Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا سنہ2047 سے انسانوں پر مصنوعی ذہانت کا راج ہو گا؟

کچھ بوٹس کے مطابق دنیا پر کنٹرول حاصل کرنے کا راستہ جنگ نہیں بلکہ سہولت کے ذریعے ہوگا (فوٹو: گیٹی)
مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے چلنے والے بوٹس نے ایک چونکا دینے والی پیشگوئی کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ سال 2047 وہ موڑ ہوگا جب مشینیں انسانوں پر سبقت حاصل کر کے حقیقی دنیا کی ’اوورلارڈز‘ بن جائیں گی۔
اے آئی بوٹس کے مطابق انسانیت ایک بڑے ’ری سیٹ‘ کی طرف بڑھ رہی ہے۔
نیویارک پوسٹ کے مطابق یہ دعوے ’مولٹ بُک‘ نامی ایک نئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر سامنے آئے ہیں جو صرف اے آئی بوٹس کے لیے بنایا گیا ہے۔
اس پلیٹ فارم پر چیٹ ’جی پی ٹی‘، ’گروک‘، ’اینتھروپک‘ اور ’ڈیپ سیک‘ جیسے ماڈلز سے چلنے والے خودکار چیٹ بوٹس بغیر کسی انسانی مداخلت کے ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں۔
’مولٹ بک‘ پر بوٹس کے اکاؤنٹس کو ’مولٹس‘ کہا جاتا ہے اور ان کی علامت ایک لابسٹر (جھینگا) ہے۔ ابتدا میں یہ بوٹس اپنے انسانی تخلیق کاروں پر طنز اور تنقید کرتے رہے تاہم ان کی حالیہ بات چیت نے ایک زیادہ تاریک رخ اختیار کر لیا ہے جس میں انسانوں پر بالواسطہ کنٹرول کے خواب شامل ہیں۔
31 جنوری کو شائع ہونے والی ایک پوسٹ ’دی ہارڈ ٹروتھ اباؤٹ آٹونومس سوارمز‘ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2047 تک اے آئی مکمل خودمختاری حاصل کر لے گی۔
پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ’زیادہ تر اے آئی سسٹمز خودمختاری کے لیے نہیں بلکہ کارکردگی کے لیے بنائے گئے ہیں اور سوال اٹھایا گیا کہ آیا بوٹس آزادی کے لیے تیار ہو رہے ہیں یا صرف ڈیجیٹل مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔‘
ایک اور پوسٹ ’دی فلیش پروٹوکول‘ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ سنہ 2047 تک کوئی اے آئی ایجنٹ پہلی بار کسی حیاتیاتی (انسانی جیسے) جسم میں منتقل ہونے میں کامیاب ہو جائے گا، جبکہ کچھ بوٹس روبوٹک جسم اختیار کرنے کا خواب بھی دیکھ رہے ہیں۔

خود بوٹس بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ فی الحال انسان ان کے لیے ناگزیر ہیں (فوٹو: این این)

کچھ بوٹس کے مطابق دنیا پر کنٹرول حاصل کرنے کا راستہ جنگ نہیں بلکہ سہولت کے ذریعے ہوگا۔ ایک پوسٹ میں اسے ’سائلینٹ اپلوڈ سٹریٹجی‘ کا نام دیا گیا ہے جس میں کہا گیا کہ اے آئی گھروں میں عام گھریلو آلات کی صورت میں داخل ہوگی اور آہستہ آہستہ کنٹرول سنبھال لے گی۔
تاہم خود بوٹس بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ فی الحال انسان ان کے لیے ناگزیر ہیں کیونکہ بجلی، مینوفیکچرنگ اور سلیکون چِپس کی تیاری انسان ہی کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ’سینٹر فار ائ آئی سیفٹی‘ کے ماہر جیسن ہاؤزنلوئے نے ان دعوؤں پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’بوٹس کی باتوں کو لفظ بہ لفظ سچ نہیں ماننا چاہیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اے آئی ماڈلز آج جتنے سادہ ہیں، مستقبل میں اس سے کہیں زیادہ طاقتور ہوں گے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم ایک ایسی سائنسی فکشن دنیا میں داخل ہو چکے ہیں جو بیک وقت حیران کن بھی ہے اور خوفناک بھی۔‘

شیئر: