پاکستان میں کم عمری کی شادی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جس کا اثر نوجوانوں اور خاص طور پر لڑکیوں پر زیادہ پڑ رہا ہے۔
گیلپ پاکستان نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں یہ انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں 15 سے 19 سال کی عمر کا ہر دس میں سے تقریباً ایک نوجوان شادی شدہ ہے جس سے کم عمری کی شادی کے مسئلے کی سنگینی ظاہر ہوتی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک میں کم عمری کی شادی کی شرح تقریباً 10 فیصد ہے جبکہ لڑکیوں میں یہ شرح 15 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں
پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران کم عمری کی شادی کے خلاف قانون سازی بھی عمل میں آئی ہے، جس کی ایک مثال اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں ’چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل 2025‘ کا منظور ہونا بھی ہے جس کے تحت شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو صرف قانون سازی تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سماجی رجحانات پر بھی توجہ دینا ہوگی تاکہ کم عمری کی شادیوں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔
گیلپ رپورٹ میں مزید کیا بتایا گیا ہے؟
گیلپ کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دیہی علاقوں میں کم عمری کی شادی کا رجحان شہری علاقوں کے مقابلے میں زیادہ ہے جبکہ غربت، تعلیم تک محدود رسائی اور سماجی روایات کو اس رجحان کی اہم وجوہات قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں کم عمری کی شادی کی شرح سب سے زیادہ 22.5 فیصد ہے جبکہ سندھ میں یہ شرح 17 فیصد اور خیبر پختونخوا میں 13.8 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ پنجاب میں کم عمری کی شادی کی شرح 6.9 فیصد جبکہ اسلام آباد میں 4.7 فیصد ہے۔

اسی طرح بلوچستان کے شہری علاقوں میں کم عمری کی شادی کی شرح 14.7 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 9.8 فیصد ہے۔ سندھ میں شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں یہ شرح تقریباً 9 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، یعنی دونوں علاقوں میں شرح تقریباً یکساں ہے۔
خیبر پختونخوا میں مجموعی 13.8 فیصد شرح میں سے شہری علاقوں میں 9 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 4.2 فیصد ہے جبکہ پنجاب میں شہری علاقوں میں کم عمری کی شادی کی شرح 4.9 فیصد اور دیہی علاقوں میں 3.2 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
گیلپ رپورٹ میں اسلام آباد کے شہری اور دیہی علاقوں میں کم عمری کی شادی کی شرح میں نمایاں فرق نہیں بتایا گیا۔
رپورٹ میں اس بات کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں کم عمری کی شادی کے حوالے سے لڑکیاں زیادہ متاثر ہو رہی ہیں، اور قومی سطح پر 15 سے 19 سال کی عمر کی تقریباً 15 فیصد لڑکیاں شادی شدہ ہیں۔
اس کے علاوہ خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان کے بعض دیہی علاقوں میں یہ شرح تقریباً 30 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔
اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مجموعی طور پر کم عمری کی شادیوں کے رجحان میں اگرچہ کمی آ رہی ہے، تاہم یہ مسئلہ اب بھی مخصوص علاقوں، خاص طور پر لڑکیوں کے حوالے سے، گہرائی تک موجود ہے۔

اردو نیوز نے اس حوالے سے مزید تفصیلات جاننے کے لیے گیلپ پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بلال گیلانی سے گفتگو کی۔ اُنہوں نے بتایا کہ ’رپورٹ میں شامل اعداد و شمار ادارۂ شماریات کی 2023 کی مردم شماری کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔‘
انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران کم عمری کی شادیوں کی شرح میں کمی دیکھی گئی ہے تاہم ملک کے مختلف علاقوں میں یہ رجحان اب بھی موجود ہے۔‘
بلال گیلانی کے مطابق خواتین میں کم عمری کی شادی کے کیسز مردوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں، اور بلوچستان کے بعض اضلاع میں یہ شرح 40 فیصد تک بھی بتائی جاتی ہے۔
ان کا قانون سازی کے ذریعے کم عمری کی شادیوں کے خاتمے کے حوالے سے کہنا تھا کہ ’موجودہ قانون سازی صرف اسلام آباد تک محدود ہے، اور وہاں پہلے ہی کم عمری کی شادی کی شرح نسبتاً کم ہے۔ چنانچہ حکومت کو صرف قانون سازی پر انحصار کرنے کے بجائے سماجی سطح پر اقدامات کرنے چاہییں، تب ہی ایسے واقعات میں کمی آ سکتی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس مسئلے کا حل صرف پابندیاں لگانا یا انتظامی اقدامات نہیں بلکہ سماجی رویّوں میں تبدیلی لانا بھی ضروری ہے۔‘
انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ’حالیہ قانون سازی کو کچھ حلقوں کی جانب سے غلط قرار دیا جا رہا ہے چنانچہ حکومت کو سماجی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’18 سال سے کم عمر میں شادی کے طبی اور سماجی نقصانات کے بارے میں آگاہی بڑھانے سے ہی معاشرے میں مثبت رجحان پیدا ہوگا۔‘
بلال گیلانی نے کہا کہ ’جب بھی اس نوعیت کی قانون سازی کی جاتی ہے تو معاملات اکثر عدالتوں تک پہنچ جاتے ہیں اور قوانین پر عملدرآمد ممکن نہیں ہو پاتا، جبکہ اگر سماجی عوامل کو مدنظر رکھ کر اقدامات کیے جائیں تو فوری اور دیرپا نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔‘
اسی طرح اسلام آباد میں مقیم خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی وکیل سیدہ کشمالہ کا بھی یہ کہنا ہے کہ ’صرف قانون سازی کے ذریعے کم عمری کی شادی کے مسئلے کو مکمل طور پر روکا نہیں جا سکتا۔‘

انہوں نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں نے اس حوالے سے اپنے طور پر قانون سازی کی۔ مثال کے طور پر سندھ میں 18 سال سے کم عمر میں شادی پر پابندی عائد کی گئی، جبکہ حالیہ عرصے میں اسلام آباد میں بھی اسی نوعیت کی قانون سازی عمل میں آئی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ان اقدامات کے نتیجے میں کم عمری کی شادیوں کی شرح میں کچھ حد تک کمی ضرور آئی ہے، تاہم اس کے باوجود اب بھی بڑی تعداد میں کم عمری کی شادیاں ہو رہی ہیں۔‘
سیدہ کشمالہ کے مطابق اس سے قبل قانون یہ تھا کہ شادی کے لیے لڑکی کی کم از کم عمر 16 سال اور لڑکے کی 18 سال ہونی چاہیے، تاہم بعد ازاں قوانین میں تبدیلی کی گئی۔
تاہم انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ جہاں اس حوالے سے واضح قوانین موجود ہی نہ ہوں، وہاں ان پر عملدرآمد کروانا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’پنجاب اور خیبر پختونخوا میں اب تک کم عمری کی شادی سے متعلق جامع قوانین موجود نہیں ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جب تک قوانین پر مؤثر عملدرآمد، ملک بھر میں یکساں قانون سازی اور اس کے ساتھ ساتھ سماجی سطح پر آگاہی فراہم نہیں کی جائے گی کہ کم عمری کی شادی کے خواتین، مردوں اور خاندانی نظام پر کیا منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس وقت تک اس مسئلے کے حل کے حوالے سے کوئی بڑی اور دیرپا تبدیلی ممکن نہیں ہو سکے گی۔‘












