بلوچستان بچوں اور خواتین سمیت 42 ہلاکتیں، جوابی کارروائی میں 67 دہشت گرد مارے گئے
ہفتہ 31 جنوری 2026 19:00
زین الدین احمد، اردو نیوز، کوئٹہ
پاکستان میں سرکاری حکام اور سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ کوئٹہ سمیت صوبہ بلوچستان کے 10 سے زائد اضلاع میں عسکریت پسندوں کے منظم اور مربوط حملوں کے بعد سکیورٹی فورسز کی جانب سے وسیع پیمانے پر جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔
حکام کے مطابق مختلف علاقوں میں ہونے والی ان کارروائیوں کے دوران اب تک درجنوں حملہ آور مارے جا چکے ہیں جبکہ سویلین اور سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔
سنیچر کی رات اور صبح کو ہونے والے حملوں کے بعد سکیورٹی ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ’مؤثر جوابی کارروائیوں میں دہشت گرد حملے ناکام بناتے ہوئے اب تک 67 دہشتگرد مارے جاچکے ہیں۔‘
سکیورٹی ذرائع کے مطابق ’گزشتہ روز بھی پنجگور اور ہرنائی کے قریب شعبان میں مختلف کارروائیوں میں 41 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ اس طرح گزشتہ دو روز کے دوران آپریشنز میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی تعداد 108 تک پہنچ گئی ہے۔‘
سکیورٹی ذرائع کی جانب سے بتایا گیا کہ ’پاکستان کی بہادر مسلح افواج، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور بلوچستان پولیس نے جرأت و بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا۔‘
سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ان حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دوران کم از کم 10 سکیورٹی اہلکار جان کی بازی ہار گئے۔
تاہم اردو نیوز کو مختلف سرکاری حکام نے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے 10 سے زائد اضلاع میں ہونے والے ان حملوں میں 42 سویلین اور سکیورٹی اہلکاروں کی اموات کی تصدیق کی ہے۔
بلوچستان پولیس کے ایک سینیئر عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے حملوں میں پولیس کے 14 اہلکاروں اور ایک سکیورٹی اہلکار کی اموات کی تصدیق کی۔
انہوں نے بتایا کہ ’کوئٹہ میں 13 افسران اور اہلکار فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید جبکہ 18 زخمی ہوئے ہیں جبکہ ایک پولیس اہلکار قلات میں شہید ہوا ہے جبکہ ایک سکیورٹی اہلکار کی شہادت گوادر کے علاقے پسنی میں ہوئی ہے۔‘
27 شہریوں کی اموات کی بھی حکام نے تصدیق کی ہے جن میں 12 گوادر، سات کوئٹہ، سات خاران اور ایک کیچ میں رپورٹ ہوئی ہے جبکہ ان حملوں میں 50 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
بلوچستان میں بڑے پیمانے پر ہونے والے ان حملوں کی ذمہ داری بلوچستان میں سرگرم کالعدم بلوچ علیحدگی پسند مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے جس نے ان کارروائیوں کو ’ہیروف 2‘ کا نام دیا ہے۔
یہ کالعدم تنظیم تنظیم اس سے قبل اگست 2024 میں بھی اسی نوعیت کے درجنوں منظم حملے بیک وقت کر چکی ہے جس میں 50 سے زائد افراد کی اموات ہوئی تھی۔ تاہم کوئٹہ میں بی ایل اے کی جانب سے یہ اپنی نوعیت کا پہلا بڑا حملہ ہے جس میں شہر کے مختلف علاقوں میں حساس مقامات کو بیک وقت نشانہ بنایا گیا۔
حکام کے مطابق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں حملوں کا آغاز سنیچر کی صبح قریباً چھ بجے ہوا۔ درجنوں مسلح افراد نے بیک وقت شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس تھانوں، ایف سی کے ناکوں اور سکیورٹی چوکیوں پر حملے کیے۔ شہر کے بلوچ اکثریتی علاقوں خصوصاً سریاب روڈ، میاں غنڈی، مستونگ روڈ اور سریاب کسٹم میں رہائشی دھماکوں اور فائرنگ کی آوازوں سے جاگ اٹھے۔
ابتدائی حملوں کے بعد کارروائیوں کا دائرہ شہر کے حساس علاقوں تک پھیل گیا۔ زرغون روڈ، ریڈ زون کے اطراف اور ریلوے اسٹیشن کے قریب مسلح افراد کو بھاری اسلحے کے ساتھ دیکھا گیا جہاں پولیس، ایف سی اہلکاروں اور حملہ آوروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ وائٹ روڈ، جمالی روڈ اور ملحقہ علاقوں میں بھی فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔ مسلح افراد نے مختلف عمارتوں کی چھتوں پر مورچے سنبھال کر سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔
سریاب تھانے پر فائرنگ کے علاوہ تھانے کے قریب گشت کرنے والی پولیس موبائل کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں گاڑی میں آگ لگ گئی اور اس میں سوار دو اہلکار موقعے پر ہی دم توڑ گئے ۔
شہر میں بگڑتی صورتحال کے پیش نظر کوئٹہ چھاؤنی اور ریڈ زون جہاں گورنر ہاؤس، وزیراعلیٰ ہاؤس، سول سیکریٹریٹ اور دیگر اہم سرکاری دفاتر واقع ہیں، جانے والے تمام راستے سیل کر دیے گئے اور سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی۔
ساڑھے نو بجے کے قریب زرغون روڈ پر ہاکی چوک کے مقام پر گورنر اور وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب جانے والے راستے پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی گئی۔ اس دھماکے میں متعدد اہلکار جان سے گئے۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ قریبی عمارتوں کے علاوہ ایک کلومیٹر سے زائد فاصلے پر واقع عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ سول سیکریٹریٹ، سول ہسپتال اور دیگر کئی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا جبکہ شہر میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ دھماکے کا دھواں دور دور تک نظر آتا رہا۔
ایک نجی سکیورٹی کمپنی کے عہدے دار کے مطابق مسلح افراد نے ایک نجی اسکول میں داخل ہو کر پناہ لینے کی کوشش کی تاہم سکیورٹی گارڈ کے دروازہ بند رکھنے پر وہ قریبی عمارت کی چھت پر چڑھ کر مورچہ بند ہو گئے۔
اس دوران سریاب روڈ، دکانی بابا چوک، بلوچستان یونیورسٹی کے سامنے، جنگل باغ اور سبزل روڈ پر بھی مسلح افراد سڑکوں پر نظر آئے جہاں وہ شہریوں کو روک کر ان کی شناخت کرتے رہے۔
مشرقی بائی پاس کے علاقے میں مسلح افراد کے ایک بڑے گروہ نے پولیس تھانہ خالق شہید اور نیو پولیس لائن پر حملہ کر کے اندر داخل ہو کر سرکاری ریکارڈ اور سامان کو آگ لگا دی۔
حملے کے وقت سڑک پر شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مسلح افراد کے انخلا کے بعد ہجوم تھانے میں داخل ہو گیا اور وہاں موجود موٹر سائیکلیں اور دیگر سامان لوٹ لیا۔
ایک پولیس اہلکار کے مطابق مشرقی بائی پاس پر واقع تھانے پر حملے کے دوران مسلح افراد کی جانب سے داغا گیا راکٹ کا گولہ ایک گھر پر گرا جس سے گھر میں موجود متعدد افراد نشانہ بن گئے ۔
اسی دوران سریاب روڈ پر واقع پولیس تھانہ نیو سریاب اور اس سے متصل پولیس ٹریننگ کالج اور اے ٹی ایف کمپلیکس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ مسلح افراد نے راکٹ لانچر، دستی بم اور خودکار ہتھیاروں کا استعمال کیا جس سے عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
صبح قریباً آٹھ بجے مسلح افراد نے پولیس تھانہ شالکوٹ پر بھی حملہ کیا جہاں پولیس اہلکاروں نے شدید مزاحمت کی۔ شالکوٹ تھانے کے قریب واقع ہزار گنجی کے علاقے میں مسلح افراد کی بڑی تعداد دیکھی گئی جنہوں نے پانچ سرکاری و نجی بینکوں پر فائرنگ اور راکٹ حملے کیے۔
ایک سکیورٹی کمپنی کے عہدے دار کے مطابق مسلح افراد نے ایک بینک کے لاکر توڑنے کی کوشش کی تاہم ناکامی پر فائرنگ کر کے نقصان پہنچایا۔
مجموعی طور پر پانچ بینکوں فیصل بینک، میزان بینک، نیشنل بینک، بینک اسلامی اور بینک الفلاح کو نشانہ بنایا گیا۔
مسلح افراد کے جانے کے بعد شہریوں کے ہجوم نے بینکوں میں داخل ہو کر فرنیچر، جنریٹر اور دیگر سامان لوٹ لیا تاہم لاکرز میں موجود رقم محفوظ رہی۔
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے ہزارگنجی کی سبزی اور فروٹ منڈی میں موجود بیوپاریوں سے اسلحے کے زور پر بھاری رقوم بھی چھینیں۔
سول ہسپتال کوئٹہ کے ایک ڈاکٹر نے تصدیق کی ہے کہ ہسپتال میں کل 24 لاشیں لائی گئی ہیں جن میں 10 پولیس اہلکار جبکہ سات سویلین شامل ہیں جن کی لاشیں ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہیں جبکہ سات لاشیں نامعلوم ہیں جن کے بارے میں معلوم نہیں کہ وہ حملہ آور ہیں یا عام شہری۔
انہوں نے بتایا کہ سول ہسپتال میں مجموعی طور پر 43 زخمیوں کو لایا گیا جن میں پولیس اہلکار اور سویلین بھی شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق کوئٹہ میں فائرنگ اور دھماکوں میں جان کی بازی ہارنے والوں میں پولیس افسران ریڈ زون کے ڈی ایس پی میر فیصل یوسفزئی، انسپکٹر محمد زبیر اور اے ایس آئی محمودالرحمان بازئی بھی شامل ہیں۔ دیگر اہلکاروں کی شناخت حوالدار محمد اکرم، حوالدار بشیر احمد، غنی خان، محمد اشرف مندوخیل، محمد عادل اور شہزاد خان کے نام سے ہوئی۔
پولیس کے مطابق حملوں میں ایس پی انویسٹی گیشن سریاب ڈویژن شفقت جنجوعہ اور اے ایس آئی محمد نعیم سمیت 18 اہلکار زخمی ہوئے۔ زخمیوں اور لاشوں کو سول ہسپتال، بولان میڈیکل ہسپتال اور سی ایم ایچ منتقل کیا گیا۔
کوئٹہ میں شدید فائرنگ اور دھماکوں کے باعث شہر بھر میں خوف و ہراس پھیل گیا اور شہری گھروں، دکانوں، دفاتر اور ہسپتالوں میں محصور ہو کر رہ گئے۔
سول ہسپتال میں موجود ایک شہری عبداللہ نے بتایا کہ ہسپتال اور اطراف میں فائرنگ کی آوازوں کے باعث پولیس نے دروازے بند کر دیے۔
سول ہسپتال کے ڈاکٹر روح اللہ نے بتایا کہ دھماکے سے مختلف وارڈز اور ہاسٹلز کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور مریض و عملہ کئی گھنٹے اندر محصور رہا۔
اس صورتحال کے باعث جناح روڈ، ڈبل روڈ، پرنس روڈ اور منان چوک سمیت شہر کے دیگر مرکزی علاقوں میں دکانیں اور بازار بند رہے اور سڑکیں سنسان دکھائی دیں۔
کوئٹہ کی فضاؤں میں ہیلی کاپٹروں کی مسلسل پرواز جاری رہی جبکہ سکیورٹی فورسز نے مختلف علاقوں میں جوابی کارروائیاں کیں۔
سی ٹی ڈی کے مطابق ’سریاب روڈ پر فیض آباد کے قریب ایک کارروائی میں چار دہشت گرد مارے گئے۔‘ دیگر علاقوں میں بھی پولیس، سی ٹی ڈی، اے ٹی ایف، ایف سی اور سکیورٹی اداروں کی جھڑپوں میں مزید حملہ آوروں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔
فائرنگ اور دھماکوں کی زد میں آ کر کوئٹہ میں کم از کم چار شہری بھی ہلاک ہوئے۔
سول ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے تصدیق کی کہ چار لاشیں لائی گئیں جن کی شناخت کوئٹہ کے رہائشی یار خان لہڑی، ثناء اللہ خلجی، محمد حنیف خلجی اور محمد حنیف کے نام سے ہوئی۔ اس کے علاوہ کوئٹہ کے مختلف ہسپتالوں میں 20 سے زائد سویلین زخمیوں کو بھی لایا گیا۔
کوئٹہ کے علاوہ بلوچستان کے دیگر اضلاع مستونگ، قلات، نوشکی، چاغی، خضدار، خاران، کیچ، گوادر، لسبیلہ اور کچھی میں بھی مسلح افراد کی جانب سے حملے کیے گئے۔
یہ خبر اپ ڈیٹ کی جا رہی ہے۔۔۔