پاکستان میں سرکاری حکام اور سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ کوئٹہ سمیت صوبہ بلوچستان کے 10 سے زائد اضلاع میں عسکریت پسندوں کے منظم اور مربوط حملوں کے بعد سکیورٹی فورسز کی جانب سے وسیع پیمانے پر جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔
حکام کے مطابق مختلف علاقوں میں ہونے والی ان کارروائیوں کے دوران اب تک درجنوں حملہ آور مارے جا چکے ہیں جبکہ سویلین اور سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔
سنیچر کی رات اور صبح کو ہونے والے حملوں کے بعد سکیورٹی ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ’مؤثر جوابی کارروائیوں میں دہشت گرد حملے ناکام بناتے ہوئے اب تک 67 دہشتگرد مارے جاچکے ہیں۔‘
مزید پڑھیں
سکیورٹی ذرائع کے مطابق ’گزشتہ روز بھی پنجگور اور ہرنائی کے قریب شعبان میں مختلف کارروائیوں میں 41 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ اس طرح گزشتہ دو روز کے دوران آپریشنز میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی تعداد 108 تک پہنچ گئی ہے۔‘
سکیورٹی ذرائع کی جانب سے بتایا گیا کہ ’پاکستان کی بہادر مسلح افواج، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور بلوچستان پولیس نے جرأت و بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا۔‘
سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ان حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دوران کم از کم 10 سکیورٹی اہلکار جان کی بازی ہار گئے۔
تاہم اردو نیوز کو مختلف سرکاری حکام نے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے 10 سے زائد اضلاع میں ہونے والے ان حملوں میں 42 سویلین اور سکیورٹی اہلکاروں کی اموات کی تصدیق کی ہے۔
بلوچستان پولیس کے ایک سینیئر عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے حملوں میں پولیس کے 14 اہلکاروں اور ایک سکیورٹی اہلکار کی اموات کی تصدیق کی۔
انہوں نے بتایا کہ ’کوئٹہ میں 13 افسران اور اہلکار فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید جبکہ 18 زخمی ہوئے ہیں جبکہ ایک پولیس اہلکار قلات میں شہید ہوا ہے جبکہ ایک سکیورٹی اہلکار کی شہادت گوادر کے علاقے پسنی میں ہوئی ہے۔‘
27 شہریوں کی اموات کی بھی حکام نے تصدیق کی ہے جن میں 12 گوادر، سات کوئٹہ، سات خاران اور ایک کیچ میں رپورٹ ہوئی ہے جبکہ ان حملوں میں 50 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
بلوچستان میں بڑے پیمانے پر ہونے والے ان حملوں کی ذمہ داری بلوچستان میں سرگرم کالعدم بلوچ علیحدگی پسند مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے جس نے ان کارروائیوں کو ’ہیروف 2‘ کا نام دیا ہے۔
یہ کالعدم تنظیم تنظیم اس سے قبل اگست 2024 میں بھی اسی نوعیت کے درجنوں منظم حملے بیک وقت کر چکی ہے جس میں 50 سے زائد افراد کی اموات ہوئی تھی۔ تاہم کوئٹہ میں بی ایل اے کی جانب سے یہ اپنی نوعیت کا پہلا بڑا حملہ ہے جس میں شہر کے مختلف علاقوں میں حساس مقامات کو بیک وقت نشانہ بنایا گیا۔

انڈیا نے بلوچستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کی: وفاقی وزیر داخلہ
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ’انڈیا نے بلوچستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کی۔ دہشت گردوں اور ان کے ماسٹرز کو نہیں چھوڑیں گے۔‘
سنیچر کی شب کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے میڈیا سے گفتگو کی۔
اس موقعے پر محسن نقوی نے کہا کہ دہشت گردوں نے منصوبہ بندی کے تحت حملے کیے۔ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا، جو بھی دہشت گرد آیا وہ بچ کرواپس نہیں گیا،دہشت گردوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مارا گیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ ’تمام سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ فورسز نے دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور ان کو ہلاک کیا، دنیا کو پتا چلنا چاہیے کہ ان حملوں کے پیچھے انڈیا ہے۔ انڈیا نے ان حملوں کی منصوبہ بندی کی، ہم ایک ایک چیز کے پیچھے جائیں گے، دہشت گردوں ان کے ماسٹررز کو نہیں چھوڑیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’انڈیا دہشت گردوں کی مالی مدد کے ساتھ منصوبہ بندی اور حکمت عملی میں بھی سپورٹ کر رہا ہے، انڈیا کو اسی طرح شکست ہو گی جس طرح پہلے ہوئی ہے۔‘

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ ’دہشت گردوں نے گوادر میں لیبر کالونی میں گھس کر بلوچ فیملی کی خواتین اور بچوں کو بےدردی سے شہید کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’اس طرح کے 10 حملے بھی ہمارے عزم کو کمزور نہیں کرسکتے۔ شہدا کے خاندانوں کے حوصلے بلند ہیں۔‘
کوئٹہ شہر میں کیا ہوتا رہا؟
حکام کے مطابق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں حملوں کا آغاز سنیچر کی صبح قریباً چھ بجے ہوا۔ درجنوں مسلح افراد نے بیک وقت شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس تھانوں، ایف سی کے ناکوں اور سکیورٹی چوکیوں پر حملے کیے۔ شہر کے بلوچ اکثریتی علاقوں خصوصاً سریاب روڈ، میاں غنڈی، مستونگ روڈ اور سریاب کسٹم میں رہائشی دھماکوں اور فائرنگ کی آوازوں سے جاگ اٹھے۔
ابتدائی حملوں کے بعد کارروائیوں کا دائرہ شہر کے حساس علاقوں تک پھیل گیا۔ زرغون روڈ، ریڈ زون کے اطراف اور ریلوے اسٹیشن کے قریب مسلح افراد کو بھاری اسلحے کے ساتھ دیکھا گیا جہاں پولیس، ایف سی اہلکاروں اور حملہ آوروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ وائٹ روڈ، جمالی روڈ اور ملحقہ علاقوں میں بھی فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔ مسلح افراد نے مختلف عمارتوں کی چھتوں پر مورچے سنبھال کر سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔
سریاب تھانے پر فائرنگ کے علاوہ تھانے کے قریب گشت کرنے والی پولیس موبائل کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں گاڑی میں آگ لگ گئی اور اس میں سوار دو اہلکار موقعے پر ہی دم توڑ گئے ۔
شہر میں بگڑتی صورتحال کے پیش نظر کوئٹہ چھاؤنی اور ریڈ زون جہاں گورنر ہاؤس، وزیراعلیٰ ہاؤس، سول سیکریٹریٹ اور دیگر اہم سرکاری دفاتر واقع ہیں، جانے والے تمام راستے سیل کر دیے گئے اور سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی۔
ساڑھے نو بجے کے قریب زرغون روڈ پر ہاکی چوک کے مقام پر گورنر اور وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب جانے والے راستے پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی گئی۔ اس دھماکے میں متعدد اہلکار جان سے گئے۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ قریبی عمارتوں کےعلاوہ ایک کلومیٹر سے زائد فاصلے پر واقع عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ سول سیکریٹریٹ، سول ہسپتال اور دیگر کئی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا جبکہ شہر میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ دھماکے کا دھواں دور دور تک نظر آتا رہا۔
ایک نجی سکیورٹی کمپنی کے عہدے دار کے مطابق مسلح افراد نے ایک نجی اسکول میں داخل ہو کر پناہ لینے کی کوشش کی تاہم سکیورٹی گارڈ کے دروازہ بند رکھنے پر وہ قریبی عمارت کی چھت پر چڑھ کر مورچہ بند ہو گئے۔
اس دوران سریاب روڈ، دکانی بابا چوک، بلوچستان یونیورسٹی کے سامنے، جنگل باغ اور سبزل روڈ پر بھی مسلح افراد سڑکوں پر نظر آئے جہاں وہ شہریوں کو روک کر ان کی شناخت کرتے رہے۔
مشرقی بائی پاس کے علاقے میں مسلح افراد کے ایک بڑے گروہ نے پولیس تھانہ خالق شہید اور نیو پولیس لائن پر حملہ کر کے اندر داخل ہو کر سرکاری ریکارڈ اور سامان کو آگ لگا دی۔

حملے کے وقت سڑک پر شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مسلح افراد کے انخلا کے بعد ہجوم تھانے میں داخل ہو گیا اور وہاں موجود موٹر سائیکلیں اور دیگر سامان لوٹ لیا۔
ایک پولیس اہلکار کے مطابق مشرقی بائی پاس پر واقع تھانے پر حملے کے دوران مسلح افراد کی جانب سے داغا گیا راکٹ کا گولہ ایک گھر پر گرا جس سے گھر میں موجود متعدد افراد نشانہ بن گئے ۔
اسی دوران سریاب روڈ پر واقع پولیس تھانہ نیو سریاب اور اس سے متصل پولیس ٹریننگ کالج اور اے ٹی ایف کمپلیکس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ مسلح افراد نے راکٹ لانچر، دستی بم اور خودکار ہتھیاروں کا استعمال کیا جس سے عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
صبح قریباً آٹھ بجے مسلح افراد نے پولیس تھانہ شالکوٹ پر بھی حملہ کیا جہاں پولیس اہلکاروں نے شدید مزاحمت کی۔ شالکوٹ تھانے کے قریب واقع ہزار گنجی کے علاقے میں مسلح افراد کی بڑی تعداد دیکھی گئی جنہوں نے پانچ سرکاری و نجی بینکوں پر فائرنگ اور راکٹ حملے کیے۔
ایک سکیورٹی کمپنی کے عہدے دار کے مطابق مسلح افراد نے ایک بینک کے لاکر توڑنے کی کوشش کی تاہم ناکامی پر فائرنگ کر کے نقصان پہنچایا۔
مجموعی طور پر پانچ بینکوں فیصل بینک، میزان بینک، نیشنل بینک، بینک اسلامی اور بینک الفلاح کو نشانہ بنایا گیا۔
مسلح افراد کے جانے کے بعد شہریوں کے ہجوم نے بینکوں میں داخل ہو کر فرنیچر، جنریٹر اور دیگر سامان لوٹ لیا تاہم لاکرز میں موجود رقم محفوظ رہی۔
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے ہزارگنجی کی سبزی اور فروٹ منڈی میں موجود بیوپاریوں سے اسلحے کے زور پر بھاری رقوم بھی چھینیں۔
سول ہسپتال کوئٹہ کے ایک ڈاکٹر نے تصدیق کی ہے کہ ہسپتال میں کل 24 لاشیں لائی گئی ہیں جن میں 10 پولیس اہلکار جبکہ سات سویلین شامل ہیں جن کی لاشیں ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہیں جبکہ سات لاشیں نامعلوم ہیں جن کے بارے میں معلوم نہیں کہ وہ حملہ آور ہیں یا عام شہری۔
انہوں نے بتایا کہ سول ہسپتال میں مجموعی طور پر 43 زخمیوں کو لایا گیا جن میں پولیس اہلکار اور سویلین بھی شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق کوئٹہ میں فائرنگ اور دھماکوں میں جان کی بازی ہارنے والوں میں پولیس افسران ریڈ زون کے ڈی ایس پی میر فیصل یوسفزئی، انسپکٹر محمد زبیر اور اے ایس آئی محمودالرحمان بازئی بھی شامل ہیں۔ دیگر اہلکاروں کی شناخت حوالدار محمد اکرم، حوالدار بشیر احمد، غنی خان، محمد اشرف مندوخیل، محمد عادل اور شہزاد خان کے نام سے ہوئی۔

پولیس کے مطابق حملوں میں ایس پی انویسٹی گیشن سریاب ڈویژن شفقت جنجوعہ اور اے ایس آئی محمد نعیم سمیت 18 اہلکار زخمی ہوئے۔ زخمیوں اور لاشوں کو سول ہسپتال، بولان میڈیکل ہسپتال اور سی ایم ایچ منتقل کیا گیا۔
کوئٹہ میں شدید فائرنگ اور دھماکوں کے باعث شہر بھر میں خوف و ہراس پھیل گیا اور شہری گھروں، دکانوں، دفاتر اور ہسپتالوں میں محصور ہو کر رہ گئے۔
سول ہسپتال میں موجود ایک شہری عبداللہ نے بتایا کہ ہسپتال اور اطراف میں فائرنگ کی آوازوں کے باعث پولیس نے دروازے بند کر دیے۔
سول ہسپتال کے ڈاکٹر روح اللہ نے بتایا کہ دھماکے سے مختلف وارڈز اور ہاسٹلز کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور مریض و عملہ کئی گھنٹے اندر محصور رہا۔
اس صورتحال کے باعث جناح روڈ، ڈبل روڈ، پرنس روڈ اور منان چوک سمیت شہر کے دیگر مرکزی علاقوں میں دکانیں اور بازار بند رہے اور سڑکیں سنسان دکھائی دیں۔
کوئٹہ کی فضاؤں میں ہیلی کاپٹروں کی مسلسل پرواز جاری رہی جبکہ سکیورٹی فورسز نے مختلف علاقوں میں جوابی کارروائیاں کیں۔
سی ٹی ڈی کے مطابق ’سریاب روڈ پر فیض آباد کے قریب ایک کارروائی میں چار دہشت گرد مارے گئے۔‘ دیگر علاقوں میں بھی پولیس، سی ٹی ڈی، اے ٹی ایف، ایف سی اور سکیورٹی اداروں کی جھڑپوں میں مزید حملہ آوروں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔
فائرنگ اور دھماکوں کی زد میں آ کر کوئٹہ میں کم از کم چار شہری بھی ہلاک ہوئے۔

سول ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے تصدیق کی کہ چار لاشیں لائی گئیں جن کی شناخت کوئٹہ کے رہائشی یار خان لہڑی، ثناء اللہ خلجی، محمد حنیف خلجی اور محمد حنیف کے نام سے ہوئی۔ اس کے علاوہ کوئٹہ کے مختلف ہسپتالوں میں 20 سے زائد سویلین زخمیوں کو بھی لایا گیا۔
کوئٹہ کے علاوہ بلوچستان کے دیگر اضلاع مستونگ، قلات، نوشکی، چاغی، خضدار، خاران، کیچ، گوادر، لسبیلہ اور کچھی میں بھی مسلح افراد کی جانب سے حملے کیے گئے۔
ٹرین سروس اور سڑکوں پر ٹریفک معطل
حملوں کے باعث بلوچستان میں ٹرین سروس معطل کر دی گئی۔ ریلوے کنٹرول کے مطابق پشاور سے راولپنڈی اور لاہور کے راستے آنے والی جعفر ایکسپریس کو بلوچستان میں داخل ہونے سے جیکب آباد میں روک دیا گیا جبکہ کوئٹہ سے جانے والی جعفر ایکسپریس اور کوئٹہ سے چمن جانے والی چمن پسنجر ٹرین کی روانگی کو منسوخ کیا گیا۔ حملوں کے بعد بلوچستان کے مختلد شہروں میں انٹرنیٹ سروسز بند کر دی گئی ہیں جبکہ کوئٹہ میں متاثرہ مقامات کے آس پاس موبائل فون سروسز بھی معطل ہیں۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی حکام کے مطابق سکیورٹی خدشات کی وجہ سے کوئٹہ کو کراچی سے ملانے والی این 25 شاہراہ، کوئٹہ کو سکھر سے ملانے والی این 65 شاہراہ، کوئٹہ کو ڈیرہ غازی خان سے ملانے والی این 70 شاہراہ اور کوئٹہ کو تفتان سے ملانے والی این 40 شاہراہ کو بھی مختلف مقامات پر سکیورٹی فورسز نے آمدروفت کے لیے بند کر دیا جس کی وجہ سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور ہزاروں مسافر پھنس گئے جنہیں سخت سردی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
گوادر :
گوادر میں لیبر کالونی اور تحصیل پسنی میں سکیورٹی فورسز کے کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا۔ گوادر کے ایک سینیئر پولیس افسر کے مطابق ’مسلح افراد نے لیبر کالونی میں داخل ہو کر خواتین اور بچوں سمیت 100 سے زائد مزدوروں اور ان کے اہل خانہ کو یرغمال بنایا تاہم سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں خاتون سمیت پانچ دہشت گرد مارے گئے اور یرغمالیوں کو بازیاب کرا لیا گیا۔‘
تاہم حملہ آوروں کی فائرنگ سے پانچ مزدوروں، چار خواتین اور تین بچوں سمیت بارہ افراد کی موت ہوئی جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 11افراد زخمی ہوئے۔

پولیس افسر کے مطابق ’گوادر کے علاقے پسنی میں میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے دیوار سے بارود سے بھری گاڑی ٹکرا گئی گئی جس سے دیوار کو نقصان پہنچا۔ اس کے بعد دہشت گرد اندر داخل ہونے کی کوشش کی تاہم جوابی کارروائی میں بیرونی دیوار کے قریب ہی خاتون سمیت چھ دہشت گرد مارے گئے۔‘
انہوں نے تصدیق کی کہ اس حملے میں ایک اہلکار کی موت ہوئی اور ایک زخمی بھی ہوا۔
نوشکی :
نوشکی میں بھی علی الصبح درجنوں مسلح افراد نے ڈپٹی کمشنر کمپلیکس، ایف سی کیمپ ، جوڈیشل کمپلیکس، پولیس تھانوں، بینکوں اور سینٹرل جیل پر حملے کیے۔
محکمہ جیل خانہ جات کے ایک افسر کے مطابق مسلح افراد نے اسلحہ لوٹ کر وہاں موجود تمام قیدیوں کو فرار کرا دیا۔ مسلح افراد نے متعدد گاڑیوں کو بھی جلادیا۔
انہوں نے بتایا کہ حملے میں ایس پی جیل نوشکی کاشف زمان سمیت دو اہلکار معمولی زخمی ہوئے ہیں۔
بلوچستان حکومت کے ایک سینیئر افسر نے تصدیق کی ہے کہ مسلح افراد نے ڈپٹی کمشنر نوشکی محمد حسین ہزارہ کو بھی یرغمال بنا لیا اور ان کی ایک ویڈیو جاری کی جس میں وہ تصدیق کررہے ہیں کہ انہیں کالعدم تنظیم نے اغوا کر لیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر کی بازیابی کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا شاہد رند کا کہنا ہے کہ ’ڈپٹی کمشنر کی بازیابی کی اطلاع ہے جس کی مزید تصدیق کی جا رہی ہے۔‘
مستونگ:
کوئٹہ سے متصل ضلع مستونگ میں بھی سنیچر کی صبح سرکاری دفاتر، بینکوں اور سکیورٹی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ مسلح افراد نے سینٹرل جیل پر حملہ کر کے 27 قیدیوں کو رہا کرا لیا۔
مسلح افراد نے تحصیل آفس اور بینکوں کو آگ لگا کر نقصان پہنچایا جبکہ متعدد گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔مسلح افراد کے حملوں میں ایک پولیس اہلکار اور دو سویلین بھی زخمی ہوئے جنہیں نواب غوث بخش رئیسانی ہسپتال منتقل کیا گیا۔

قلات:
قلات میں درجنوں مسلح افراد شہر میں داخل ہوئے اور بیک وقت دو پولیس تھانوں، تحصیل آفس، نجی بینکوں اور جوڈیشل لاک اپ کو نشانہ بنایا۔ مسلح افراد نے تھانے کے گیٹ پر راکٹ گولے اور دستی بم پھینکے جس کی زد میں آ کر ایک پولیس اہلکار کی موت ہو گئی جبکہ دو زخمی ہوئے۔
افغانستان اور ایران کی سرحد سے متصل ضلع چاغی میں بھی ضلعی ہیڈ کوارٹر دالبندین میں سنیچر کی رات اور صبح دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق ’ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا گیا تاہم اسے ناکام بنا دیا گیا۔‘
خاران:
ضلع خاران میں مسلح افراد نے شہر کے مختلف علاقوں میں حملے کیے۔
ڈی ایس پی خاران محمد گل کے مطابق مسلح افراد نے جنگل روڈ پر نیو سبزل آباد میں قبائلی شخصیت شاہد گل کے گھر پر چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کی اور دستی بم پھینکے جس کے نتیجے میں شاہد گل ملازئی اور ان کے چھ محافظ ہلاک ہو گئے۔ مسلح افراد نے ان کے گھر اور گاڑی کو بھی آگ لگادی۔ڈی ایس پی کے مطابق فائرنگ کے ایک اور واقعہ میں ایک وکیل زخمی ہوا۔
کیچ:
گوادر اور پنجگور کے اضلاع اور ایران کی سرحد سے متصل ضلع کیچ میں مختلف مقامات پر مسلح افراد نے حملے کیے۔ عسکریت پسندوں نے کیچ کے ضلعی ہیڈ کوارٹر تربت میں سکیورٹی فورسز کے کیمپ کی جانب یکے بعد دیگرے متعدد حملے کیے۔
کیچ کے علاقوں تمپ، گومازی اور مند میں بھی حملے کیے گئے۔ مند میں نجی بینک کو نقصان پہنچایا جبکہ تمپ میں دو پولیس تھانوں پر حملے کیے گئے جن میں سے ایک تھانے سے گاڑی چھین لی گئی جبکہ دوسرے تھانے میں موجود اہلکاروں نے مزاحمت کی اور جوابی فائرنگ کی۔ پولیس کے مطابق جوابی کارروائی میں متعدد حملہ آور زخمی یا ہلاک ہوئے۔
ڈی ایس پی تمپ عبدالستار کے مطابق تمپ ہی میں سابق تحصیل دار عابد یار کو گھر میں گھس کر مسلح افراد نے اغوا کرنے کی کوشش کی تاہم انہوں نے مزاحمت کی جس پر مسلح افراد نے انہیں گولیاں مار کر قتل کر دیا۔

خضدار:
خضدار میں اوورناچ کے مقام پر کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ناکہ بندی کے دوران متعدد افراد کے اغوا کی اطلاعات سامنے آئی ہیں تاہم سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ناکہ بندی کے دوران جمعیت علماء اسلام سے تعلق رکھنے والے رکن بلوچستان اسمبلی میر ظفر زہری کو بھی روکا گیا۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے میر ظفر زہری نے تصدیق کی کہ عسکریت پسندوں نے کراچی جاتے ہوئے انہیں اور ان کے محافظوں کو روکا تاہم بعدازاں انہیں واپس چھوڑ دیا اور کراچی کی بجائے کوئٹہ جانےکا کہا۔
کچھی:
کچھی کے علاقے ڈھاڈر میں پولیس گاڑی نذر آتش کرنے اور اہلکاروں کو یرغمال بنانے کا واقعہ پیش آیا۔ کچھی کے علاقے مچھ میں مساجد سے اعلانات کیے گئے جس میں شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ہنگامی طور پر سنیچر کی شام کوئٹہ پہنچے اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، کور کمانڈر، آئی جی پولیس اور دیگر اعلیٰ سکیورٹی حکام سے ملاقاتیں کیں اور بریفنگ لی۔

وفاقی وزیر داخلہ، وزیراعلیٰ، کور کمانڈر اور دیگر اعلیٰ حکام نے پولیس لائن میں پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ میں بھی شرکت کی۔
اس سے قبل وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے آئی جی پولیس محمد طاہر خان کے ہمراہ کوئٹہ میں ریڈ زون کے قریب دھماکے کی جگہ کا دورہ کیا اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔
وزیراعلیٰ نے پولیس اور سی ٹی ڈی کے فوری اور مؤثر ردعمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’دہشت گرد عناصر کے خلاف بروقت کارروائی قابلِ تحسین ہے اور ریاست دشمن عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔‘
سکیورٹی ذرائع کے مطابق ’فتنہ الہندوستان کے حملوں کے جواب میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں اور مختلف علاقوں میں کی گئی جوابی کارروائیوں میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی تعداد 68 ہو گئی ہے۔‘
سکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ’ان کارروائیوں کے دوران دہشت گرد اپنے افغان ہینڈلرز کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور انڈین میڈیا و سوشل میڈیا کی جانب سے ان کی حمایت سامنے آئی جو مبینہ گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرتی ہے۔‘












