سعودی عرب میں دہشتگرد حملہ ، 2ہلاک

ریاض۔۔۔مشرقی ریجن کو سعودی عرب اور پڑوسی ممالک سے جوڑنے والی اہم شاہراہ ’’ابوحدریہ ‘‘پر سیکیورٹی چیک پوسٹ پردہشتگرد حملہ ہوا ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق2حملہ آور مارے گئے اور دیگر 2گرفتار کر لئے گئے ۔سیکیورٹی چیک پوسٹ پر بموں سے حملہ کیا گیا ۔ 
ابوحدریہ شاہراہ مشرقی ریجن کی انتہائی اہم شاہراہوں میں سے ایک ہے ۔ اس کا افتتاح شاہ خالد بن عبدالعزیز کے دور میں 26نومبر 1980ء میں ہوا تھا۔
سبق نیوزاور الشرق الاوسط کے مطابق حملہ آور مملکت سے فرار ہونے کیلئے چیک پوسٹ سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔حملہ آوروں میں سے 3القطیف سیکیورٹی فورس کو ایک عرصے سے مطلوب تھے ۔ 
سعودی حکام نے سیکیورٹی فورس کیلئے مطلوبین کی 2فہرستیں جاری کی تھیں ۔ ان میں سے پہلی جنوری 2012ء اور دوسری اکتوبر 2016ء کو جاری کی گئی تھی ۔ پہلی فہرست میں 23اور دوسری فہرست میں 9مطلوبین کے نام شامل تھے ۔ 
دونوں فہرستوں میں شامل افراد پر سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں ، اسلحہ ذخیرہ کرنے اور ریاست نیز آبادی کے خلاف جرائم کے ارتکاب کے الزامات ہیں ۔ 
یہ شاہراہ سعودی عرب کے سرحدی شہر الخفجی سے لیکر بحرین اور سعودی عرب کو جوڑنے والے سمندری کنگ فہد پل تک چلی گئی ہے ۔ یہ 350کلومیٹر سے زیادہ طویل ہے ۔ مشرقی ریجن کے علاوہ خلیجی ممالک کے باشندے بھی اسے استعمال کرتے ہیں ۔ 
ابوحدریہ شاہراہ سے خلیجی ممالک اور سعودی عرب کے شمالی علاقے کے افراد سفر کرتے ہیں ۔ یہ بیحد مصروف ہے ۔ پورے علاقے میں موجود تیل ، معدنیات اور بھاری صنعتی منصوبوںکے باعث ابوحدریہ ہیوی ٹریفک کی اہم گزر گاہ بنی ہوئی ہے ۔
سعودی عرب دہشتگردی کی بیخ کنی کیلئے جامع حکمت عملی کے تحت مسلسل اقدامات کر رہا ہے ۔ دہشتگردی پر اکسانے والے انتہا پسندانہ افکار کے سدِ باب کیلئے بھی متعدد مراکز قائم کئے ہوئے ہے ۔ حالیہ مہینوں کے دوران مملکت میں دہشتگردی کے واقعات میں کمی آئی ہے ۔ 
سعودی عرب دہشتگردی کی بیخ کنی کیلئے مسلم ممالک کو بھی جوڑے ہوئے ہے ۔ اس حوالے سے وہ اسلامی عسکری اتحاد قائم کئے ہوئے ہے جس کی سربراہی پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کر رہے ہیں ۔ 

شیئر: