بلوچستان حملوں کے سپانسرز کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے: سلامتی کونسل
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بلوچستان میں ہونے والے حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون کریں۔
عرب نیوز کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر جیمز کاریوکی نے کونسل کی جانب سے بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’سلامتی کونسل کے اراکین نے 31 جنوری 2026 کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں مختلف مقامات پر کیے گئے دہشت گردانہ اور بزدلانہ حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔‘
سلامتی کونسل کے اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ ان قابل مذمت دہشت گردانہ کارروائیوں کے مجرم، منصوبہ سازوں، مالی معاونین اور سرپرستوں کو جوابدہ ٹھہرا کر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔‘
بیان میں تمام ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت اس معاملے میں پاکستان کی حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔
’سلامتی کونسل کے اراکین نے متاثرہ خاندانوں، پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ اپنی گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور زخمی افراد کی جلد اور مکمل صحت یابی کی دعا کی۔‘
یاد رہے کہ سنیچر کی علی الصبح کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بارہ سے زائد شہروں میں مختلف مقامات پر بیک وقت حملے کیے گئے تھے جن میں سرکاری دفاتر، پولیس تھانے، بینک اور سکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
سرکاری حکام کے مطابق ان حملوں میں 17 سکیورٹی اہلکار اور 31 عام شہریوں سمیت مجموعی طور پر 48 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اتوار کو بتایا تھا کہ حملوں سے قبل اور بعد تقریباً 40 گھنٹوں میں کی گئی جوابی کارروائیوں میں 145 دہشت گرد بھی مارے جا چکے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ’سکیورٹی فورسز بلوچستان بھر میں فتنہ الہندوستان خوارج کے حملہ آوروں کے خلاف کلیئرنس اور سینٹائزیشن آپریشن جاری ہیں اور گزشتہ رات فالو آپ آپریشن کے دوران 22 خوارج کو ہلاک کیا گیا۔‘
سکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ تین دنوں کے دوران مجموعی طور پر ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد 177 تک پہنچ گئی ہے۔
