ورلڈ کپ: پاکستانی ٹیم میں شامل 'تجربہ اور عزم'

 
ندیم ذکاء

 

انگلینڈ میں ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ 2019 ء کے لیے پاکستانی ٹیم کا اعلان کر دیا گیا ہے جس میں تجربہ کار کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ نوجوان کھلاڑیوں کو بھی جگہ ملی ہے۔
کرکٹ کے پنڈتوں کے مطابق تجربہ کار اور نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل یہ ٹیم ورلڈکپ میں دنیائے کرکٹ کی دیگر ٹیموں کو حیران کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
اس ٹیم میں شامل کچھ تجربہ کار کھلاڑی ایسے بھی ہیں جو ماضی میں کئی اہم موقعوں پر پاکستانی ٹیم کی فتح میں کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں۔ اس مضمون میں ایسے ہی کھلاڑیوں کے کرکٹ کیرئیر اور کارکردگی کا جائزہ لیا گیا ہے۔
سرفراز احمد
ورلڈکپ کے لیے پاکستانی ٹیم کے کپتان اور وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد کا تعلق کراچی سے ہے۔انہوں نے 2007 ءمیں شعیب ملک کی قیادت میں روایتی حریف انڈیا کے خلاف ڈیبیو کیا تھا۔ تب سے اب تک انہوں نے101 ون ڈے میچز کھیلتے ہوئے 2 سنچریوں اور 9نصف سنچریوں کی مدد سے 19 سو 42 رنز بنا ئے ہیں۔
اس کے علاوہ وکٹوں کے پیچھے وہ 98 کیچ پکڑنے کے ساتھ ساتھ 23 اسٹمپ آوٹ بھی کر چکے ہیں۔ وہ بطور کپتان وکٹ کے پیچھے سے جارحانہ اور دلچسپ فقرے کسنے کی وجہ سے خاصے مشہور ہیں۔
گزشتہ سیریز میں جنوبی افریقہ کی ٹیم کے کھلاڑی کے خلاف نسل پرستانہ جملے بولنے پر سرفراز کو آئی سی سی کی جانب سے 4 میچز کی پابندی کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔
تاہم اس سب کے باوجود انہیں بطور کپتان پاکستان کے لیے چیمپئینز ٹرافی جیتنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ورلڈکپ میں بھی پاکستانی کرکٹ مداحوں کی ان سے خاصی امیدیں وابستہ ہیں۔
شعیب ملک
سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے 37 سالہ شعیب ملک کا شمار پاکستان کے مایہ ناز آل راونڈرز میں ہوتا ہے۔ وہ ورلڈکپ کے لیے اعلان کردہ پاکستانی ٹیم کے سب سے تجربہ کار کھلاڑی ہیں۔
انھوں نے 1999 ء میں ون ڈے کیرئیر کا آغاز وسیم اکرم کی کپتانی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ کھیل کر کیا تھا۔ اس وقت ان کی عمر محض 17 برس تھی۔
گزشتہ 2 دہائیوں کے عرصے میں وہ اب تک 282 ون ڈے میچز میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے9 سنچریوں اور 44 نصف سنچریوں کی مدد سے لگ بھگ ساڑھے سات ہزار رنز بنا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ شعیب ملک نے اپنی اسپن بولنگ کے ذریعے 156 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھا ئی ہے جس میں 19 رنز کے عوض4 وکٹیں ان کی بہترین پرفارمنس ہے۔
شعیب ملک ماضی میں پاکستان ٹیم کی کپتانی بھی کر چکے ہیں۔ ان کے بقول یہ ان کا آخری ورلڈ کپ ہے اور وہ اپنا تمام تر تجربہ بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کو ورلڈ چیمپیئن بنوانے کے لیے پرعزم ہیں۔
محمد حفیظ
پروفیسر کے نام سے مشہور پاکستان ٹیم کے سابق کپتان اور آل راونڈر محمد حفیظ کی ورلڈ کپ ٹیم میں شمولیت فٹنس سے مشروط ہے، تاہم اگر وہ فٹ ہورہے تو ٹیم کا حصہ بننے پراپنے تجربات کے ساتھ پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
سرگودھا سے تعلق رکھنے والے 38 سالہ محمد حفیظ نے اپنے ون ڈے کیرئیر کا آغاز شارجہ میں زمبابوے کے خلاف بطور اوپننگ بیٹسمین 2003 ءمیں کیا تھا۔ اس وقت مایہ ناز سابق وکٹ کیپر راشد لطیف ٹیم کے کپتان تھے۔
 محمدحفیظ اب تک 208 ون ڈے میچز میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 11 سنچریوں اور 36 نصف سنچریوں کی مدد سے6 ہزار سے زائد رنز بنا چکے ہیں جس میں 140 رنز ناٹ آوٹ ان کا سب سے بہترین ا سکور ہے۔
اس کے علاوہ حفیظ 137 وکٹیں بھی حاصل کر چکے ہیں جس میں 41 رنز کے عوض4 وکٹیں ان کی بہترین بولنگ کارکردگی ہے۔ خاص طور پر بائیں بازو کے بیٹسمینوں کے خلاف ان کا بولنگ ریکارڈ شاندار ہے تاہم اپنے متنازعہ بولنگ ایکشن سے انہیں ماضی میں آئی سی سی کی پابندیوں کا سامنا بھی رہا ہے۔
شعیب ملک کی طرح محمد حفیظ بھی اپنے کیریئر کا آخری ورلڈ کپ کھیل رہے ہیں۔ ماضی میں انھوں نے بولنگ ایکشن رپورٹ ہونے کے باعث ٹیم سے آوٹ ہونے اور کلیئر ہو کر واپس آنے کی وجہ سے مایوس ہو کر کئی مرتبہ ریٹائرمنٹ کا عندیہ دیا مگر اہلیہ کی خواہش پر واپس آئے۔
دیکھتے ہیں کہ ورلڈکپ میں وہ اپنے تجربے کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے پاکستان ٹیم کے لیے کس قدر مفید ثابت ہوتے ہیں۔ تینوں تجربہ کار کھلاڑیوں کی مشترکہ اور خاص بات یہ ہے کہ ڈیبیو میچ کی فتح میں تینوں نے اہم کردار ادا کیا ۔ 
 

شیئر: