’پاکستان کے لیے چھ ارب ڈالر کا پیکج‘

عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کی مذاکراتی ٹیم اور پاکستانی حکام کے درمیان بیل آؤٹ پیکج پر معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت پاکستان کو تین سال میں چھ ارب ڈالر کا قرض دیا جائے گا تاہم اس معاہدے کی حتمی منظوری ادارے کا ایگزیکٹو بورڈ دے گا ۔
آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر جاری بیان کے مطابق کہ مذاکراتی ٹیم کی سطح پر پاکستان کے ساتھ معاشی پالیسوں کے حوالے سے تین سال کے لیے قرض کی سہولت پر معاہدہ ہوا ہے۔
دوسری طرف پاکستان کے وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے بھی سرکاری ٹی وی پاکستان ٹیلی ویژن کو دئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں آئی ایم ایف سے معاہدے کی تصدبق کی۔
پی ٹی وی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام سے سٹرکچرل ریفارمز کا موقع ملے گا۔
آئی ایم ایف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 'ایکسٹنڈد فنڈ فسیلٹی'  معاہدے کا مقصد حکام  (پاکستانی) کی  اندرونی اور بیرونی عدم توازن کو کم کرکے، معاشی نمو کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرے، شفافیت میں اضافہ کرے اور سوشل سیکٹر پر خرچے میں اضافہ کرکے زیادہ مضبوط  شرخ نمو حاصل کرنے کی سٹریٹیجی کو سپورٹ کر نا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکام کی درخواست پر آئی ایم ایف کا مشن آرنسٹو رمریز ریگو کی سربراہی میں 29 اپریل سے 11 مئی تک حکومت کے ریفارمز  پرورگرام کے لیے آئی ایم ایف کی امداد کے حوالے سے پاکستان کا دورہ کیا۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ 'پاکستانی حکام اور ائی ایم ایف کی ٹیم ایک سٹاف لیول کے معاہدے پر متفق ہو گئے جس کے لیے 39 مہینوں پر مشتمل چھ بلین ڈالر مالیت کے 'ایکسٹنڈد فنڈ ایگریمنٹ' ہو سکتا ہے۔'
فنڈ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدہ فنڈ کے منیجمنٹ اور ایگزیکٹیو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔
دوسری طرف مشیر خزانہ حفیط شیح نے اپنے پی ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ 3 سال کے عرصے میں 6 ارب ڈالر ملیں گے اس کے علاوہ ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) اور دیگر مالیاتی اداروں سے بھی 2 ارب ڈالر سے 3 ارب ڈالر ملیں گے۔
 
انہوں نے کہا کہ‘اگر 6 ارب ڈالر اور یہ اضافی 2 سے 3 ارب ڈالر کم سود پر ملیں گے تو ہمارے قرضے کی صورت حال میں قدرے بہتری آئے گی اور جو پروگرام ہم آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر کریں گے اس سے دنیا میں ایک اچھا پیغام جائے گا اور سرمایہ کار سمجھیں گے کہ پاکستان میں اصلاحات کیے جارہے ہیں’۔
حفیظ شیخ نے ملک میں مزید مہنگائی کا عندیہ دیتے ہوئے ا کہا کہ 300 یونٹ سے کم والے صارفین پر بجلی کی زائد قیمتوں کا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا جس کے لیے بجلی کی مد میں سبسڈی کے لیے 216 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر آئی ایم ایف پروگرام کو اصلاحات کے نقطہ نظر سے لیا گیا تو یہ آخری پیکج ہوگا۔
 

شیئر: