سعودی عرب میں رمضان پر ’رعایتی سیل‘ کے لیے 1987 پرمٹ، 50 لاکھ اشیا پر رعایت
رعایتی سیل کے لیے وزارتِ تجارت کا این او سی ضروری ہے۔ (فوٹو: ایکس اکاونٹ)
سعودی وزارتِ تجارت نے ماہ رمضان اور عید الفطر کے موقع پر مملکت کے مختلف شہروں میں تجارتی سیل کے لیے 1987 پرمٹ جاری کیے ہیں۔
سعودی خبررساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق مملکت میں ’رمضان سیل‘ مہم کا آغاز فروری کے شروع میں کردیا گیا تھا جو عید الفطر کے بعد تک جاری رہے گی۔
تجارتی اشیا پر رمضان اور عید الفطر سیل کے لیے وزارتِ تجارت کا این او سی ضروری ہوتا ہے۔
پرمٹ کے بغیررعایتی نرخوں کا اشتہار دینا یا اس حوالے سے صارفین کو راغب کرنا غیرقانونی تصور کیا جاتا ہے۔
وزارتِ تجارت نے بتایا ’اب تک جن کمپنیوں کو مارکیٹوں یا آن لائن کے لیے سیل پرمٹ جاری کیے گئے ہیں ان کے مطابق 50 لاکھ اشیا کو رعایتی نرخوں پرفروخت کیا جائے گا۔‘
ان میں اشیائے خورونوش، الیکٹرانک ڈیوائسز، ملبوسات، کاسمیٹکس وغیرہ شامل ہیں۔
خیال رہے مملکت میں کسی بھی نوعیت کی تجارتی اشیا پرسیل کا اعلان اس وقت تک نہیں کیا جاتا جب تک تجارتی ادارے وزارت سے این او سی حاصل نہ کریں۔
این اوسی یا پرمٹ کے لیے وزارت کی جانب سے مقرر کردہ ضوابط کی پابندی ضروری ہے۔
رعایتی سیل کا اعلان کرنے سے قبل وزارت کو ان اشیا کی اصل قیمت اور رعایتی نرخ کا تناسب ظاہر کرنا ہوتا ہے، جس کا مقصد تجارتی دھوکہ بازی سے صارفین کو محفوظ رکھنا ہے۔
وزارت تجارت کی جانب سے تاجروں کو بھی اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ سیل کے پرمٹ کی جانچ کے لیے بارکوڈ کو ظاہر کریں تاکہ صارفین اپنی تسلی کرلیں۔
وزارت نے یقین دہانی کرائی کہ’ تفتیشی ٹیمیں مارکیٹوں کا دورہ کرتی رہیں گی تاکہ سیل کے حوالے سے غلط بیانی کرنے والوں کے خلاف کارراوئی کی جائے۔‘
