صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے علاقے کاہنہ میں 30 جون کو گھر میں قائم ایک نجی ٹیوشن سنٹر کی چھت منہدم ہونے کا واقعہ پیش آیا جس میں 14 بچوں کی موت ہوئی۔
اُردو نیوز کی ٹیم جب اس واقعے کے دوسرے روز کی کوریج کے لیے متاثرہ علاقے کے دورے پر گئی تو وہاں مختلف سرگرمیاں انجام دی جا رہی تھیں۔
فضا سرِدست سوگوار تھی۔ تعزیت کے لیے آنے والوں کا سلسلہ جاری تھا اور سیاسی رہنماؤں سمیت منتخب و غیر منتخب سیاست دانوں کی آمد بھی دیکھنے میں آئی جن کی تصاویر بھی بنائی جا رہی تھیں۔
مزید پڑھیں
جس گھر میں یہ سانحہ پیش آیا اسے سِیل کر دیا گیا ہے اور پولیس اہلکار دروازے پر تعینات ہیں۔ گھر کے سامنے لوگ ٹینٹ لگا کر بیٹھے ہوئے تھے جبکہ قریب ہی ایک اور گھر کے افراد بھی مجمع کی صورت میں بیٹھے دکھائی دیے جن کا ایک بچہ اسی واقعے میں جان سے گیا ہے۔
متاثرہ گھر کے آس پاس مختلف سرکاری محکموں کی گاڑیاں کھڑی تھیں اور سرکاری عملہ صفائی میں مصروف دکھائی دیا۔ لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی گاڑیاں گھر سے چند قدم کے فاصلے پر موجود پلاٹ سے پرانا ملبہ اٹھاتی رہیں۔
اردو نیوز نے موقع پر موجود منیجر سے استفسار کیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ ملبہ متاثرہ گھر کا نہیں بلکہ گزشتہ رات ہونے والی بارش کی وجہ سے جمع ہونے والے پانی کے بعد گراؤنڈ کی صفائی کی جا رہی ہے۔ یہاں سے ٹریکٹر ٹرالی کے ذریعے ملبہ نکالا جاتا رہا جبکہ ستھرا پنجاب کے ورکرز بھی صفائی کے عمل میں مصروف تھے۔

متاثرہ گھر ایک کشادہ گلی میں واقع ہے جس کے سامنے موجود ایک خالی پلاٹ گراؤنڈ کا منظر پیش کر رہا تھا جہاں لوگ تعزیت کے لیے موجود تھے۔
’جب یہ واقعہ ہوا تو اسی رات لائٹیں لگ گئیں‘
مقامی افراد کے مطابق واقعے سے قبل علاقے کی مرکزی سڑک پر کیچڑ اور گندگی کے ڈھیر لگے رہتے تھے تاہم اب صفائی جاری ہے اور کھمبوں پر نئی سٹریٹ لائٹس بھی نصب کی گئی ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ لائٹیں واقعے کے فوری بعد لگنا شروع ہوئیں۔
مقامی شہری ملک محمد ادریس نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ واقعہ جس روز ہوا، تو یہ سٹریٹ لائٹس بھی اُسی روز لگی ہیں۔ پہلے کبھی اس طرح کام نہیں ہوا۔ یہ سڑک تقریباً 10 سال سے ایسی ہی ہے۔ جب بھی مقامی رکنِ قومی یا صوبائی اسمبلی آتا ہے تو وہ استقبال کروا کر چلا جاتا ہے۔ وہ ہم سے کہتے ہیں کہ اگلے ہفتے کام ہوجائے گا لیکن کام کبھی نہیں ہوتا۔ ستھرا پنجاب کے ملازمین آتے ہیں لیکن وہ جھاڑو لگا کر چلے جاتے ہیں۔ گٹروں پر ڈھکن رکھے گئے ہیں جو پہلے کبھی نہیں رکھے گئے تھے۔ جن گٹروں کے ڈھکن نہیں تھے ان پر اس واقعے کے بعد ڈھکن رکھے گئے۔‘
ملک محمد ادریس کے مطابق اب بھی سٹریٹ لائٹس اس لیے نصب کی جا رہی ہیں کہ سیاست دانوں نے آنا ہے اور ان کے لیے ہی پورے محلے کی مرمت اور تزئین و آرائش جاری ہے۔
خالی پلاٹ کے ساتھ ہی ایک نجی سکول ہے جس کے سامنے والے گٹر پر بھی ڈھکن رکھا گیا ہے۔

مقامی افراد کے مطابق یہ ڈھکن ایک روز قبل ہی ایک رکشے کے ذریعے لایا گیا تھا۔ اس حوالے سے مقامی شہری سلطان خان نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ہمارے علاقے میں تو فی الحال نئی لائٹس لگ گئی ہیں۔ یہ بہت افسوس ناک واقعہ ہے لیکن اب جب یہ کام ہو رہا ہے یا گٹر پر ڈھکن رکھے جا رہے ہیں تو وہ بھی افسروں کو دکھانے کے لیے ہیں۔ کل ایک رکشے میں گٹر کے بہت سارے ڈھکن لائے گئے اور وہ رکشہ پورے محلے میں گھوم رہا تھا۔ جہاں جہاں ڈھکن نہیں تھے وہاں ڈھکن رکھے جا رہے تھے۔ جہاں یہ واقعہ ہوا ہے یہاں سے چند قدم پر ایک نجی سکول ہے جہاں کل ہی ڈھکن رکھا گیا۔‘
متاثرہ خاندان کی گلی میں سب سے زیادہ سرگرمی
قصور روڈ سے کاہنہ میں متاثرہ گھر کی جانب جانے والے داخلی راستے کی بھی مرمت کی گئی ہے جہاں تارکول کے پیچز لگائے گئے۔ اسی داخلی راستے کے قریب ایک دوسری گلی میں اس خاندان کا گھر واقع ہے جس کے تین بچے اس سانحے میں جان سے گئے۔ گزشتہ روز سب سے زیادہ تعمیراتی کام اسی گلی میں ہوا۔
سڑک کنارے فٹ پاتھ پر رنگ کیا جا رہا تھا جبکہ چند مزدور ریت اور سیمنٹ ملا کر مسالہ تیار کر رہے تھے جو گلی میں پیچز لگانے کے لیے استعمال ہونا تھا۔ اس گلی میں داخل ہوتے ہی مزید پیچز نظر آئے جبکہ چند ورکرز دیواروں پر لٹکتے بجلی کے میٹرز کو درست کرنے میں مصروف تھے تاکہ وہ بے ترتیب دکھائی نہ دیں۔ اسی مقام پر ایک گٹر کے ڈھکن کی مرمت بھی جاری تھی۔
وہاں موجود ایک شخص نے خود کو نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان (نیسپاک) کا ملازم ظاہر کرتے ہوئے ویڈیوز اور تصاویر نہ بنانے کی درخواست کی تاہم انہیں بتایا گیا کہ یہ تصاویر معلوماتی مقاصد کے لیے استعمال ہونی ہیں۔

ان کے مطابق ممکنہ طور پر وزیراعلیٰ پنجاب اسی گلی میں متاثرہ خاندان کے گھر کا دورہ کر سکتی ہیں اسی لیے یہ کام کیا جا رہا ہے۔
’سانحہ ہونے کے بعد کام یاد آگیا‘
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ سانحے سے قبل منتخب اراکین قومی و صوبائی اسمبلی بارہا آ کر یقین دہانی کرواتے رہے کہ اگلے ہفتے تک ترقیاتی کام مکمل ہو جائیں گے لیکن عملی طور پر کچھ نہیں ہوا۔ ایک شہری نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’اب جب یہ سانحہ رونما ہوا تو انہیں یہ سب یاد آ گیا۔‘












