غذا میں فائبر کا زیادہ استعمال آپ کے معدے کو کیسے متاثر کر سکتا ہے؟
غذا میں فائبر کا زیادہ استعمال آپ کے معدے کو کیسے متاثر کر سکتا ہے؟
پیر 9 فروری 2026 5:46
راشی چودھری کا کہنا ہے کہ پروٹین کی طرح فائبر بھی ہر وقت فائدہ مند نہیں ہوتا۔ (فائل فوٹو: فری پک)
فائبر کو طویل عرصے سے نظامِ ہاضمہ سے متعلق کئی مسائل کا حل سمجھا جاتا رہا ہے۔ طبی ماہرین اور غذائی ماہرین اکثر ایک ہی مشورہ دہراتے رہے ہیں: ریشے دار غذا میں اضافہ کریں، زیادہ سبزیاں کھائیں اور فائبر کی مقدار بڑھائیں۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق فائبر کو آنتوں کی صحت بہتر بنانے، قبض سے بچاؤ اور ہاضمے میں مدد کے لیے مؤثر مانا جاتا ہے۔ تاہم غذائی ماہر راشی چودھری کا کہنا ہے کہ فائبر کی مقدار بڑھانا ہر صورت میں ہاضمے کے مسائل کا بہترین حل نہیں ہوتا۔
انسٹاگرام پر ایک حالیہ پوسٹ میں راشی چودھری نے نشاندہی کی کہ لوگ عموماً یہ اندازہ زیادہ لگا لیتے ہیں کہ انہیں صرف سلاد سے ہی کافی فائبر مل رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی شخص 30 گرام فائبر حاصل کرنا چاہے تو اسے 15 سے زیادہ پیالے سلاد کے کھانے ہوں گے۔
اس کے برعکس، اتنی ہی مقدار میں فائبر صرف ایک ایووکاڈو، دو چائے کے چمچ السی کے بیج اور دو کھانے کے چمچ چیا سیڈز سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اگر روزانہ ایووکاڈو کھانا ممکن نہ ہو تو وہ ناشپاتی یا امرود کے ساتھ چنے کھانے کا مشورہ دیتی ہیں۔
زیادہ فائبر الٹا نقصان کیوں پہنچا سکتا ہے
راشی چودھری کا کہنا ہے کہ پروٹین کی طرح فائبر بھی ہر وقت فائدہ مند نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق یہ بات نئی نہیں ہے، مگر آنتوں سے متعلق یہ ’پرانا دانائی بھرا اصول‘ اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اپھارہ، گیس، قبض اور بھاری پن جیسے عام ہاضمے کے مسائل کے لیے برسوں سے زیادہ فائبر، سبزیاں اور ریشے دار غذا کو بنیادی علاج سمجھا جاتا رہا ہے۔
تاہم اس مشورے پر عمل کے باوجود بہت سے لوگ بدستور مسائل کا شکار رہتے ہیں۔ ان کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ معدہ مقدار سے نہیں بلکہ ترتیب سے صحت یاب ہوتا ہے۔ ان کے الفاظ میں ’معدہ حجم سے نہیں، ترتیب سے ٹھیک ہوتا ہے۔‘
راشی چودھری کے مطابق اگر کوئی شخص 30 گرام فائبر حاصل کرنا چاہے تو اسے 15 سے زیادہ پیالے سلاد کے کھانے ہوں گے۔ (فوٹو: فری پک)
غذائی ماہر کے مطابق زیادہ مقدار میں ناقابلِ حل فائبر (انسولیوبل فائبر) بعض صورتوں میں نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایس آئی بی او (چھوٹی آنت میں بیکٹیریا کی زیادتی)، مستقل قبض، یا سست اور حساس نظامِ ہاضمہ کی صورت میں۔ یہ درد اور اپھارہ بڑھا سکتا ہے، آنتوں کی حرکت کو سست کر سکتا ہے، معدے میں خمیر بننے کے عمل میں اضافہ کر سکتا ہے اور ہاضمے میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔ اسی لیے آنتوں کی صحت بہتر بنانے کے لیے فائبر کی بڑی مقدار شامل کرنا پہلا قدم نہیں ہونا چاہیے۔