نیویارک میں اقوام متحدہ کے دفتر باہر ایک شخص نے خود سوزی کر لی: پولیس
انٹرنیشنل کیمپین فار تبت کے صدر تینچو گیاتسو نے اس شخص کی شناخت ’لوبگا رنگزن‘ کے طور پر کی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے باہر جمعرات کو ایک شخص نے خود کو آگ لگا لی اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں دم توڑ دیا۔
فرانسیسی نیز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکی میڈیا اور ایک پرو-تبت کارکن نے کہا کہ یہ شخص تبت کے حق میں مہم چلانے والا تھا، تاہم تحقیقات میں اس کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔
نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق کہ ’اطلاع ملی کہ ایک شخص نے فرسٹ ایونیو اور 42ویں سٹریٹ پر خود کو آگ لگا لی ہے۔ اسے بیلویو ہسپتال میں مردہ قرار دیا گیا۔ تحقیقات جاری ہیں۔‘
انٹرنیشنل کیمپین فار تبت کے صدر تینچو گیاتسو نے اس شخص کی شناخت ’لوبگا رنگزن‘ کے طور پر کی۔ انہوں نے کہا کہ ’لوبگا تبت کے ایک بے لوث حامی تھے، جنہوں نے پرامن طریقے سے انسانی حقوق کے بحران پر آواز بلند کی۔‘
گیاتسو کے مطابق رنگزن چین کے نئے ’قانون برائے نسلی اتحاد و ترقی‘ کے خلاف تھے، جسے بیجنگ نسلی گروہوں میں مشترکہ قومی شناخت بنانے کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔ بیرونِ ملک کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون اقلیتوں جیسے ایغور اور تبتیوں کے حقوق مزید کمزور کرے گا۔
اقوام متحدہ نے اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
یاد رہے کہ چین نے 1950 میں تبت میں فوج بھیجی تھی اور اسے اپنے ملک کا حصہ قرار دیا۔ تبتی روحانی پیشوا دلائی لاما 1959 میں بغاوت کچلے جانے کے بعد انڈیا منتقل ہو گئے تھے۔ ان کی ’مڈل وے‘ پالیسی عدم تشدد، مکالمے اور باہمی فائدے کے ذریعے مسئلہ حل کرنے پر زور دیتی ہے۔
