یمن: بحالی کی کوششوں میں سرگرم پہلی سعودی خاتون

یمن میں عوام کی فلاح و بہبود کے لیے جہاں ایک طرف سعودی حکومت پیش پیش ہے وہاں سرکردہ عوامی شخصیات بھی بحالی اور تعمیر نو کے عمل میں  آگے آگے ہیں۔
ان میں سے ایک سعودی عرب سے تعلق رکھنےوالی سماجی کارکن اور ماہر تعلیم رندہ الھذلی کی یمن میں تعمیر نو اور بحالی کی سرگرمیوں کی خبریں اس وقت میڈیا کی توجہ کا مرکز ہیں۔
العربیہ ٹی وی چینل کےمطابق الھذلی اقوام متحدہ کی فیڈرل فرینڈشپ آرگنائزیشن برائے سال 2019ء کی رکن اور یمن میں تعمیر نو اور بحالی کے سعودی پروگرام  برائے تعلقات عامہ کے ڈاریکٹر کے عہدے پر تعینات ہیں۔

 وہ گذشتہ کچھ عرصےسے یمن میں جنگ سے متاثرہ بچوں اور خواتین کی بحالی کے لیے سرگرم ہیں۔
رندہ الھذلی نے کہا کہ ’یمن کے سفر کے دوران میری سب سے زیادہ توجہ جنگ زدہ علاقوں میں بچوں‌ کی تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنا تھا۔ میں‌ نے یمن کےسفر کےدوران ایک لمحہ ضائع کیے بغیر متاثرہ علاقوں میں خواتین کی بہبود اور بچوں کی تعلیم کی بحالی کے لیے کام کیا۔‘
 ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میرے لیے خوشی اور فخرکی بات یہ ہے کہ ایک سعودی خاتون کی حیثیت سے میں نے یمن میں بحالی امید آپریشن کی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔

یمن میں اپنے تجربات کے بارے میں بات کرتےہوئے رندہ الھذلی نے خادم الحرمین الشریفین اور ولی عہد پر زوردیا کہ وہ یمن میں خواتین کی بہبود اوربحالی کےلیے تمام شعبوں میں‌بھرپور تعاون کریں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک سعودی عورت کی حیثیت سےمیں‌نے یہ محسوس کیا کہ یمن میں خواتین کو سعودی عرب پربہت زیادہ اعتماد ہے۔یمن میں خواتین کے روشن مستقبل اوران کی تعمیرو ترقی میں سعودی عرب اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
 انہوں‌نے کہاکہ سعودی عرب کے ویژن 2030ء میں بھی نئی نسل کی عصری تقاضوں کے تحت تعلیم وتربیت شامل ہے۔ انہوں‌ نے یمن کےسفر میں اپنی پیشہ وارانہ کامیابیوں میں تعاون پر حکومت کاخصوصی شکریہ ادا کیا۔

شیئر: