں؟ عوام کو کھلا چھوڑ دیا جائے ۔کیا ضرورت پڑی ہے انکوائریوں کی ،مجرموں یا مشکوک لوگوں کو پکڑنے کی، سزائیں دینے کی،دنیا پاگل ہے جو قانون کی بالادستی چاہتی ہے اور اداروں کی کمزوری اس وقت ثابت ہوتی ہے جب انصاف نہیں ہوتا ۔حق دار کو اس کا حق نہیں ملتا جس سے معاشرے میں انتشار پیدا ہوتا ہے اور اس انتشار سے لوگ منتشر ہونے لگتے ہیں ۔ یہی ہمارے ملک کے ساتھ ہوا اورہمارے ملک میں بھی یہی ہو رہاہے ۔
    یہ سوچنے کا وقت ہے کہ جو لوگ ملک میں انصاف کے حامی نہیں وہ ملک کے ساتھ مخلص کیسے ہو سکتے ہیں۔ہم نے اخلاص کا اچار ڈالنا ہے ؟اپنی مرضی سے زندگی جئیں۔ قانون کا کیا ہے ،ہماری نسلیں بھگت لیں گی۔
 

شیئر: