پاکستان کو امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی دعوت ملی ہے: دفترِ خارجہ
پاکستان کو امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی دعوت ملی ہے: دفترِ خارجہ
منگل 3 فروری 2026 21:02
طاہر اندرابی نے تصدیق کی کہ ’پاکستان کو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں شرکت کی دعوت ملی ہے‘ (فائل فوٹو: دفتر خارجہ)
پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کو رواں ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان ایرانی جوہری پروگرام پر ترکیہ میں ہونے والے متوقع مذاکرات میں شرکت کی دعوت موصول ہوئی ہے۔‘
واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں خطے کے ممالک سفارت کاری کی بحالی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔
استنبول میں جمعے کو ہونے والی مجوزہ بات چیت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان گذشتہ کئی ماہ سے کشیدگی چلی آرہی ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات دے رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں خطرناک نتائج کی دھمکی دی ہے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
علاقائی طاقتوں نے دونوں ممالک کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک اور تنازعے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جی ہاں، ہمیں استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کے لیے دعوت موصول ہوئی ہے۔‘
پاکستان کے ایک سینیئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’توقع ہے کہ اِن مذاکرات میں نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار پاکستان کی نمائندگی کریں گے،‘ تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
ان مذاکرات میں پاکستان کی جانب سے نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی شرکت کا امکان ہے (فائل فوٹو: دفترِ خارجہ)
ایرانی اور امریکی حکام نے کہا ہے کہ ’استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کی جائے گی، جس کے بارے میں ایران کا کہنا ہے کہ ’یہ پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔‘
ایرانی حکام کی جانب سے اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ امریکہ مذاکرات کے دائرہ کار کو اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام تک بڑھانا چاہتا ہے، جسے ایران اپنی دفاعی حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ سمجھتا ہے۔
یاد رہے کہ ایران نے یہی میزائل گذشتہ برس اسرائیل کے خلاف 12 روز تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران استعمال کیے تھے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق سعودی عرب، قطر، مصر، عمان اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی علاقائی ممالک کے وزرائے خارجہ یا اعلٰی نمائندوں کو بھی استنبول مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔