انڈیا میں پہلے مرحلے کی انتخابی مہم ختم ،کشمیر دو ڈھائی اضلاع کا مسئلہ ہے ،مودی

  نئی دہلی ...  انڈیا میں لوک سبھا انتخابات  کے پہلے مرحلے کیلئے جاری انتخابی مہم  منگل کی شام ختم ہوگئی۔  پہلے مرحلے میں  لوک سبھا کی91 نشستوں پر  18ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام 2علاقوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ 
پہلے مرحلے کی انتخابی مہم کے آخری دن وزیراعظم نریندرمودی،بی جے پی  صدر امیت شاہ،کانگریس کے صدر را ہول  گاندھی اور دیگر رہنماوں نے  پارٹی کے امیدواروں کے لئے ریلیوں  اور جلسوں سے خطاب  کیا۔
وزیر اعظم مودی نے ریلیوں سے خطاب میں پلوامہ حملے اور اس کے بعد کی جانے والی فضائی کارروائی کو کیش کرانے کی بھرپور کوشش کی۔ اپوزیشن نے الزام لگایا کہ بی جے پی  انڈین فضائیہ کی کامیابیوں سے انتخابی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
  مہاراشٹر میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے  مودی نے کہا  کہ میں پہلی مرتبہ ووٹ ڈالنے والے نوجوانوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ کیا آپ کا پہلا ووٹ بالاکوٹ میں ایئر اسٹرائیک کرنے والے بہادر جوانوں کے لئے ہو سکتا ہے؟ ۔کیا آپ کا پہلا ووٹ پلوامہ میں مرنے والے ہمارے بہادر جوانوں کے لئے ہو سکتا ہے؟ ۔
  ایک اور ریلی سے خطاب میں ہندوستانی وزیر اعظم نے  کانگریس اور جنتا دل (سیکولر) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پلوامہ حملے کے بعد ہندوستانی فضائیہ کی بالا کوٹ پر کارروائی سے درد پاکستان کو ہوا لیکن آنسو دونوں جماعتوں کے رہنماوں کے نکلے۔
دوسری  طرف نیوز 18 نیٹ ورک کو انٹریو میں نریندر مودی نے کہاکہ پلوامہ حملے کے بعد کہا تھا کہ  د ہشت گردوں اور پاکستان نے بہت بڑی غلطی کردی۔  اس وقت میر ی باڈی  لینگویج  سے سمجھ جانا چاہیے تھا  ۔پلوامہ حملے کے فوری بعد ہی سیکیورٹی فورسز نے  حملے میں ملوث دہشت گردوں کو ہلاک کردیا تھا  لیکن میں اس سے مطمئن ہونے والانہیں تھا۔ یہ سوچ لیا تھا کہ  دہشت گردوں کو جہاں سے پشت پناہی ملتی ہے   جب تک وہاں کچھ نہیں کریں گے تو یہ سدھرنے والے نہیں۔  میں شارٹ کٹ اور جلد بازی میں فیصلے کرنے کا عادی نہیں۔سب سے   مشاورت کے بعد ہی کارروائی کا فیصلہ کیا  ۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ  لوک سبھا الیکشن2014 میں ملنے والی کہیں زیادہ نشستوں سے جیتیں گے۔بی جے پی کو بھاری اکثریت سے کامیابی ملے گی۔
مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سوال پر مودی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر بہت پرانا ہے ۔  اچھا ہوتا کہ اگر جموں وکشمیر کا معاملہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کو سونپا گیا ہوتا۔ آج جو ہم مصیبت جھیل رہے ہیں وہ نہیں جھیلنی پڑتی۔ انہوں نے اس کا راستہ ویسے ہی نکالا ہوتا جیسے جوناگڑھ کا نکالا، نظام کا نکالا، اس کا بھی نکالتے۔ یہ معاملے پنڈت نہرو نے اپنے پاس رکھا۔ یہ اس وقت سے  ہی تنازعات میں گھرا رہا ہے۔  ہمارے ہزاروں جوان مرے ہیں۔ 
ہندوستانی وزیر اعظم نے یہ بھی دعوی کیا کہ  کشمیر کا معاملہ دو ڈھائی اضلاع تک محدود ہے۔ لداخ میں کوئی مسئلہ نہیں ۔ جموں میں کوئی مسئلہ نہیں ۔ سرینگر اور وادی میں ڈھائی اضلاع تک  یہ مسئلہ ہے۔ ان ڈھائی اضلاع میں پیش آنے والے واقعات کو پورے جموں وکشمیر کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ یہ بیانیہ بدلنا چاہیے۔ اس میں میڈیا کے مدد کی ضرورت ہے۔
انہوں نے یہ بھی  کہا کہ کشمیر کے ساتھ کبھی ناانصافی نہیں کی گئی۔ لیکن اس مسئلے کو صحیح سے سمجھ کر اس سے نمٹا جانا چاہیے۔ ایسا  پہلے کی حکومتیں نہیں کر سکیں۔ کشمیر بدل رہا ہے اور وہاں کے نوجوان ہر ایک شعبے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ 

شیئر: