”گولان “ خود ضائع کیا، الزام ہمارے سر کیوں؟

محمد الساعد ۔ عکاظ
سوال یہ ہے کہ گولان کیا اس قدر اہم ہے کہ اس پر اس قدر شورو ہنگامہ برپا ہو۔ کیا گولان کی شامی پہاڑیاں مسئلہ فلسطین کے حل کی کلید بن سکتی ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ اس میں ذرہ برابر شک نہیں۔گولان کا اسٹریٹیجک محل وقوع شام ، لبنان ، اردن اور اسرائیل چار ممالک کے ساتھ اس کی جغرافیائی ہیئت ہی نے گولان کو خطے کے مسائل کے حوالے سے نقطہ عروج پر پہنچا دیا اور تمام مسائل کے حل کی مطلوبہ کنجی کا درجہ دے دیا ہے۔
اہم ترین سوال یہ ہے کہ اگر گولان کے اصلی باشندوں ’درزیوں‘ نے دمشق سے گولان کی خودمختاری کا مطالبہ کردیا یا انہوں نے گولان کو اسرائیل کی عملداری میں شامل کرنے کا نعرہ بلند کردیا تو کیا ہوگا؟ شام کے ناگفتہ بہ حالات اور نو برس سے جاری وہاں خونی کشمکش نیز شام کے حصے بخرے ہونے کے خطرات کے تناظر میں ایسا ممکن ہے۔ ویسے بھی اسرائیل سے درزیوں کے تعلقات بڑے گہرے ہیں۔
درزی اسرائیلی ریاست کا 10فیصد ہیں۔ یہ اسرائیلی ریاست کے قیام سے متعلق کٹر یہودیوں کے بیانیے اور ان کے تصور کو اپنائے ہوئے ہیں۔ جہاں تک اسرائیلی فوج میں درزیوں کی موجودگی کی بات ہے تو یہ کافی پرانی ہے۔ دسیوں ہزار درزی اسرائیلی فوج کا حصہ ہیں۔ فلسطینیوں کا نمبر ان کے بعد آتا ہے۔ یہ بھی اسرائیلی فوج میں شامل ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ گولان کے مستقبل کی بابت مذکورہ پیش منظر کا رشتہ بڑا گہرا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے گولان پر اسرائیل کی بالا دستی تسلیم کرنے کے بعد یہ تاثیر مزید پختہ ہوگیا ہے۔اگر اسرائیل میں شمولیت یا شام سے خودمختاری کی بابت درزیوں سے استصواب رائے کرایا گیا تو منظر نامہ یکسر مختلف ہوگا۔
یہا ں میں نویں عشرے کے دوران شامی اسرائیلی مذاکرات کے نتائج کی یاد دہانی کرانا چاہوں گا۔ اسرائیل اور شام کے درمیان امن مذاکرات ایسی منزل میں داخل ہوچکے تھے جسے ’شام کی فیصلہ کن فتح‘ کا نام دیا جاسکتا ہے۔ اسرائیل شام کو گولان کی پہاڑیاں دینے پر رضامند ہوگیا تھا۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے یہاں اپنے سفارتخانے کھولنے کی بات کرنے لگے تھے تاہم آخری لمحے میں صرف 300 میٹر پر گفت و شنید نے فریقین کے اصل معاہدے کو کھٹائی میں ڈال دیا تھا۔ کہہ سکتے ہیں کہ شامی مذاکرات کاروں کی کوتاہ نظری نے مذاکرات کے ذریعے گولان کی بازیابی کو ٹھیک اسی طرح گنوا دیا جیسا کہ شامی20برس قبل گولان کو جنگ میں ہار گئے تھے۔ 
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگ خلیج ختم ہونے پر سنہ 1991 میں عربوں اور اسرائیلیو ںکے درمیان میڈرڈ میں امن مذاکرات شروع ہوئے تھے۔ ان میں چھ خلیجی ممالک کی نمائندگی (جی سی سی) اور دیگر عرب ممالک کی ترجمانی (عرب لیگ) کررہی تھی۔ علاوہ ازیں اسرائیل کے ساتھ برسر پیکار شام ، لبنان ، فلسطین اور مصر کی حکومتوں کے نمائندے مذاکرات میں شریک تھے۔اسرائیل اور شام، گولان سمیت تمام مقبوضہ شامی علاقوں سے انخلا پر متفق ہوگئے تھے۔ آخری لمحے کے اختلاف نے سارا معاملہ گڑبڑ کردیا تھا۔ ’طبریا جھیل‘ کے پانی پر اختلاف معاہدہ کی راہ میں حائل ہوگیا تھا۔دراصل ہوا یہ تھا کہ دو عشروں تک ناجائز قبضے کے دوران طبریا جھیل کا پانی خشک ہوگیا۔ جھیل کے پانی کا دائرہ 300 میٹر تک محدود ہوگیا تھا۔ پانی خشک ہونے سے اچھا بڑا علاقہ سامنے آگیا۔ شام نے مطالبہ کیا کہ ان کے ملک کی سرحدیں طبریا جھیل کے موجودہ پانی تک ہوں گی۔
اسرائیل نے کہا کہ شام کی سرحدیں طبریا جھیل خشک ہونے سے پہلے والے آبی علاقے تک محدود ہوں گی۔اس سے قبل دونوں ملکوں کے مذاکرات کار اہم اقتصادی، سیاسی معاہدوں اور تحفظ امن کی تدبیر کے سمجھوتے کے قریب پہنچ گئے تھے۔ شامی مذاکرات کاروں نے سب کچھ قبول کرلیا تھا۔ انہوں نے تسلیم کرلیا تھا کہ گولان کے چپے چپے پرسراغ رساں کیمروں سے آراستہ نظام نصب کیا جائے گا تاکہ کسی بھی ممکنہ فوجی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاسکے۔ یہ بھی طے پاگیا تھا کہ شام ٹینک، توپ خانوں اور لڑاکا طیاروں سے پاک علاقہ قائم کرے گا۔ یہ شام، اسرائیل سرحدی علاقے سے لے کر 80کلو میٹر تک ہوگا۔ اس کا دائرہ دمشق تک جارہا تھا۔ یہ بھی طے ہوا تھا کہ شام ، تل ابیب اور اسرائیل دمشق میں اپنا سفارتخانہ کھولے گا۔ سفارتکاروں کا تبادلہ ہوگا۔ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور لبنان میں اس کا عسکری کردار مکمل طور پر ختم کرنے کا بھی معاملہ طے پاگیا تھا۔
ایسے عالم میں جبکہ شام تل ابیب کے حق میں اپنے مذکورہ حقوق سے دستبردار ہوگیا تھا۔ الجزیرہ چینل گولان گنوانے کا الزام سعودی عرب پر لگا رہا ہے۔ تاریخ یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرے گی کہ اہل شام ہی نے جنگ و امن ہر حال میں گولان پہاڑیوں کو گنوایا۔ تاریخ یہ سچائی بھی ہمیشہ یاد رکھے گی کہ سعودی عرب نے سنہ 1967 کی جنگ میں گولان کے دفاع کے لیے اپنے جیالے بھیجے تھے جنہوں نے گولان کے لیے جان کے نذرانے پیش کیے تھے۔ آج بھی سعودی گولان کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔
آج کل خطے کے ا سٹریٹیجک حل کی کنجیوں میں گہری تبدیلیوں کے بعد گولان کا مسئلہ سیاسی منظرنامے میں سرفہرست ہے۔ اس کا سبب کیا ہے؟اس کا ایک اہم سبب تو شام، مصر اور لیبیا میں قومی ریاست کا فقدان ہے اور دوسرا سبب عراق اور شام میں عربوں کی عسکری طاقت کا انحطاط یا زوال ہے۔ تیسرا سبب یہ ہے کہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان حل کا معاملہ چند میٹر کی تفصیلات پر منحصر ہے۔ چوتھا سبب یہ ہے کہ ایک فریق کی آبادی دوسرے فریق کی آبادی سے گھل مل گئی ہے۔ ایسے عالم میں گولان کی پہاڑیاں ہی زمین کے تبادلے کا متبادل حل ہوسکتی ہیں۔ گولان کی پہاڑیاں ہی فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان مسلسل جھڑپیں بند کرانے کی نظریاتی مصالحت فارمولا ہوسکتی ہیں۔ممکن ہے یہی مستقبل قریب میں زمینی حقیقت بن جائے؟
٭٭٭٭٭٭٭٭ 

شیئر: