ہزارہ کون ہیں اور یہ پاکستان میں کہاں سے آئے؟

***اعظم خان ***
پاکستان کے صوبے بلوچستان میں دہشتگردی کا نشانہ بننے والے ہزارہ قبیلے کو تاریخ میں ایک خاص حیثیت حاصل رہی  ہے جس کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ چنگیز خان کی نسل سے تعلق رکھتا ہے۔
مورخین کہتے ہیں کہ  اس قبیلے  کا جنم مشرق وسطیٰ  سےہوا ہے جبکہ اس کی  جڑیں چین، افغانستان، پاکستان اور  ایران  سمیت یورپ کے دھانے پر  واقع ترکی تک پھیلی ہوئی ہیں۔  
ہزارہ قبیلے میں اثنا عشری، اسماعیلی اور محدود تعداد میں اہل سنت مسلک سے تعلق رکھنے والوں کی بھی ہے۔  
ماہر عمرانیات عرفان خان  نے اردو نیوز کوبتایا کہ دستیاب شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قبیلہ منگول نسل سے نکلا ہے یعنی ہزارہ چنگیز خان کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔’ جب چنگیز خان کے پوتے نے اسلام قبول کیا تو پھر ہزارہ قبیلے میں بھی اسلام آیا۔‘
انٹرنیٹ  پر دستیاب معلومات کےمطابق چنگیزخان  ایک عظیم الشان سلطنت کے فرمانرواتھے اور اپنے عروج کے دورمیں منگول سلطنت تین کروڑ مربع کلومیٹر پرپھیلی ہوئی تھی جبکہ موجودہ دور میں اس علاقے کی کل آبادی تین ارب کے قریب ہے۔
عرفان خان کے مطابق منگول تاجکستان، ترکمستان، ازبکستان ،  سنکیانگ (موجودہ چین کا مسلم آبادی کا صوبہ)، ثمر قند اور بخارا میں آباد تھے۔ 
افغانستان میں جن چار صوبوں میں جن علاقوں میں ہزارہ رہتے ہیں ان علاقوں کو ہزارہ جات کہا جاتا ہے۔  افغانستان کا خوبصورت صوبہ بامیان میں ہزارہ قبیلے کے افرادکی تعداد سب سے  زیادہ ہے۔

یہ قبیلہ ہزارہ کیوں کہلاتا ہے؟

عرفان خان کے مطابق ہزارہ قبیلے والے ایک خاص جنگی حکمت عملی رکھتے تھے۔ یہ  مختلف سمتوں میں اس طرح  ٹولیوں کی صورت نکلتے تھے کہ ہر ٹولی  میں سپاہیوں کی کل  تعداد ایک ہزار  ہوتی تھی، جس سے ان کا نام بھی ہزارہ جات مشہور ہوگیا جو بعد میں صرف ہزارہ رہ گیا۔  تاہم خیبر پختونخواہ کے ہزارہ ڈویژن سے اس قبیلے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔  

ہزارہ کوئٹہ میں کس معاہدےکے تحت آباد ہوئے ؟

عرفان خان کہتےہیں کہ افغانستان  کے فرمانروا امیر عبدالرحمان کے ظلم سےتنگ آکر ہزارہ قبیلے کے افراد کوئٹہ کے جس علاقے میں آ کر آباد ہوئے اسے مری آباد کہا جاتا تھا اور جو اس وقت مری قبیلے کی چراگاہیں تھیں۔
’ہزارہ قبیلے نے مری قبیلے سے ایک معاہدے کے تحت یہ علاقہ لیز پر لے لیا۔ اس معاہدے کو عملی شکل دینے میں اس وقت حکمران انگریزوں نے مددکی۔‘
 پروفیسر ناظر  حسین جو ہزارہ قبیلے سے ہیں نے اردو نیوز کو بتایا کہ ہزارہ قبیلے کے افراد  زمانہ امن میں بھی سردیوں میں بلوچستان کا رخ کرتے تھے، اس لحاظ سے  کوئٹہ ان کے لیے کوئی نئی جگہ نہیں تھی۔  انگریزوں نے ہزارہ پائنیر کے نام سے فوج بنائی جس نے کارنامے  سرانجام دیے۔ ہزارہ قبیلے کے فوجیوں کو فرانس بھی لڑنے کے لیے بھیجا گیا۔  
 ’بعد  میں  یہ 106 ہزارہ پائنیر کے نام سے یونٹ بن گئی ۔ پائنیر کا مطلب وہ فوجی جو جنگ میں آگے آگے رہتے ہیں، رستے نکالتے ہیں اور لڑائی کے لیے راہ ہموار کرتے ہیں۔ ‘
 پروفیسر ناظر نے ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے ایک آرمی چیف جنرل موسیٰ  خان کی کتاب  From Jawan to General  کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ قبیلہ جنگ میں اہم کارنامے سرانجام دیتا تھا۔

ہزارہ قبیلہ ہی ہدف کیوں؟

پروفیسر ناظر کا کہنا ہے کہ ‘ہزارہ قبیلے کو ہدف بنانے میں افغانستان  کے فرمانروا امیر عبدالرحمان کو انگریز کی حمایت حاصل تھی ،اس کے باوجود جب  عبدالرحمان کو ہزارہ  سے شکست نظر آنے لگی تو پھر انہوں نے چند علماء سے فتوی ٰ حاصل کیا  کہ   ہزارہ کافر ہیں۔
‘اس فتوے کو بلوچستان تک پہنچایا گیا۔ ظلم و ستم کایہ  سلسلہ  بڑھ گیا تو  پھر ہزارہ قبیلے کے افراد  ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔  طالبان کے دور میں ہزارہ قبیلے کے زیادہ افراد آئے۔‘
عرفان کہتےہیں کہ 1890 میں  جب افغانستان کے حکمران عبدالرحمان نے ہزارہ قبیلے کے خلاف  بڑا  آپریشن کیا تو اس وقت اس کی وجہ مذہبی نہیں تھی۔شاید بعد میں ہونےوالےواقعات میں مذہب کا عنصر بھی شامل ہوگیا۔ تاہم اس آپریشن کے بعد ہزارہ کی بڑی تعداد نے کوئٹہ کا رخ کیا۔
”عدم تحفظ کا شکار یہ  قبیلہ عبدالرحمان کےچنگل سے نکلنےمیں ضرور کامیاب ہوا لیکن درد سے رہائی پھر بھی  ممکن نہ ہوسکی۔‘
عرفان خان کہتے ہیں عبدالرحمان کے ہزارہ کے خلاف کارروائی کے بعد طویل عرصہ امن رہا،  ہزارہ قبیلے کے لیے  موجودہ مشکل صورتحال   روس اور امریکہ کی افغانستان میں مداخلت کے بعد  پیدا ہوئی۔شروع میں اس قبیلے پر حملوں کی وجہ مذہب نہیں تھی لیکن شاید بعد میں یہ بھی ایک وجہ بنی۔

ڈاکٹر علی کمیل  یونیورسٹی میں فارسی  کے استاد ہیں ۔ ان کے مطابق بلوچستان میں بسنے والے  تمام ہزارہ اہل تشیع مسلک سے تعلق رکھتے  ہیں اور یہاں ان پر حملے کے پیچھے  اصل وجہ فرقہ واریت ہی ہے۔  
یہی وجہ ہے کہ جب بھی ان پر حملہ ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری صرف شدت پسند اور فرقہ پرست تنظیمیں ہی قبول کرتی ہیں۔
افغانستان کےصوبے مزار شریف میں ایک حملےمیں دو ہزار تک ہزارہ قبیلے کے افراد مارے گئے۔
تجزیہ کار شفیق منصوری  کےمطابق  پاکستان کی فرقہ وارانہ تنظیموں سپاہ صحابہ اور لشکرجھنگوی کے جہادی کارکنوں نے بھی اس حملے میں حصہ لیا۔
انھوں نے بتایا کہ جب امریکہ نے افغانستان میں مداخلت کی تو بون معاہدے کےتحت افغانستان میں سب قبائل کو حکومت میں حصہ دار بنایا گیا تو تب ہزارہ قبیلے کو بھی اہم عہدے دیے گئے جو طالبان کو ناگوار گزرے اور انہوں نے اس قبیلے کے افراد کو افغانستان میں جبکہ ان کی نظریاتی حلیف گروپس نے پاکستان میں اس قبیلے کو نشانہ بنایا۔

ہزارہ ترکوں کا قبیلہ ہیں؟

 محمد دکیابیر ترکی کے سرکاری میڈیا چینل سے وابستہ ہیں۔ ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملوں کے بعد  امریکہ نے  جب افغانستان پر حملہ کیا تو اس وقت نیٹو  کے اتحادی کے طور پر ترک فوج افغانستان آئی تو اس وقت دکیابیر ترک فوج کے ساتھ افغانستان بھی آئے ۔  
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہزارہ قبیلہ دراصل ترکوں کا ہی ایک قبیلہ ہے جو جنگوں کے دوران افغانستان میں رہ گیا تھا۔ دکیابیر کے مطابق ہزارہ اپنی شکل و صورت اور کلچر میں ترک النسل ہی ہیں۔
تاہم عرفان خان کےمطابق خود ترکوں کا جنم  بھی مشرق وسطیٰ سے ہی  ہوا ہے  اور بعد میں یہ ترکی جاکر آباد ہوگئے۔ 
’چنگیز خان کی اولاد میں سے ہی مختلف قبیلے پھیلے۔ کچھ منگول تو ہیں کچھ مغل کہلاتے ہیں۔ مغل قبیلے کے مشہور بادشاہ ظہیرالدین بابر تھے، جن کا مزار کابل شہر کے وسط میں واقع ہے۔
عثمان قاضی، جو اس وقت دمشق میں  اقوام متحدہ کے ادارے سےمنسلک ہیں،  نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ  یہ اندازہ لگانامشکل ہے کہ ہزارہ چنگیزی ہیں یا نہیںالبتہ  بامیان میں ان کی موجودگی اور انخلا ایک تاریخی حقیقت ہے۔ 
پروفیسر ناظر حسین کے مطابق  اس  قبیلے سے متعل بہت  سی تھیوریز  ہیں۔   
پروفیسر ناظر بھی   سمجھتے ہیں کہ یہ قبیلہ ترک و منگول سے ہی ہے۔ منگول فتوحات کے بعد  کوئی نہ کوئی سردار مقرر کردیتے تھے،  جس کے بعد ہزارہ قوم پرست  سامنے آئے۔ 
 ہزارہ قبیلے کے منگول ہونے سے متعلق  پروفیسر ناظر آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک ریسرچ کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔ ’ڈی این اے ٹیسٹ سے بھی اس قبیلے کا تعلق منگول سے ہی ثابت ہوتا ہے۔‘
افغانستان کی سیاست میں متحرک علی سینا نے اردو نیوز سےبات کرتے ہوئے کہا  کہ افغان سیاسی عمل میں ہزارہ قبیلے کی حیثیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پہلے کی نسبت اب ہزارہ ذیادہ منظم ہیں اور اپنا مثبت کردار بھی ادا کر رہے ہیں۔

شیئر: