لیبیا کی فوج طرابلس کے قریب پہنچ گئی، طاقت مسئلے کا حل نہیں، عالمی برادری

طرابلس ۔۔ ۔ لیبیا کی قومی فوج دارالحکومت طرابلس کے قریب پہنچ گئی 30کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنا باقی ہے۔ عالمی برادری نے خبردار کیا ہے کہ بحران فوجی طاقت کے بل پر حل نہیں ہوگا۔ طاقت کے استعمال سے انارکی پھیلے گی۔
دریں اثناءامریکہ، فرانس، برطانیہ ، اٹلی اور متحدہ عرب امارات نے لیبیا کے شہر غریان کے اطراف لڑائی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام برسر پیکار فریقوں سے جنگ میں شدت پیدا کرنے سے باز رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکی دفتر خارجہ نے 5ممالک کی طرف سے مشترکہ اعلامیہ جاری کرکے توجہ دلائی کہ لیبیا انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ وہاں یکطرفہ فوجی کارروائی مہم جوئی کے سواکچھ نہیں ہوگی۔ لیبیا انارکی کے سمندر میں گر جائیگا۔ ہمیں یقین ہے کہ لیبیا کی کشمکش کو فوجی طاقت کے بل پر حل نہیں کیا جاسکتا۔
برطانیہ نے لیبیا سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرلیا۔ آج کسی وقت اجلاس ہوگا۔لیبیا میں تیزی سے آنے والی عسکری تبدیلیوں پر غوروخوض کیا جائیگا۔
اس سے قبل اطلاع آئی تھی کہ لیبیا کی افواج نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب طرابلس کے مغربی گیٹ سے 27کلو میٹر دور واقع ایک فوجی چھاﺅنی پر قبضہ کرلیا۔
لیبیا کی فوج میں مغربی ریجن آپریشن روم کے کمانڈر میجر جنرل عبدالسلام الحاسی نے بتایا کہ انکی فوج نے کسی لڑائی کے بغیر فوجی چھاﺅنی کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
لیبیا کی افواج کے کمانڈر فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر نے طرابلس کو آزاد کرانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ”ظالم عناصر“ نے طرابلس میں جبر و تشدد کی انتہا کردی۔ حفتر نے فوج سے کہا کہ وہ طرابلس میں صرف اسلحہ برداروں کے خلاف کارروائی کرے۔ جو شخص بھی ہتھیار ڈال کر سفید پرچم بلند کردے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے ۔
 لیبیا کی فو ج کے ترجمان میجر جنرل احمد المسماری نے اطمینان دلایا کہ شہریوں کا تحفظ اور انکی سلامتی کو یقینی بنانا فوج کا اہم نصب العین ہے۔ مختلف میٹنگوں میں اس کی تفصیلات بھی زیر بحث آچکی ہیں۔ المسماری نے اسکائی نیوز سے گفتگو میں کہاکہ شہروں کے اندرجھڑپوں کے قاعدوں ضابطوں کی پابندی کی جارہی ہے اور کی جاتی رہیگی۔
 
 

شیئر: