سعودی خواتین مردوں کی نسبت کہیں زیادہ ذمہ دار

سعودی ماہر اقتصادیات راشد الفوزان نے کہا ہے کہ سعودی خواتین ہم وطن نوجوانوں سے کہیں زیادہ ڈسپلن کی پابند ہیں ۔ ڈیوٹی زیادہ توجہ سے کرتی ہیں ۔ مملکت میں خواتین کو ملازمت فراہم کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے ۔ 
الفوزان نے روتانا خلیجیہ کے خصوصی پروگرام ’اللیوان ‘ میں بہ حیثیت مہمان متعدد سوالات کے جواب دیتے ہوئے توجہ دلائی کہ سعودی خواتین محنتی ہیں ،ڈیوٹی کی پابند ہیں ۔ آئندہ 5برسوں کے دوران بہت سارے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو جائیں گی ۔ خواتین کا امتیازی وصف یہ ہے کہ وہ نہ تو بھاری تنخواہ طلب کر رہی ہیں اور نہ ہی ملازمت کے سلسلے میں شرائط پیش کر رہی ہیں ۔ خواتین اپنے آپ کو منوانے کے جذبے سے بھی ملازمت میں لگی ہوئی ہیں ۔
الفوزان نے سعودی نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ کسی بھی پیشے سے اجتناب نہ کریں۔ سرکاری ملازمت کے چکر میں نہ پڑیں۔ مملکت میں سعودیوں کی بیروزگاری کے اعداد و شمار حقیقت پر مبنی نہیں ۔ وژن 2030ء کے ماحول میں نجی ادارے ہم وطنوں کے لیے روزگار کے دروازے کھولے ہوئے ہیں۔
الفوزان نے توجہ دلائی کہ سعودی شہریوں نے ابھی تک سپورٹس انوسٹمنٹ میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ سعودی کلبز میں سرمایہ کاری کے بڑے امکانات ہیں ۔ خواتین اسٹیڈیمز میں کثیر تعداد میں شرکت کرنے لگی ہیں ۔ سپورٹس انوسٹمنٹ کے لیے بھاری بنیادی ڈھانچے اور متعلقہ قانون کے اجرا کی ضرورت ہے ۔ 
سعودی لیبر مارکیٹ میں 90لاکھ غیر ملکی ملازم
الفوزان نے اطمینان دلایا کہ مملکت میں غیر ملکی کارکنان کا تناسب معقول ہے ۔ سعودی لیبر مارکیٹ میں 90لاکھ غیر ملکی ملازم ہیں ان میں سے 60لاکھ ایسے ہیں جن کی تنخواہیں 3ہزار سے زیادہ نہیں ۔غیر ملکی جس اسامیوں پر کام کر رہے ہیں وہ سعودیوں کی امنگوں سے بہت کم ہیں ۔ سعودی ماہر اقتصاد نے بتایا کہ سعودی خاندانوں میں بچت کی شرح 6فیصد سے زیادہ نہیں ۔ سعودی حد سے زیادہ خرچ کر رہے ہیں ۔ جائیدادوں کی قیمتیں مزید کم نہیں ہوں گی۔جو شخص بھی مکان خرید سکتا ہو اسے مکان خرید لینا چاہئے ۔ 

شیئر: