Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مشرق وسطیٰ میں سیاحت کی صنعت کو جنگ نے کیسے متاثر کیا ہے؟

دنیا بھر میں ٹور آپریٹرز اس وقت خطے میں پھنسے ہوئے یا وہاں سفر کا منصوبہ بنانے والے سیاحوں کے لیے متبادل انتظامات کرنے میں مصروف ہیں۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
منسوخ شدہ پروازیں، ملتوی کیے گئے سفر اور غیریقینی صورتحال—مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے اس خطے کی سیاحتی صنعت پر گہرے سایے ڈال دیے ہیں، جو حالیہ برسوں میں دنیا بھر کے مسافروں کے لیے ایک اہم اور مقبول منزل بن چکی تھی۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اردن کے شمالی شہر اربد کے قریب سیاحتی رہنما نزیہ رواشدہ نے بتایا کہ ’میرا آخری سیاحتی گروہ تین دن پہلے روانہ ہوا، جبکہ مارچ کے لیے طے شدہ باقی تمام گروپ منسوخ ہو چکے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ یہاں سیاحت کے عروج کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ صورت حال تباہ کن ہے۔ حالانکہ اردن میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہاں سب ٹھیک ہے۔‘
دنیا بھر میں ٹور آپریٹرز اس وقت خطے میں پھنسے ہوئے یا وہاں سفر کا منصوبہ بنانے والے سیاحوں کے لیے متبادل انتظامات کرنے میں مصروف ہیں۔
فرانسیسی ٹور آپریٹر کمپنی کے صدر ایلین کیپیسٹن نے کہا کہ ’اس وقت ترجیح یہ ہے کہ جو لوگ پہلے ہی وہاں موجود ہیں انہیں بحفاظت واپس اپنے گھروں تک پہنچایا جائے۔‘
انہوں نے بتایا کہ جنگ کے اثرات ان مسافروں پر بھی پڑ رہے ہیں جو دنیا کے دیگر حصوں کا سفر کر رہے ہیں، کیونکہ خلیجی خطہ عالمی ہوابازی کے بڑے مراکز، دبئی، ابوظہبی اور دوحہ، کا گھر ہے۔
جرمن ٹور آپریٹرز آل ٹورز، ڈیر ٹور اور شاؤانس لینڈ ریزن نے اعلان کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پھنسے ہوئے اپنے صارفین کے اضافی قیام کے اخراجات وہ خود برداشت کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات اور عمان کے سفر کم از کم سات مارچ تک منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
سوئس کمپنی ایم ایس سی کروزز، جس کا ایک جہاز دبئی میں رکا ہوا ہے، نے جمعرات کو بتایا کہ وہ تقریباً ایک ہزار مسافروں کو نکالنے کے لیے پانچ چارٹر پروازیں بھیج رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق توقع ہے کہ سنیچر تک تمام مسافر خطے سے نکل جائیں گے، تاہم پروازوں کی منزلوں یا مسافروں کی قومیت کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے اس خطے کی سیاحتی صنعت پر گہرے سایے ڈال دیے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

برطانوی ٹریول انڈسٹری ایسوسی ایشن اے بی ٹی اے نے کہا کہ سفری ایجنسیاں اس وقت تک اپنے صارفین کو اس خطے میں نہیں بھیجیں گی جب تک برطانوی دفتر خارجہ غیرضروری سفر سے گریز کی ہدایت واپس نہیں لیتا۔
ایسوسی ایشن کے مطابق جن صارفین کی چھٹیاں حالیہ دنوں میں منسوخ ہوئی ہیں وہ دوبارہ بکنگ کرا سکتے ہیں یا رقم واپس لے سکتے ہیں۔

معاشی اثرات

جنگ نے اس شعبے کو متاثر کیا ہے جو حالیہ برسوں میں تیزی سے ترقی کر رہا تھا۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سیاحت کے مطابق سنہ 2025 میں تقریباً 10 کروڑ سیاحوں نے مشرقِ وسطیٰ کا رخ کیا، جو دنیا بھر میں ریکارڈ کیے گئے بین الاقوامی سیاحوں کا تقریباً سات فیصد بنتے ہیں۔ یہ تعداد گذشتہ برس کے مقابلے میں تین فیصد اور وبا سے پہلے کے دور کے مقابلے میں 39 فیصد زیادہ تھی۔
مختلف ممالک کے مطابق یورپی سیاحوں کی تعداد زیادہ ہے، جن کے بعد جنوبی ایشیا، امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک سے آنے والے سیاح شامل ہیں۔
مثال کے طور پر دبئی کی وزارت سیاحت و معیشت کے مطابق سنہ 2025 میں قریبی منڈیوں سے آنے والے سیاح مجموعی وزیٹرز کا 26 فیصد تھے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سیاحت کے مطابق سنہ 2025 میں تقریباً 10 کروڑ سیاحوں نے مشرقِ وسطیٰ کا رخ کیا۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)

اس تناظر میں آکسفورڈ اکنامکس کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ’خطے میں سیاحوں کی آمد میں کمی ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید معاشی نقصان کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ اب سیاحت کا جی ڈی پی میں حصہ اور اس شعبے میں روزگار دونوں بڑھ چکے ہیں۔‘
مشرقِ وسطیٰ ٹریول الائنس کے مارکیٹنگ ڈائریکٹر ابراہیم محمد نے کہا کہ اس وقت شراکت داروں کی جانب سے نئی بکنگ میں کمی واضح طور پر دیکھی جا رہی ہے، تاہم انہیں یقین ہے کہ حالات بہتر ہوتے ہی طلب دوبارہ بڑھ جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ’مشرقِ وسطیٰ ہمیشہ ایک انتہائی مضبوط مارکیٹ رہی ہے، اور جیسے ہی استحکام واپس آتا ہے سیاحت کی طلب بھی تیزی سے بحال ہو جاتی ہے۔‘

 

شیئر: