دبئی : افریقی خاتون کا ہوٹل کے خلاف 50 لاکھ درھم ہرجانے کا دعوی
مدعیہ کی جانب سے ثبوت فراہم نہ کیے جانے پر مقدمہ خارج کردیا گیا(فوٹو، ایکس اکاونٹ)
دبئی کی عدالت نے افریقی خاتون کی جانب سے ہوٹل انتظامیہ کے خلاف 50 لاکھ درھم ہرجانے کا دعوی یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ مدعیہ نے یہ ثابت نہیں کیا کہ وہ ہوٹل میں زخمی ہوئی تھیں یا باہر۔
امارات الیوم اخبار کے مطابق دبئی کی سول کورٹ میں ایک افریقی خاتون نے ہوٹل کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ نے سوئمنگ پول کے مقام کی نشاندہی کےلیے بورڈ لگائے اور نہ ہی ’فرش گیلا ہے‘ کی کوئی علامت وہاں آویزاں کی تھی جس وجہ سے وہاں ہونے والی پھسلن سے وہ گر گئی تھی ۔
خاتون کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ وہ اپنے شوہر کے ہمراہ ہوٹل کے لان میں ناشتے کے لیے جارہی تھی راہداری جمع ہونے والے پانی کی وجہ سے پھسل کر گئی گئی جس سے اسے شدید چوٹیں آئی۔
مدعیہ نے اپنے دعوی میں مزید کہا کہ پھسل کر گرنے کی وجہ سے اس کی کمر اور دونوں بازوں شدید زخمی ہوگئے اور وہ چلنے سے بھی قاصر ہوگئی۔
اپنے دعوی میں خاتون نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ عدالت ہوٹل انتظامیہ کی اس غفلت پراور اسے پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کراتے ہوئے 50 لاکھ درھم ہرجانے کے طور پر ادا کرنے کا حکم دے۔
خاتون کا مزید کہنا تھا کہ ہوٹل انتظامیہ کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے اسے علاج کے لیے کافی خطیر رقم خرچ کرنا پڑی تھی۔ گرنے کی وجہ سے وہ چلنے پھرنے سے قاصر تھی اس لیے ویل چیئر بھی خریدنا پڑی ۔
دوسری جانب ہوٹل انتظامیہ نے دعوی رد کرتے ہوئے عدالت کو واضح کیا کہ ایسا کوئی واقعہ ہوٹل میں پیش نہیں آیا اور اگر آتا تو مدعیہ پولیس یا سول ادارے میں رپورٹ درج کراتی جبکہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے اور واقعاتی شہادتوں اور ثبوتوں کی روشنی میں دعوی خارج کرتے ہوئے کہا کہ کیونکہ خاتون نے کسی سرکاری ادارے میں اس کی رپورٹ نہیں کی اور وہ نہ ہی یہ ثابت کرسکیں کہ ہوٹل میں یہ حادثہ پیش آیا اس لیے انکا دعوی خارج کیا جاتا ہے۔