Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان کے ساتھ کشیدگی، انڈین وزات دفاع کی بجٹ میں فوجی اخراجات 20 فیصد بڑھانے کی خواہش

حکومت 2026-27 کے لیے مالی خسارہ جی ڈی پی کے 4.2 فیصد تک رکھنے کا امکان رکھتی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا آج  اتوار کو اپنا سالانہ بجٹ جاری کرے گا جس میں وزارتِ دفاع گذشتہ برس پاکستان کے ساتھ ہونے والی کشدگی کے بعد زیادہ فوجی اخراجات کی خواہش رکھتی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انڈین صنعتوں کی جانب سے مارکیٹ ٹرانزیکشنز پر ٹیکس کی شرح اور کسٹمز ڈیوٹی میں کمی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، اور حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کے قوانین میں نرمی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
مالی خسارہ اور حکومتی قرضہ
ماہرینِ معاشیات توقع کرتے ہیں کہ بجٹ کا مرکزی فوکس حکومتی قرضے کو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 56 فیصد سے کم کرکے 2031 تک 49 سے 51 فیصد کے درمیان لانے پر ہوگا، کیونکہ عالمی سرمایہ کار ان اعداد و شمار کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔
حکومت 2026-27 کے لیے مالی خسارہ جی ڈی پی کے 4.2 فیصد تک رکھنے کا امکان رکھتی ہے، جو اس سال کے 4.4 فیصد سے کم ہے۔ مجموعی حکومتی قرضہ اس سال کے 14.6 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 16 سے 16.8 ٹریلین انڈین روپے (174 سے 183 ارب ڈالر) ہونے کی توقع ہے۔
دفاع
وزارتِ دفاع اپنے روایتی حریف پاکستان کے ساتھ ہونے والی جھڑپ کے بعد دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافہ چاہتی ہے۔ نئی دہلی دفاعی اداروں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے قوانین میں نرمی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
ایف آئی سی سی آئی نے دفاعی صنعتی راہداریوں کی تعمیر اور ایک ایکسپورٹ پروموشن کونسل کے قیام کی تجویز دی ہے تاکہ 2029 تک 5.5 ارب ڈالر کے دفاعی برآمدات کے ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔
بنیادی ڈھانچے پر اخراجات
ماہرین توقع کرتے ہیں کہ حکومت سرمایہ جاتی اخراجات کو جی ڈی پی کے تقریباً 3.1 فیصد کے آس پاس برقرار رکھے گی۔

برآمدکنندگان کی خواہش ہے کہ ضابطوں میں نرمی اور طویل مدتی مالی معاونت فراہم کی جائے (فوٹو: انڈین ایکسپریس)

آمدنی اور کھپت پر ٹیکس میں حالیہ کمی سے بجٹ میں سرمایہ جاتی اخراجات کو 12 ٹریلین روپے سے زیادہ بڑھانا مشکل ہوجائے گا، جو اس مالی سال کے 11.2 ٹریلین روپے سے کچھ زیادہ ہے۔
برآمدات
فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشنز ٹیکسٹائل، الیکٹرانک اجزا اور کیمیکلز جیسی برآمدی صنعتوں کے لیے اہم خام مال پر امپورٹ ڈیوٹی میں کمی کا مطالبہ کر رہی ہے تاکہ مقامی پیداوار کو فروغ دیا جا سکے۔
برآمدکنندگان کی خواہش ہے کہ ضابطوں میں نرمی اور طویل مدتی مالی معاونت فراہم کی جائے، کیونکہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے انڈین مصنوعات پر عائد 50 فیصد ٹیرف کے باعث دباؤ کا شکار ہیں۔

 

شیئر: