’ پاکستانی ایف 16گرانے‘ کے دعوے سے متعلق انڈیا کے نئے ثبوت

انڈیا نے پھر پاکستانی ایف سولہ طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ انڈین ائیر فورس کے وائس مارشل آر جی کے کپور نے پیر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فضائیہ کے ایف 16 طیارے کو مار گرانے کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔
انڈین ائیر فورس کا یہ دعویٰ چند دن قبل امریکی جریدے ’فورن پالیسی‘ میں چھپنے والی خبر کے برعکس ہے، جس میں امریکی محکمہ دفاع کے اہلکار کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ امریکہ نے پاکستان کو د ئیے گئے ایف سولہ طیاروں کی تصدیق کرائی ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ فروری میں ہونے والے تنازعے میں انڈیا نے پاکستان کا کوئی ایف سولہ طیارہ نہیں مار گرایا تھا۔
پریس کانفرنس کے دوران ائیروائس مارشل کپور نے راڈار سے حاصل کردہ تصاویر بھی میڈیا کے سامنے رکھیں جن میں ان کے مطابق پائلٹ ابھینندن کے پاکستانی طیارے کے ساتھ مقابلے کے مناظر نمایاں ہیں۔
ائیروائس مارشل کا کہنا تھا کہ پاکستانی طیاروں کی شناخت ’الیکٹرانک سگنیچرز‘ کے ذریعے کی گئی تھی ۔پاکستان کے شمالی، وسطی اور جنوبی سیکٹرز سے تین فارمیشنز سامنے آئی تھیں۔ شمالی سیکٹر سے جے ایف 17 جب کہ وسطی اور جنوبی سیکٹرز سے ایف 16 طیارے کارروائی میں شامل تھے۔
 ائیروائس مارشل نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی جہازوں نے متعدد میزائل فائیر کئے تھے جنہیں انڈین فورسز 
نے شکست دی تھی، جس کے بعد فضائی لڑائی میں ابھینندن کے مگ 21 طیارے نے پاکستانی ایف 16 مار گرایا۔
نیوز بریفنگ میں موجود صحافیوں کو دکھائی گئی تصاویر کے متعلق ائیروائس مارشل نے کہا کہ یہ فضائی لڑائی کے مناظر پر مشتمل ہیں۔ 
اس موقع پرائیروائس مارشل نے پاکستانی فضائیہ کے انڈین ایئر فورس کا مگ 21 طیارہ گرانے کی بھی تصدیق کی جس کو ابھینندن اڑا رہے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی فوج کے درمیان ریڈیوسیٹ پر ہونے والی گفتگو بھی سنی تھی جو واضح طور پر دو ہوابازوں کی گرفتاری سے متعلق تھی۔ اس میں ابھینندن کے ساتھ ساتھ ایک اور اہلکار کا بھی ذکر تھا جس کو سی ایم ایچ منتقل کرنے کی بات ہو رہی تھی۔
ائیروائس مارشل کا کہنا تھا کہ انڈین فضائیہ نے بالاکوٹ میں کارروائی اور بعد میں پاکستانی طیاروں کی مداخلت کو روک کر اپنے مقاصد حاصل کئے جب کہ پاکستان ایسا نہیں کر سکا۔
 

شیئر: