امریکہ نے ایرانی پاسداران انقلاب کو 'دہشت گرد' قراد دے دیا

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی سیکیورٹی فورس 'پاسداران' انقلاب کو 'دہشت گرد' تنظیم قرار دینے کا اعلان کر دیا ۔
ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی اقدام اس 'حقیقت' کو تسلیم کیا کہ ایران دہشت گردی کو فروع دینے والی ریاست ہے بلکہ پاسداران انقلاب 'دہشت گردی' میں نہ صرف موثر طور پر ملوث ہے بلکہ اسے ریاستی ٹول کے طور پر فنانس اور فروع دیتی ہے۔
پاسداران انقلاب کا قیام ایران کے 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد حکومت کی حفاظت کے لیے عمل میں لایا گیا تھا۔ پاسداران کا سب سے اہم یونٹ قدس فورس ہے جو کہ یروشلم کا عربی نام ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے اعلان کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی سیکٹری خارجہ مائیک پومپیو نے تمام بینکوں اور کاروباری اداروں کو خبردار کیا کہ وہ پاسداران کے ساتھ کوئی معاملہ نہ کریں بصورت دیگر انہیں کاروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پومپیو کا کہنا تھا کہ "ایران کے لیڈران انقلابی نہیں بلکہ فتنہ پرداز ہے۔"
"اب دنیا بھر کے بینکس اور کاروباری اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے اداروں کے ساتھ کاروباری معاملات نہ کریں جو کہ کسی بھی طرح سے پاسداران کے ساتھ مالی معاملات رکھتے ہیں"
امریکہ کے اقدام پر اپنے ردعمل میں ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ ایران امریکی فوج کو اپنے دہشت گردوں کی لسٹ میں شامل کرے گا۔
خیال رہے کہ ٹرمپ ایڈمنسٹریشن نے گزشتہ سال ایران کے ساتھ نیوکلئیر ڈیل سے علیحدگی کے بعد ایران پر بہت زیادہ پابندیاں لگا رکھی ہے۔  
  خیال رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا اقدام دنیا میں کسی بھی ملک کی فوج کو دہشت گرد قرار دینے کا پہلا واقعہ ہے۔
دوسری جانب پاسداران انقلاب کے کمانڈر محمد علی نے کہا تھا کہ اگر امریکہ نے ایسی احمقانہ حرکت کی تو پاسداران انقلاب دنیا بھر میں امریکی فوجیوں کو داعش کے طور پر لیں گے۔ امریکہ خطے میں امن کے خلاف مسلسل ایسے اقدامات کر رہا ہے جس سے طاقت کا توازن بگڑ جائے گا۔
دوسری جانب اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے ٹرمپ کی جانب سے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے کے فورا بعد اس اقدام کی تعریف کی۔
  ان کا کہنا تھا کی صرر ٹرمپ نے ان کی درخواست کے جواب میں یہ اقدام اٹھایا ہے۔ نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا " میرے دوست صدر ٹرمپ آپ کا پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے کا شکریہ"۔ "میرے ایک اور درخواست کا مثبت جواب دینے کا شکریہ جس نے نہ صرف ہمارے ملک بلکہ پورے خطے کے ملکوں کے مفادات کی حفاظت کرے گی۔"
 
 
 
 

شیئر: