نوازشریف کی علاج کے لیےبرطانیہ جانے کی درخواست

سابق وزیراعظم نوازشریف نے  سپریم کورٹ میں ایک درخواست جمع کرائی گئی ہے جس میں ان کو لاحق بیماریوں کی تفصیلات بتائی گئی ہیں اور عدالت سے علاج کے لیے برطانیہ جانے کی اجازت مانگی  گئی ہے۔

جمعرات کونوا ز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی طرف سےجمع کرائی گئی درخواست میں نوازشریف نے سپریم کورٹ سےدرخواست کی ہے کہ وہ اپنے پہلے فیصلے پر نظرثانی کرے، جس میں 26  مارچ کو عدالت نے زبانی حکم میں کہا تھا کہ اگر سابق وزیراعظم ضمانت میں توسیع چاہتے ہیں تو پھراسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرسکتے ہیں،لیکن بعد میں یہ جملہ تحریری حکم نامے میں شامل نہیں تھا۔وکیل کا کہنا تھا کہ ’ شاید ایسا کسی غلطی سے ہوا ہے، لیکن یہ غلطی ریکارڈ پر ابھی بھی موجود ہے۔ ‘
اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت نے نوازشریف کو بدعنوانی کے ایک ریفرنس میں قصور وار قراردے کرسات سال کی سزا سنارکھی ہے۔ سابق وزیراعظم نے خرابی صحت کی بنیاد پر سپریم کورٹ سے چھ ہفتوں کی عارضی ضمانت حاصل رکھی ہے، جس کی مدت 9مئی کو ختم ہو رہی ہے۔
احتساب عدالت کے فیصلے کے بعد پاکستان کے قومی احتساب بیورو کی درخواست پر وزارت داخلہ نے نوازشریف کا نام ای سی ایل میں ڈال دیاتھا ،جس کے باعث وہ ملک سے باہر سفر نہیں کرسکتے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ نوازشریف کو برطانیہ میں اسی طرز کا علاج درکار ہے جو  وہاں ان کے معالج کررہے تھے۔

 

شیئر: