بسنت پر لاہور میں 20 ارب روپے سے زائد کی معاشی سرگرمی ہوئی: کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن
بسنت پر لاہور میں 20 ارب روپے سے زائد کی معاشی سرگرمی ہوئی: کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن
پیر 9 فروری 2026 19:20
لاہور میں تین روز تک جاری رہنے والے بسنت فیسٹیول نے نہ صرف شہر کی ثقافتی رونقیں بحال کیں بلکہ معیشت کو بھی نمایاں طور پر متحرک کیا۔
آل پاکستان کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن (اے پی کے ایف اے) کے مطابق بسنت کے دوران شہر بھر میں 20 ارب روپے سے زائد کی معاشی سرگرمیاں ریکارڈ کی گئیں۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے اے پی کے ایف اے کے سرپرستِ اعلیٰ عقیل ملک نے کہا کہ بسنت کی کامیاب اور محفوظ تقریبات نے لاہور کے ’کھوئے ہوئے تہوار‘ کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 10 سے 70 سال تک کے شہری گھروں کی چھتوں پر پتنگ بازی سے لطف اندوز ہوتے نظر آئے، جس سے شہر میں خوشی کی فضا قائم ہوئی۔
عقیل ملک نے بسنت کی بحالی کا کریڈٹ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی تعاون کے بغیر اس تہوار کی واپسی ممکن نہیں تھی۔ ان کے مطابق بسنت صرف ثقافتی تقریب نہیں بلکہ ایک بڑا معاشی محرک بھی ثابت ہوا، جس کے نتیجے میں دکانداروں، ٹرانسپورٹ سروسز اور چھوٹے کاروباری افراد کو نمایاں فائدہ پہنچا۔
پنجاب کی سینئیر وزیر مریم اورنگزیب نے پیر کے روز بتایا کہ بسنت کے دوران مختلف شہروں سے تقریباً 10 لاکھ سے زائد گاڑیاں لاہور میں داخل ہوئیں، جو فیسٹیول میں غیر معمولی شرکت کی عکاسی کرتی ہیں۔ مزید برآں تقریباً 2 لاکھ شہریوں نے روزانہ اورنج لائن میٹرو ٹرین، میٹرو بس اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے مفت سفر کیا، جسے مؤثر ٹرانسپورٹ انتظامات اور عوامی جوش و خروش کی علامت قرار دیا گیا۔
عقیل ملک نے کہا کہ ایسوسی ایشن کی جانب سے مرتب کردہ سخت ایس او پیز نے فیسٹیول کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور لاہور میں بسنت کے دوران ڈور کے گلے میں پھنسنے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ ان کے مطابق موٹر سائیکلوں پر حفاظتی راڈز کی تنصیب بھی حادثات کی روک تھام میں مؤثر ثابت ہوئی۔
عقیل ملک کا کہنا تھا کہ محفوظ بسنت نے شہریوں کے چہروں پر مسکراہٹیں لوٹا دیں (فوٹو: اے ایف پی)
تاہم اے پی کے ایف اے نے غیرقانونی منافع خوری پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔ عقیل ملک کے مطابق بانس اور کاغذ فروخت کرنے والوں نے بلاجواز قیمتیں بڑھائیں جبکہ پتنگ سازوں نے بھی نرخوں میں نمایاں اضافہ کیا، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ جن افراد نے زائد قیمتیں وصول کیں ان کی فہرستیں مرتب کر لی گئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ سال حکومت پورے پنجاب میں بسنت منانے کا ارادہ رکھتی ہے اور مستقبل میں استحصال روکنے کے لیے پتنگوں اور ڈور کی سرکاری قیمتیں مقرر کی جائیں گی۔ عقیل ملک نے امید ظاہر کی کہ مارچ میں بھی بسنت منانے پر غور کیا جا رہا ہے اور بہتر ضابطہ بندی سے اس تہوار کو مزید محفوظ اور قابلِ استطاعت بنایا جا سکے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ محفوظ بسنت نے شہریوں کے چہروں پر مسکراہٹیں لوٹا دیں اور لاہور کی ثقافتی شناخت کو دوبارہ اجاگر کیا، جس سے ثابت ہوا کہ مناسب منصوبہ بندی کے ذریعے روایتی تہواروں کو فروغ دیتے ہوئے عوامی تحفظ اور معاشی ترقی دونوں کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
حکومت کی جانب سے بسنت کے معاشی اثرات پر ابھی سرکاری طور پر اعدادوشمار جاری نہیں کیے گئے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
خیال رہے کہ بسنت سے پہلے ہی لوگوں ہوٹلز بک کروا لیے تھے اور بسنت کے نزدیک ہوٹل میں کمرہ لینا ایک مشکل کام بن چکا تھا جس کے بعد لوگوں نے اپنی رہائش کا بندوبست ائیر بی این بی کے ذریعے بھی کیا۔
تاہم حکومت کی جانب سے بسنت کے معاشی اثرات پر ابھی سرکاری طور پر اعدادوشمار جاری نہیں کیے گئے ہیں۔ وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے اردو نیوز کو بتایا کہ یہ اعدادوشمار 20 ارب سے کم تو نہیں ہوں گے البتہ زیادہ ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ابھی ہم تمام محکموں سے رپورٹس اکھٹی کر رہے ہیں جس کے بعد حتمی رپورٹ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کو پیش کی جائے گی اور سرکاری اعدادوشمار عوام کے سامنے بھی رکھے جائیں گے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ اس تہوار نے عوام کو ایک نئی توانائی بخشی ہے۔‘