بلوچستان کے سرکاری حکام کے مطابق صوبے میں شدت پسندوں کی جانب سے اہم سرکاری عمارتوں اور جیلوں پر ہونےوالے حملوں کے دوران جیلوں سے فرار ہونے والے درجنوں قیدیوں میں بلوچستان ہائی کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت کے سابق چیف جسٹس جج محمد نور مسکانزئی کے قتل کے الزام میں گرفتار دو خطرناک قیدی بھی شامل ہیں۔
حکام نے اردو نیوز کو بتایا کہ 31 جنوری کو بلوچستان کے دس سے زائد اضلاع میں ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر کے گھروں، دفاتر ، پولیس تھانوں،سکیورٹی فورسز کے کیمپوں سمیت اہم سرکاری عمارتوں پر کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے حملے کیے گئے جبکہ نوشکی اور مستونگ کی جیلوں پر بھی حملہ کرکے انہیں توڑا گیا اور وہاں موجود تمام قیدیوں کو فرار کرایا گیا۔
حکام کے مطابق حملہ آور فائرنگ کرکے جیل کے سپرنٹنڈنٹ ایس پی کاشف زمان اور ایک اہلکار کو زخمی کرنے کے بعد جیل کے اندر داخل ہوئے، عملے کو یرغمال بنایا، تالے توڑ کر قیدیوں کو فرار کرایا اور بعد ازاں جیل کو آگ لگا دی۔اسی روز مستونگ میں بھی جیل پر حملہ کیا گیا جہاں سے قیدی فرار ہوئے۔
مزید پڑھیں
-

بلوچستان: محمد نور مسکانزئی کو کیوں قتل کیا گیا؟
Node ID: 709421
-

-

محکمہ جیل خانہ جات کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ نوشکی جیل سے 35 جبکہ مستونگ جیل سے 27 قیدی فرار ہوئے جن میں دہشتگردی، قتل، اقدامِ قتل، منشیات، اغوا برائے تاوان اور دیگر جرائم میں گرفتار انڈر ٹرائل اور سزا یافتہ قیدی شامل ہیں۔ مستونگ پولیس کے مطابق مستونگ میں پولیس تھانوں پر حملوں کے دوران پولیس حوالات سے بھی تین قیدی فرار ہوئے۔
بلوچستان پراسکیوشن ڈیپارٹمنٹ کے ایک سینیئر افسر نے تصدیق کی ہے کہ نوشکی جیل سے فرار ہونے والوں میں دو خطرناک قیدی شفقت اللہ اور حجاب الرحمان بھی شامل ہیں جنہیں اکتوبر 2022 میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے سابق چیف جسٹس محمد نور مسکانزئی کے قتل سمیت دہشتگردی کے دیگر مقدمات میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
افسر کے مطابق دونوں کو انتہائی خطرناک قیدی قرار دیا گیا تھا جس کے باعث ان کا ٹرائل کھلی عدالت کے بجائے نوشکی جیل کے اندر ہی جاری تھا اور متعلقہ جج جیل جا کر سماعت کرتا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں ملزمان سابق چیف جسٹس کے قتل کے علاوہ خاران میں پولیس تھانوں پر بم حملے، دستی بم حملے اور اسلحہ برآمدگی جیسے مقدمات میں بھی نامزد تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق چیف جسٹس کے قتل کا مقدمہ آخری مراحل میں تھا اور عدالت کی جانب سے جلد فیصلے کا امکان تھا۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے ذرائع کے مطابق مستونگ اور نوشکی کی جیلوں سے قیدیوں کے فرار کے معاملے کی تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا گیا-
اس سلسلے میں انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو سیکیورٹی میں ممکنہ غفلت اور حملوں کی نوعیت کا جائزہ لے کر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کرے گی۔
دوسری جانب صوبے بھر کی جیلوں خاص کر ضلع کچھی( بولان) کے پہاڑی علاقے مچھ میں واقع صوبے کی سب سے بڑی جیل کی سیکیورٹی کو سخت کر دیا گیا ہے۔پولیس اور ایف سی کی اضافی نفری بھی تعینات کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق تمام جیلوں کے سیکیورٹی انتظامات کا ازسرِنو جائزہ لیا جا رہا ہے، داخلی و خارجی راستوں پر کڑی نگرانی اور اضافی چوکیاں قائم کی جارہی ہیں۔

جیل ذرائع کے مطابق نوشکی سے فرار ہونے والے دیگر قیدیوں میں کم از کم تین قتل کے مقدمات اور پانچ سے زائد منشیات کے مقدمات میں گرفتار افراد بھی شامل ہیں۔ ایک قیدی ایسا بھی ہے جو پہلے منشیات کے کیس میں گرفتار ہوا، بعد ازاں ضمانت پر رہا ہو کر فرار ہوگیا تھا پھر اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں دوبارہ گرفتار ہوا اور اب دوسری مرتبہ جیل سے فرار ہوگیا۔
محکمہ جیل خانہ جات کے افسر نے مزید بتایا کہ حالات اس قدر سنگین تھے کہ وہ قیدی بھی جیل سے نکلنے پر مجبور ہو گئے جو شاید فرار نہیں ہونا چاہتے تھے یا سزا اور اپنے مقدمات کا سامنا کرنا چاہتے تھے۔
ان کے مطابق حملہ آوروں نے پوری جیل خالی کرائی اور اسے آگ لگا دی جبکہ شہر میں پولیس کی موجودگی نہ ہونے کے برابر تھی اور لوگ گھروں میں محصور تھے۔ پولیس تھانے بھی نذر آتش کیے گئے۔
ایف سی اور دیگر سکیورٹی اداروں کے دفاتر بھی مسلسل حملوں کی زد میں تھے۔ راستے بند ہونے کے باعث زخمی افسران اور اہلکاروں کو اب تک کوئٹہ بھی منتقل نہیں کیا جا سکا۔
افسر کا کہنا تھا کہ تین دن تک نوشکی شہر کا محاصرہ رہا اور سکیورٹی فورسز کی ترجیح اہم سرکاری تنصیبات کا دفاع اور شہریوں کی حفاظت تھی اسی لیے مفرور قیدیوں کی گرفتاری کا عمل فوری طور پر شروع نہیں ہوسکا یا جو بعض قیدی خود کو پیش کرنا چاہتے تھے لیکن صورت حال کے باعث وہ بھی ایسا نہ کر سکے۔

اب سکیورٹی فورسز نے شہر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور دہشتگردوں کے تعاقب کے لیے جاری آپریشن کے دوران فرار ہونے والے قیدیوں کی تلاش بھی کی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور وفاقی شرعی عدالت کے سابق جج جسٹس محمد نور مسکانزئی کو 14 اکتوبر 2022 کو ان کے آبائی ضلع خاران میں اس وقت قتل کیا گیا تھا جب وہ مسجد میں نمازِ عشاء ادا کر رہے تھے۔ ان کے قتل کی ذمہ داری بعد ازاں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے آزاد گروپ نے قبول کی تھی۔ تنظیم کے ترجمان نے قتل کی وجہ توتک کمیشن کے فیصلے کو قرار دیا تھا۔
نور محمد مسکانزئی دسمبر 2014 سے اگست 2018 تک بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہے۔ وہ مئی 2019 میں فیڈرل شریعت کورٹ کے چیف جسٹس بنے اور اپنے قتل سے چند ماہ قبل ریٹائرڈ ہوئے۔
نور محمد مسکانزئی بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے توتک سے جنوری 2014 میں دریافت ہونے والی اجتماعی قبر کی تحقیقات کے لیے قائم عدالتی کمیشن کے سربراہ بھی رہے۔ اس عدالتی کمیشن نے اپنے فیصلے میں واقعہ میں سکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ملوث ہونے کے امکان کو مسترد کیا تھا۔
کمیشن کے فیصلے پر لاپتہ افراد کے لواحقین کی تنظیم سمیت بلوچ قوم پرست تنظیموں کی جانب سے تنقید کی گئی تھی۔










