سیاحت سمٹ: ’’منتظمین کو ایک بھی پاکستانی بلاگر نہ مل سکا؟‘‘

 
پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے منعقد کی گئی سمٹ میں صرف غیر ملکی سوشل میڈیا بلاگرز کو بلانے پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں تاہم تقریب کے منتظم خیبرپختونخوا کے وزیرسیاحت عاطف خان نے اس فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ 
وزیرسیاحت نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پاکستان ٹوئرازم سمٹ میں دو مشہور پاکستانی بلاگرز عمر خان اور تیمور صلاح الدین کو بھی دعوت دی تھی لیکن وہ شریک نہ ہوئے ۔ بلاگرز نے کہا ہے کہ ان کو ایسی کوئی دعوت نہیں ملی ۔ 
وزارت سیاحت کی جانب سے تین اورچار اپریل کو پاکستان ٹوئرازم سمٹ کا انعقاد وزیراعظم عمران خان کی اعلان کردہ نئی ویزا پالیسی کے تناظر میں کرایاگیا تھا جس کے تحت 175 ممالک کے شہری ای ویزا کی سہولت سے مستفید ہوں گے اور 50 ملکوں کے شہریوں کو پاکستان کے ائرپورٹس پہنچنے پر ویزا جاری ہوگا۔ 
عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے عاطف خان نے بتایا کہ پاکستان نے بین الاقوامی بلاگرز کو ٹوئرازم سمٹ میں مدعو کرنے کو ترجیح دی کیونکہ ان کے فالورز کی تعداد زیادہ تھی اور وہ بین الاقوامی سطح پر ملک کے مثبت امیج کو فروغ دینے کے لیے اپنا نمایاں مقام رکھتے ہیں ۔ 
اسلام آباد میں منعقدہ سمٹ میں ٹریور جیمز، مارک وینز، ایوا زو بیک، ایلیکس رینولڈز سمیت دیگر عالمی سیاحتی بلاگرز نے شرکت کی۔  عوام کو سمٹ میں شرکت کی دعوت دینے کے لیے شائع ہونے والے پوسٹر پر سوشل میڈیاکی چھ بااثر بین الاقوامی شخصیات کی تصاویر تھیں جن میں ایک بھی پاکستانی نہیں تھا۔ 
ٹی وی چینلز نے وزیراعظم عمران خان کی اپنے دفتر میں غیر ملکی سوشل میڈیا شخصیات سے ملاقات کی فوٹیج دکھائی تھی جس میں پاکستانی بلاگرز میں سے ایک بھی موجود نہیں تھا۔ 
 خیبرپختونخواکے وزیرسیاحت عاطف خان نے کہاکہ ’غیر ملکی سوشل میڈیا شخصیات کو مدعو کرنے کا مقصد ان کے فالورز کی بڑی تعداد کی توجہ حاصل کرنا اور پاکستان کی ملک سے باہر تشہیر تھا۔ پاکستان کی دو مشہور سوشل میڈیا شخصیات عمرخان اور تیمورصلاح الدین ’مورو‘ کو سمٹ میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی تاہم وہ شریک نہ ہوئے۔‘ 
تاہم عمرخان اور مورو نے عرب نیوزکو بتایا کہ انہیں سمٹ میں شرکت کا دعوت نامہ ملا ہی نہیں۔
عاطف خان کا کہنا تھا کہ ’ظاہر ہے دنیا بھر میںپاکستان سے متعلق تصور تبدیل کرنا ہی ہماری پہلی ترجیح ہے اور اس کے لیے غیرملکی بلاگرز جن کے فالورز کی تعداد کہیں زیادہ ہے ،اور وہ عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت امیج کو فروغ دینے کی بہتر پوزیشن میں ہیں۔‘
انہوں نے کہا’مثال کے طور پرمارک وینز کے چالیس لاکھ فالورز ہیں ،ٹریور جیمز کے مداحوں کی تعداد ستائیس لاکھ ہے ۔ میں ایوا کی ویڈیو زپر لائکس اور انہیں دیکھنے جانے کی تعداد کاجائزہ لے رہا تھا۔ میراخیال ہے کہ صرف ایک ہی دن میں لائکس کی تعداد ساڑھے گیارہ لاکھ تھی، اس لیے ظاہر ہے یہ اہمیت رکھتا ہے۔ ‘ 
صوبائی وزیرسیاحت کا کہنا تھا کہ وہ کئی بااثر پاکستانی سوشل میڈیا زشخصیات کے ساتھ رابطے میں تھے اور’ آئندہ پراجیکٹس ‘کے لیے ان کا تعاون حاصل کریں گے۔
کئی پاکستانی بلاگرز کا کہنا ہے کہ حکومت نے سوچ سمجھ کر انہیں سمٹ میں نہ بلانے کا فیصلہ کیا۔ 
بلال حسن ملک میں سیاحت سے متعلق تصاویر اور ویڈیوزانسٹاگرام پرشیئرکرتے ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ جب انہیں معلوم ہوا کہ ایک بھی مقامی بلاگر کو مدعو نہیں کیاگیا، سمٹ کے حوالے سے ان کی خوشی اور جوش ختم ہوگیا۔ 
حسن نے اپنے انسٹا گرام پر لکھا ’ایسی سیاحتی کانفرنس کی میزبانی جہاں مقامی بلاگرز کی رائے اور ان کی موجودگی کے بغیر ملک کے مستقبل کی سیاحتی پالیسی پر تبادلہ خیال کیاگیا،کسی حد تک تشویشناک بات ہے۔ ‘ 
انہوں نے کہا کہ ’حکومتی فیصلہ اس خطے میں نوآبادیاتی نظام کے اثرات کا نتیجہ ہے ، جوایک صدی تک برطانیہ کے زیرتسلط رہا ، اس سے پاکستانی حکومت کا ’سفید فام کمپلیکس‘ کو بے نقاب کردیاہے۔ اربوں پاکستانی آج بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ایک سفید فام جو بات بھی کہے گا وہ زیادہ موثر ہوگی۔ ‘
ایک اور ویڈیو بلاگر دانش خان نے عرب نیوزسے بات کرتے ہوئے کہا  ’بیس کروڑ سے زائد آبادی والے ملک میں سمٹ کے منتظمین کو ایک بھی بااثر پاکستانی نہ مل سکا؟معذرت کے ساتھ ہم پاکستانی کسی بھی معاملے پر غیرملکیوں کی توثیق کو اہم خیال کرتے ہیں۔‘
سمٹ میں مدعو کیے گئے غیرملکی بلاگر ز میں سے ایک بلاگرالیکس رینولڈ نے بھی انسٹا گرام پر لکھا’ پاکستان سے متعلق حیرت انگیز چیزیں سامنے لانے کے لیے پاکستان کے اپنے فوٹوگرافرز،وی لاگرز اور بلاگرز سے زیادہ بہتر کوئی نہیں ۔ ‘
کلچر اور سپورٹس کے لکھاری احمر نقوی کہتے ہیں کہ’ حکومت پاکستان کو سیاحت کے لیے بہترین ملک کے طور پر دکھانے سے زیادہ اسے دہشت گرد حملوں کے بعد اب ایک محفوظ ملک کے طور پر دنیا کو دکھانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ ‘
تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان میں یوٹیوب پر تین سالہ پابندی (جواب ختم  ہوچکی ہے) کی وجہ سے یہاں ویڈیو بلاگنگ باقی دنیا کے مقابلے میں کئی سال پیچھے ہے لہٰذا مقامی بلاگرز کے بجائے غیرملکی بلاگرز کو ترجیح دینے کی یہی مناسب وجہ ہوسکتی ہے۔ ‘
 

شیئر: