Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’’مضبوط اعصاب‘ ‘اور’’اعلیٰ اخلاقی کردار‘‘ والے جلاد کی تلاش

سری لنکن حکومت گزشتہ کئی برسوں سے سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کو پھانسی دینے کے لیے ایسے جلادوں کو بھرتی کرنے کی کوشش میں ہے جنہیں کسی کو موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے خوف محسوس نہ ہو، لیکن سینکڑوں جلادوں کے انٹرویوز کرنے کے بعد بھی اسے ناکامی کا سامنا رہا ہے۔
گزشتہ چند برسوں سے سری لنکن روزناموں میں’ ’دماغی طور پر مضبوط‘‘ اور ’’اچھے اخلاقی کردار‘‘ کے مالک جلاد وں کوڈھونڈنے کے لیے نوکری کے اشتہارات دیے جا رہے ہیں، مگر کبھی جلاد میرٹ پر پورے نہیں اترتے اور جو معیار پرپورے اترتے ہیں وہ پھانسی گھاٹ کو بس ایک نظردیکھ کر ہی نوکری سے استعفی دے دیتے ہیں۔ سری لنکا میں قتل، زنا باالجبر اور منشیات کے جرائم میں ملوث سزائے موت کے قیدیوں کی تعداد 11,00 سے زائد ہے  لیکن پھانسی دینے کے لیے ایک جلاد بھی میسر نہیں ہے، لہذا موت کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سری لنکن حکومت43 برس بعد پھانسی کی سزا کو بحال کر رہی ہے ۔
فروری میںعوام کے ساتھ ایک ٹیلی وژن خطاب میں سری لنکا کے صدر میتھری پالا سری سینا نے اعلان کیا تھا وہ فلپائن کی منشیات کے کاروبار میں ملوث افراد کو پھانسی دینے کی پالیسی سے متاثر ہو کر اپریل میں پھانسی پر پابندی کو ختم کر رہے ہیں۔
اس کے بعد اخبارات میں اشتہارات دینے کا سلسلہ شروع ہوا،اور فروری سے اپریل تک ایسا ہوا کہ درخواستیں دینے والے  102 امیدواروں میں سے 47 کے انٹرویوز ہوں گے اوران میں سے دو ایسے جلادوں کو منتخب کیا جائے گا جن کے اعصاب’ مضبوط‘ ہوں اور وہ’اعلی اخلاقی کردار‘ کے بھی حامل ہوں یعنی کسی کوپھانسی دیتے ہوئے نہ تو ان ہاتھ لرزیں اور نہ ہی وہ پھانسی دیے بغیر نوکری چھوڑ کر جانے والے ہوں۔
 اے ایف پی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سری لنکن جیل حکام نے بتایا کہ ’سری لنکا میں ایک بھی ایسا شخص نہیں ہے جس نے کبھی پھانسی دی ہو، لہذا ہم نئی بھرتیوں کو ٹریننگ کے لیے بیرون ملک بھیجیں گے ، لیکن یہ فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے کہ انہیں کس ملک میں بھیجا جائے۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’2015 میں پھانسی دینے کے لیے درآمد کیے جانے والا رسا ابھی تک استعمال نہیں ہوا ہے اور اس کی بھی جانچ پڑتال ہونا باقی ہے ۔‘
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ پھانسی کی سزا بحال کرنے سے منشیات کے کاروبار پر قابو نہیں پایا جا سکتا اور ہو سکتا ہے کہ سری لنکا کے قانونی نظام میں سقم ہونے کی وجہ سے بے گناہوں کو پھانسی کے گھاٹ اتارنے کا سلسلہ شروع ہو جائے۔
 

شیئر: