’ڈیڑھ کروڑ، چار پرچے اور تھپڑوں کی بھرمار‘، ڈکی بھائی کے جیل میں 100 دن
’ڈیڑھ کروڑ، چار پرچے اور تھپڑوں کی بھرمار‘، ڈکی بھائی کے جیل میں 100 دن
اتوار 7 دسمبر 2025 20:41
ڈکی بھائی کے مطابق انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا (فوٹو: یوٹیوب)
پاکستان کے مشہور یوٹیوبر سعد الرحمان المعروف ڈکی بھائی نے دعویٰ کیا ہے کہ نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی حراست کے دوران انہیں شدید جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
رہا ہونے کے بعد ڈکی بھائی نے اپنے یوٹیوب چینل پر ویلاگ اپلوڈ کیا ہے جس میں انہوں نے اپنی آپ بیتی سنائی ہے۔
52 منٹ سے زائد دورانیے پر مشتمل اس ویلاگ کو پہلے چھ گھنٹوں میں 38 لاکھ سے زائد افراد نے دیکھ لیا ہے جبکہ یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔
ڈکی بھائی کہتے ہیں کہ اگر کوئی یہ سمجھے کہ میری اس ویڈیو کا مقصد اپنے خلاف درج ایف آئی آر کا جواز دینا ہے تو میں اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ میں سب سے معافی مانگنا چاہتا ہوں۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’اگر میرے کانٹینٹ سے کسی پر منفی اثر پڑا ہے تو اس کے لیے بھی پوری قوم سے معافی مانگتا ہوں۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ لوگوں کو انٹرٹین کروں اور کچھ نیا پیش کرتا رہوں۔ اگر کسی طرح سے میرے کانٹینٹ یا پروموشنز سے منفی اثر پڑا ہو تو میں اس کے لیے بھی معافی چاہتا ہوں۔‘
ڈکی بھائی نے عدالتی کارروائی پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ قانونی عمل کے مطابق عدالت کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں اور جج کا جو بھی فیصلہ ہو گا وہ اسے قبول کریں گے۔
ویڈیو میں انہوں نے اپنی اور اپنی فیملی کی ساڑھے تین ماہ کی صورت حال بیان کی اور بتایا کہ 16 اگست 2025 کو وہ اپنے گھر میں دعوت کی خوشی منا رہے تھے اور غیرملکی ایونٹ کے لیے تیار ہو رہے تھے لیکن اس دوران ان کی مشکلات کا آغاز ہوا۔
ڈکی بھائی نے انکشاف کیا کہ این سی سی آئی اے کی حراست کے دوران ان پر شدید جسمانی اور ذہنی تشدد ہوا۔
ان حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے وہ آبدیدہ بھی ہو گئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’این سی سی آئی کے ڈائریکٹر نے میری بیگم کے اوپر مقدمہ بنانے کی دھمکی دی اور ساتھ میں 60 لاکھ روپے مانگے۔ میری فیملی نے ادھار لے کر 60 لاکھ روپے ڈائریکٹر کو دیے۔ اس کے بعد ڈائریکٹر نے میرے دوست سے رابطہ کیا اور اسے کہا کہ یہ 60 لاکھ روپے تو ہو گئے لیکن میرے پاس چار پرچے اور ہیں، میں ڈکی پر دوں گا اگر تم مجھے ڈیڑھ کروڑ نہیں دیتے۔‘
ڈکی بھائی نے کہا کہ وہ قانونی عمل کے مطابق عدالت کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں۔ (فوٹو: یوٹیوب)
ڈکی بھائی نے کہا کہ ’مجھے ہتھکڑی لگا کر ایڈیشنل ڈائریکٹر کے روم میں لے جایا جاتا ہے، وہاں ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری صاحب بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ تم کس ایپلی کیشن کے کنٹری ہیڈ ہو؟ میں نے کہا میں کسی ایپ کا کنٹری ہیڈ نہیں ہوں۔‘
’وہ اپنی کرسی سے اٹھتے ہیں، مجھے گالی دیتے ہیں اور پوچھتے ہیں کدھر سے آتا ہے پیسہ تیرے پاس، میں نے کہا میں یوٹیوبر ہوں، اس پر وہ کہتے ہیں تم وطن عزیز کے بچوں کو خراب کر رہے ہو، اس کے بعد اس نے مسلسل مجھے ماں بہن کی گالیاں دیں اور بہت زور کا میرے منہ پر تھپڑ لگایا۔ اس کے بعد وہ اس وقت تک مجھے تھپڑ مارتا رہا جب تک اس کا دل بھر نہیں گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’انہیں ویڈیو کال پر ایک بچے سے بات کرنے کے لیے مجبور کیا گیا اور پھر اس بچے سے انہیں گالیاں بھی نکلوائی گئیں۔‘
ڈکی بھائی اس ویڈیو میں گرفتاری سے لے کر رہائی تک کی کہانی بیان کی ہے جبکہ سوشل میڈیا پر صارفین ان کے ساتھ افسوس اور ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ڈکی بھائی کو رواں برس 17 اگست کو لاہور ایئرپورٹ پر جوا ایپس کے ذریعے منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے 10 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ان کی درخواست ضمانت منظور کی اور وہ 26 نومبر کو رہا ہوئے تھے۔