اسرائیل نے غزہ اور مصر کے درمیان واقع رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے تاہم یہ بحالی محض محدود پیمانے پر ہو گی جس کا مقصد صرف فلسطینی باشندوں کو گزرنے کی اجازت دینا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فلسطینی شہری امور سے متعلق اسرائیلی وزارت دفاع کے ادارے ’کوگاٹ‘ نے اتوار کو اپنے بیان میں کہا ہے کہ جنگ بندی معاہدے اور سیاسی قیادت کی ہدایات کی روشنی میں رفح کراسنگ کو آج سے صرف رہائشیوں کی محدود آمد و رفت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس سلسلے میں ایک ابتدائی پائلٹ مرحلے کا آغاز کیا گیا ہے جو یورپی یونین بارڈر اسسٹنس مشن، مصر اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ ہم آہنگی سے جاری ہے۔
مزید پڑھیں
-
اسرائیل کے غزہ پر فضائی حملے، خواتین اور بچوں سمیت 30 ہلاکNode ID: 900126
رفح کراسنگ کی یہ جزوی بحالی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ابھی تک فلسطینی علاقوں میں تشدد کا سلسلہ تھما نہیں ہے۔
غزہ کے سول ڈیفنس حکام کے مطابق سنیچر کو اسرائیلی حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے جبکہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے جواب میں کی گئیں۔
رفح کراسنگ غزہ کے شہریوں اور امداد کی ترسیل کے لیے ایک شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے لیکن مئی 2024 میں حماس کے خلاف جنگ کے دوران اسرائیلی افواج کے قبضے کے بعد سے یہ بند پڑی تھی۔
اگرچہ سنہ 2025 کے اوائل میں اسے مختصر وقت کے لیے کھولا گیا تھا لیکن مجموعی طور پر یہ گزرگاہ بند ہی رہی۔
اسرائیل نے اس سے قبل واضح کیا تھا کہ وہ کراسنگ کو تب تک نہیں کھولے گا جب تک غزہ میں موجود آخری اسرائیلی یرغمالی ران گویلی کی باقیات واپس نہیں کر دی جاتیں۔
چند روز قبل ران گویلی کی باقیات برآمد ہونے کے بعد بدھ کو اسرائیل میں ان کی تدفین کر دی گئی جس نے اس سفارتی رکاوٹ کو دور کیا۔
حکام کے مطابق آمد و رفت مصر کے ساتھ ہم آہنگی، اسرائیل کی جانب سے افراد کی سکیورٹی کلیئرنس اور یورپی یونین مشن کی نگرانی میں ہو گی۔ تاہم اب بھی بہت سی تفصیلات واضح ہونا باقی ہیں جیسا کہ روزانہ کتنے لوگوں کو جانے کی اجازت ملے گی اور کیا غزہ واپس آنے والوں کو بھی داخلہ ملے گا یا نہیں۔
کراسنگ پر موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ فی الحال اسے آزمائشی بنیادوں پر زخمیوں کے لیے کھولا گیا ہے تاکہ پیر سے شیڈول باقاعدہ بحالی کی راہ ہموار ہو سکے۔

مصر کا کہنا ہے کہ وہ ان تمام فلسطینیوں کو داخلہ دینے کے لیے تیار ہے جنہیں اسرائیل ملک چھوڑنے کی اجازت دے گا۔
33 سالہ محمد شامیہ جو گردے کے مریض ہیں اور بیرون ملک علاج کے منتظر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ’گزرتا ہوا ہر دن میری زندگی کی توانائی نچوڑ رہا ہے، میں ہر لمحہ رفح کراسنگ کھلنے کا انتظار کر رہا ہوں۔‘
اسی طرح 18 سالہ صفا الحواہری جنہیں بیرون ملک تعلیم کے لیے سکالرشپ ملی ہے، پرامید ہیں کہ وہ اب اپنا مستقبل سنوارنے کے لیے سفر کر سکیں گی۔
جغرافیائی طور پر رفح غزہ کی جنوبی سرحد پر واحد راستہ ہے جو اسرائیل سے ہو کر نہیں گزرتا۔ یہ علاقہ فی الحال 10 اکتوبر کو امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اسرائیلی افواج کے کنٹرول میں ہے۔

جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے تحت تمام یرغمال افراد کی واپسی کے بعد اس گزرگاہ کی مکمل بحالی طے تھی۔
توقع ہے کہ اس اقدام سے ’نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ‘کے 15 ارکان کو بھی غزہ داخل ہونے میں مدد ملے گی جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیرِ صدارت قائم ’بورڈ آف پیس‘ کی نگرانی میں غزہ کے انتظام کو سنبھالیں گے۔
علی شاث کی سربراہی میں یہ ٹیکنوکریٹ باڈی غزہ کے 22 لاکھ رہائشیوں کے روزمرہ امور کی نگرانی کرے گی۔ تاہم اس سیاسی پیش رفت کے سائے میں تلخی اب بھی برقرار ہے کیونکہ سنیچر کو بھی اسرائیلی فضائی حملوں میں بچوں سمیت 32 افراد ہلاک ہوئے جس کے بارے میں اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ رفح میں جنگجوؤں کی جانب سے سرنگ سے نکل کر کی جانے والی کارروائی کا ردعمل تھا۔
![]()











