’تہران آسیب زدہ شہر کا منظر پیش کر رہا ہے،‘ ایران سے آنے والے پاکستانیوں نے کیا دیکھا؟
’تہران آسیب زدہ شہر کا منظر پیش کر رہا ہے،‘ ایران سے آنے والے پاکستانیوں نے کیا دیکھا؟
جمعرات 5 مارچ 2026 16:50
ایران سے واپس آنے والے پاکستانیوں نے تہران میں ہونے والے دھماکوں اور میزائل حملوں کی آنکھوں دیکھی تفصیل بیان کی ہے۔ ان کے مطابق زمین ان کے قدموں تلے لرز رہی تھی اور شہر کی کئی عمارتیں آگ اور دھویں کی لپیٹ میں تھیں، اور شہر خالی ہو چکا تھا۔
یہ تنازع پوری شدت سے پھیلا، اور بدھ کو ایک امریکی آبدوز نے سری لنکا کے نزدیک ایرانی جنگی جہاز اور نیٹو کے فضائی دفاعی نظام نے ترکی کی طرف داغے گئے ایک ایرانی میزائل کو تباہ کر دیا۔
حکومتیں خطے میں پھنسے ہوئے اپنے شہریوں کے انخلا کی کوششیں کر رہی ہیں، جبکہ خطے کی بیشتر فضائی حدود بند ہیں کیونکہ مسافر طیاروں پر میزائل حملوں کا خطرہ ہے۔
تہران یونیورسٹی آف انجینیئرنگ میں زیرِتعلیم 23 برس کی طالبہ حریم زہرہ نے ایران سرحد عبور کرنے کے بعد پاکستان علاقے میں برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ اس وقت کلاس روم میں تھیں جب ایک طاقتور دھماکے نے ہماری یونیورسٹی کی عمارت کو لرزا دیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے دیکھا کہ بہت سی عمارتوں سے گہرا سیاہ دھواں اُٹھ رہا تھا جو جل رہی تھیں۔میں جب واپسی کے لیے روانہ ہوئی تو تہران پر حملہ جاری تھا۔‘ تہران ویران دِکھائی دیا
پاکستان کے ایران میں سفیر مدثر ٹیپو نے کہا ہے کہ ’جنگ شروع ہونے کے بعد سے قریباً ایک ہزار پاکستانی طالب علم، تاجر اور زائرین ایران چھوڑ چکے ہیں، جبکہ اس وقت ایران میں مجموعی طور پر 35 ہزار پاکستانی موجود ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اس وقت سنگین چیلنجز ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ایران کے زیادہ تر حصوں میں انٹرنیٹ دستیاب نہیں ہے۔‘
ایران نے ہفتے کو امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد جن میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے، اسرائیل اور خلیج میں واشنگٹن کے اتحادی ممالک، جن میں قطر، کویت، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب شامل ہیں، کو ہدف بناتے ہوئے بیلسٹک میزائلوں سے بھرپور جوابی ردِعمل ظاہر کیا ہے۔
ایرانی دارالحکومت کی ایک یونیورسٹی میں فارسی ادب کے طالب علم 25 برس کے نادر عباس نے کہا کہ ’تہران جنگ کے آغاز کے بعد سے ویران دکھائی دے رہا ہے۔‘
پاکستانی سفیر کے مطابق ’اس وقت ایران میں مجموعی طور پر 35 ہزار پاکستانی موجود ہیں‘ (فوٹو: اے ایف پی)
’میں نے دیکھا کہ ایک ڈرون نے باسکٹ بال کورٹ پر حملہ کیا جس میں چھ خواتین کھلاڑی جان کی بازی ہار گئیں۔‘
روئٹرز ان کے اس بیان کی تصدیق نہیں کر سکا۔ ہر طرف تباہی ہی تباہی تھی
اسلام آباد کے لیے موجودہ حالات سفارتی طور پر آسان نہیں ہیں کیونکہ وہ ایک جانب تو واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں گرم جوشی برقرار رکھے ہوئے ہے جبکہ ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی کر رہا ہے۔
تہران یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے ایک طالب علم سخی عون محمد نے کہا کہ ’پہلا حملہ میرے ہسپتال کے بالکل پاس ہوا۔‘
وہ جب پاکستان ایران سرحد پر پہنچے تو ایک ایرانی دوست نے یہ جاننے کے لیے ان کو فون کیا کہ وہ محفوظ ہیں یا نہیں، اور کہا کہ ’الحمدللہ، تم پاکستان پہنچ گئے، تم سب اب محفوظ ہو، لیکن تمہارے ہاسٹل پر حملہ ہوا ہے۔‘
تہران میں موجود ایک پاکستانی سفارت کار کا کہنا ہے کہ ’ہر چار یا پانچ گھنٹے بعد حملے ہوتے ہیں، اور ایک میزائل ان کے دفتر کے بالکل پاس ایک عمارت پر لگا۔‘
’کبھی کبھی تو آپ کو یوں محسوس ہوگا کہ جیسے میزائل آپ کے پیروں کے بالکل قریب پھٹا ہو۔ میں آخری بار جب رات کو باہر نکلا تو بہت سی عمارتیں گِر چکی تھیں، کچھ دیگر جل رہی تھیں۔ ہر طرف تباہی ہی تباہی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’پورا شہر آسیب زدہ دکھائی دے رہا ہے۔‘